اسلام آباد (نیوز ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بیرون ملک سے پاکستان لائے جانے والے موبائل فونز پر عائد سیلز ٹیکس کو اقساط میں ادا کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ذاتی استعمال کے لیے بیرون ملک سے موبائل فون لانے والے شہری اب متعلقہ سیلز ٹیکس یکمشت ادا کرنے کے بجائے مقررہ آسان اقساط میں جمع کرا سکیں گے۔ تاہم مالی سال ختم ہونے سے پہلے تمام واجب الادا ٹیکس کی مکمل ادائیگی ضروری ہوگی۔
اس حوالے سے ایف بی آر نے باقاعدہ سرکلر بھی جاری کردیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اقساط میں ٹیکس ادائیگی کی سہولت سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے نویں شیڈول میں ترمیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی ہے۔
نئے نظام کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ’ڈیربس‘ سسٹم کے ذریعے فعال کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت پی ٹی اے کی جانب سے موبائل فونز کے ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کے پروگرام کے اعلان کے تقریباً دو ماہ بعد سامنے آئی ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے جولائی 2019 میں مسافروں کے لیے موبائل فونز سے متعلق مفت سہولت ختم کردی تھی، جس کے بعد بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے مقامی موبائل نیٹ ورک پر فون استعمال کرنے کی غرض سے متعلقہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی تھی۔
ایف بی آر کی جانب سے نئی سہولت متعارف کرائے جانے کے بعد بیرون ملک سے موبائل فون پاکستان لانے والے شہریوں کو ٹیکس کی ادائیگی میں مزید مالی لچک حاصل ہوگی اور انہیں مکمل رقم ایک ساتھ جمع کرانے کے بجائے اقساط میں ادائیگی کا اختیار مل سکے گا۔



















































