بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ہفتہ وار 3 چھٹیاں؟ دفاتر اور تعلیمی اداروں کے لیے اہم تجویز زیر غور

datetime 16  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ملک میں پیٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم کرنے کے لیے ہفتے میں تین تعطیلات دینے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔

مجوزہ پلان کے تحت سرکاری و نجی اداروں اور تعلیمی مراکز کے ہفتہ وار کام کے شیڈول میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت توانائی اور ایندھن کے اخراجات میں کمی لانے کے لیے متعدد تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں چار روزہ ورکنگ ویک بھی شامل ہے۔ اس منصوبے پر اتفاق ہونے کی صورت میں دفاتر، اسکولز، کالجز اور جامعات کو موجودہ پانچ دن کے بجائے ہفتے میں صرف چار دن کھولنے کی تجویز ہے۔

حکام کے مطابق ہفتے میں تین چھٹیوں کا معاملہ تاحال حتمی مرحلے میں نہیں پہنچا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ مجوزہ شیڈول کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ سرکاری امور، کاروباری سرگرمیوں اور تعلیمی نظام کے تسلسل کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔

حکومت کا خیال ہے کہ چار روزہ ورکنگ ویک نافذ کرنے سے ایندھن کے استعمال میں کمی کے علاوہ بجلی، سرکاری گاڑیوں اور دیگر انتظامی اخراجات کو بھی محدود کیا جاسکتا ہے۔ یہ تجویز ملک میں توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی لاگت کے پیش نظر زیر غور لائی جارہی ہے۔

دوسری جانب شہریوں کو پیٹرول کی بلند قیمتوں سے کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے پیٹرول ریلیف اسکیم کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت مقرر کرنے کے موجودہ طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہفتہ وار تین تعطیلات کی تجویز پر پیش رفت کے لیے متعلقہ اداروں سے ورکنگ شیڈول بھی طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 15 ستمبر سے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 42 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ تازہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 380 روپے 24 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…