اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور سرکاری اخراجات کو محدود کرنے کے لیے حکومت نے ملک بھر میں چار روزہ ورکنگ ویک متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت سرکاری و نجی دفاتر کے علاوہ اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز بھی ہفتے میں صرف چار روز کام کریں گے، جبکہ تین دن اداروں میں معمول کی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث ہونے والے اخراجات کو کم کرنا اور سرکاری و ادارہ جاتی وسائل کی بچت کرنا ہے۔ 14 ستمبر 2026 کو ہونے والے اجلاس کے منٹس میں چار روزہ ورکنگ ویک اپنانے کا فیصلہ شامل کیا گیا ہے۔
نئے انتظام کے تحت ملازمین کے لیے مختلف دنوں میں ڈیوٹی کا شیڈول ترتیب دیا جاسکتا ہے، جبکہ بعض ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ذمہ داری بھی دی جائے گی۔ تاہم ملازمین کی حاضری اور ورکنگ ڈیز کا حتمی طریقہ کار متعلقہ محکمے طے کریں گے۔
ذرائع کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو نظرثانی شدہ شیڈول تیار کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں اور مزید احکامات کا انتظار کرنے کو کہا گیا ہے۔ حتمی سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نئے نظام سے متعلق تفصیلی ضابطہ کار بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔
حکومت کے مطابق چار روزہ ورکنگ ویک کے ذریعے ایندھن، بجلی اور دیگر انتظامی اخراجات میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے اور قومی سطح پر توانائی و مالی وسائل کی بچت کی کوشش کی جائے گی۔



















































