کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘
وہ جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو (Hokkaido) کے گائوں کیوشی راتاکی (Kyu-Shirataki) میں رہتی تھی‘ کیوشی راتاکی ٹرین کا آخری سٹاپ تھا‘ ہوکائیڈو روس کے قریب ہے لہٰذا اس میں سردیوں میں شدید برف باری ہوتی ہے‘ 2015ء کی سردیوں میں اس سٹیشن سے مسافر ختم ہوگئے‘ زیادہ تر آبادی روزگار کے لیے قریب کے شہروں میں شفٹ ہو چکی تھی‘ صرف کانا ہراڈا کا خاندان پیچھے رہ گیا تھا‘ وہ روزانہ ٹرین سے سکول جاتی اور اسی ٹرین سے گھر واپس آتی تھی‘ ٹرین کمپنی نے 2015ء میں کیوشی راتاکی سٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ آخری ٹرین کا اعلان کر دیا گیا‘ یہ خبر کانا ہراڈا کے لیے خوف ناک تھی‘ اسے محسوس ہوا وہ اب تعلیم جاری نہیں رکھ سکے گی‘ وہ آخری مرتبہ سکول گئی‘ اپنی کلاس فیلوز کو الوداع کہا اور اپنے اساتذہ سے آخری ملاقات شروع کر دی‘ یہ خبر پرنسپل تک پہنچی تو وہ پریشان ہو گیا‘ اس نے فوری طور پر لوکل میڈیا کو کانا کی کہانی بھجوا دی‘ رپورٹرز نے اگلے دن کانا ہراڈا کی کہانی اخبار میں شائع کر دی‘ سٹوری کے آخر میں یہ سوال درج تھا کیا کانا اب تعلیم جاری نہیں رکھ سکے گی؟ یہ آرٹیکل ٹرین کمپنی تک پہنچا تو کمپنی کے سی ای او نے فیصلہ کیا جب تک کانا کی ہائی سکول کی تعلیم مکمل نہیں ہوتی اس وقت تک کیوشی راتاکی کا سٹیشن اور ٹرین بند نہیں ہو گی‘ یہ صرف اس کے لیے آئے گی اور اسے واپس بھی چھوڑ کر جائے گی‘ یہ سلسلہ یکم مارچ 2016ء تک جاری رہا‘ یکم مارچ کو کانا کے سکول کا آخری دن تھا‘ اس نے ہائی سکول کی ڈگری لی اور اس کے بعد ٹرین نے آخری مرتبہ کیوشی راتاکی سٹیشن پر ہارن بجایا اور سٹیشن ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیالیکن آپ جاپانی معاشرے کا کمال دیکھیں‘ ٹرین کمپنی انتہائی سردی اور شدید برف باری میں صرف ایک لڑکی کے لیے روزانہ اس دور دراز علاقے میں ٹرین بھجواتی رہی‘ صرف ایک مسافر کے لیے‘ کانا نے اس کے بعد میڈیکل یونیورسٹی جوائن کی‘ نرسنگ کا کورس کیا اور یہ ہوکائیڈو شہر میں کام کرنے لگی‘ اس کی عمر اس وقت 28سال ہے اور یہ ایک پرائیویٹ زندگی گزاری رہی ہے‘ ٹرین کمپنی ڈیڑھ سال صرف اس کے لیے ہر ماہ ہزاروں ڈالر کا نقصان برداشت کرتی رہی‘ یہ سٹوری 2016ء میں اچانک وائرل ہوئی اور اسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا‘ سنا اور پڑھا اور ’’جے آر ہو کائیڈو‘‘ ٹرین کمپنی کی کھل کر تعریف کی‘ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا‘ یہ سٹوری آج بھی پڑھی اور سنی جاتی ہے اور شاید اس وقت تک دہرائی جاتی رہے جب تک لوگ تعلیم‘ انسانیت اور جاپانی معاشرے کی خوب صورتیوں کا ذکر کرتے رہیں گے۔
آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کانا ہراڈا کی کہانی دراصل ہمارے کالم ’’زیرو پوائنٹ‘‘کی کہانی ہے‘ میں نے 1987ء میں صحافی بننے کا فیصلہ کیا تھا‘ میں اس وقت ایف سی کالج لاہور میں پڑھتا تھا‘ ہمارے کالج میں اچانک صحافت کا شعبہ کھل گیا‘ ملک کے مشہور صحافی واصف ناگی صاحب اس شعبے کے سربراہ بن گئے‘ میں اس وقت بی اے کا طالب علم تھا‘ میں نے اپنے مضامین تبدیل کیے اور صحافت پڑھنا شروع کر دی‘ میں ایف سی کالج کی صحافت کی پہلی کلاس کا پہلا طالب علم تھا‘ واصف ناگی صاحب کمال استاد تھے‘ ان کا حافظہ حیران کن تھا‘ وہ نوٹس دیکھے بغیر پورا پورا چیپٹر زبانی دہرا دیتے تھے‘ بی اے کے بعد میں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں داخلہ لے لیا‘ وہاں بھی ایم اے صحافت کی پہلی کلاس تھی‘ بہاول پور جانے کی بے شمار وجوہات میں سے ایک وجہ اس شہر کا کلچر تھا‘ یہ ہر لحاظ سے مختلف شہر تھا‘ بہرحال قصہ مختصر میں نے ایم اے صحافت کیا‘ گولڈ میڈل لیا اور سیدھا عملی صحافت میں آ گیا‘ اس زمانے میں صحافیوں کے حالات اچھے نہیں ہوتے تھے‘ معاشرے میں ان کی کوئی عزت نہیں تھی‘ تنخواہ بھی بہت کم ہوتی تھی‘ میں 18 سو روپے ماہانہ کے کمرے میں رہتا تھا جب کہ میری تنخواہ 14 سو روپے تھی اور یہ کوئی 1910ء کا زمانہ نہیں تھا‘ یہ 1992ء تھا چناں چہ مجھے اخراجات پورے کرنے کے لیے دوسری نوکری کرنا پڑی‘ میں صبح جاوید چودھری کے نام سے نوائے وقت میں کام کرتا تھا اور شام کے وقت مون ڈائجسٹ میں یورش چودھری کے نام سے مضمون لکھتا تھا‘ مجھے اس زمانے میں معلوم ہوا صحافت کا مغز کالم ہے‘ میں اگر کالم نگار بن جائوں تو مجھے معاوضہ بھی اچھا ملے گا‘مجھے دفتر بھی نہیں آنا پڑے گا اور عزت بھی ہو گی چناں چہ میں نے کالم نگار بننے کا فیصلہ کر لیا‘
مجھے اس زمانے میں گرو رجنیش (اوشو) کا ایک فقرہ پڑھنے کا موقع ملا‘ اوشو کا کہنا تھا‘ زندگی میں اگر کام یاب ہونا چاہتے ہو تو امیر بنو‘ امیر نہیں بن سکتے تو پرکشش (اٹریکٹو) بنو‘ اٹریکٹو نہیں بن سکتے تو انٹیلی جینٹ بنو‘ انٹیلی جینٹ نہیں بن سکتے تو کانفیڈنٹ بنو اور اگر کانفیڈنٹ نہیں بن سکتے تو ڈسپلنڈ بنو‘ ڈسپلن قدرت نے انسان کو وہ آخری تحفہ دیا ہے جس سے یہ اپنی زندگی بدل سکتا ہے‘ میں نے اوشو کا یہ فقرہ 1993ء میں پڑھا تھا‘ مجھ میں اس وقت تک ان پانچ میں سے کوئی خوبی موجود نہیں تھی‘ میں نے سوچا کیا کوئی شخص یہ پانچ کی پانچ خوبیاں بیک وقت پیدا کر سکتا ہے‘ مجھے اس سوال کا جواب نہیں ملا لیکن میں نے اپنے اوپر کام شروع کر دیا‘ میرے والد امیر تھے لیکن میں اس وقت تک غریب تھا‘ ڈیڑھ مرلے کے گھر میں رہتا تھا اور پرانی موٹر سائیکل چلاتا تھا‘ میں پرکشش‘ انٹیلی جینٹ‘ کانفیڈنٹ اور ڈسپلنڈ بھی نہیں تھا‘ میں نے سوچا کوشش کر کے دیکھتے ہیں اگر کام یاب ہو گیا تو ست بسم اللہ ورنہ کم از کم کوشش کرنے کی کھرک تو ختم ہو جائے گی لہٰذا میں نے کام شروع کر دیا۔میں صدیوں کا نالائق آدمی ہوں‘ کلچرلی (ثقافتی) بھی کم زور تھا‘ مجھے بے تحاشا محنت کرنا پڑی تاہم اللہ نے کرم کیا اور حالات ٹھیک ہوتے چلے گئے‘ میں روز کالم کی پریکٹس کرتا تھا‘ رات کے وقت مختلف کام یاب اور بڑے کالم نگاروں کے اسلوب میں کالم لکھتا تھا‘ صبح اٹھ کر ان کے کالم پڑھتا تھا اور پھر اپنا کالم ان کے ساتھ کمپیئر کر کے پھاڑ کر پھینک دیتا تھا‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں میں مسلسل چار سال یہ پریکٹس کرتا رہا‘ اس دوران کسی دن گیپ نہیں آیا‘ میرا پہلا کالم 1996ء میں شائع ہوا‘ وہ بظاہر پہلا کالم تھا لیکن اس کے پیچھے وہ ہزاروں کتابیں تھیں جو میں بچپن سے آنا لائبریری سے کرائے پر لے کر پڑھتا رہا تھا اور وہ چار سال کی ریاضت تھی جو میں مختلف کالم نگاروں کے اسلوب کی نقل کر کے کرتا رہا تھا بہرحال اللہ تعالیٰ نے میرا ہاتھ پکڑلیا‘ میں نے 1996ء میں کالم شروع کیا اور مجھے 1997ء میں بیسٹ کالمسٹ کا ایوارڈ مل گیا‘ میری عمر اس وقت بمشکل 29 سال تھی یوں میں عین جوانی میں مشہور ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ نے آنے والے دنوں میں مجھے کالم کے ذریعے عزت‘ شہرت‘ رزق اور اعتماد سب کچھ دیا‘ وقت کے ساتھ ساتھ صحافت بدلتی رہی‘ یہ اخبار سے ٹی وی اور ٹی وی سے سوشل میڈیا میں تبدیل ہو گئی‘ میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بدلتا رہا‘ نئی سے نئی ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا رہا لیکن کسی بھی مرحلے اور فیز میں کالم لکھنا نہیں چھوڑا‘ مجھے اس کے لیے بہت کام کرنا پڑتا تھا‘ چھوٹے چھوٹے کاروبار کرتا تھا‘ میری فیملی تھی‘ کثرت محنت اور سٹریس کی وجہ سے عین جوانی میں شوگر کا مرض بھی لگ گیا تھا‘ اس کا مقابلہ بھی کرنا پڑ رہا تھا‘ سفر کا بے انتہا شوق اور عادت تھی‘ وہ بھی نبھانا تھا‘ لائف کوچنگ کا کام بھی کرتا تھا‘ مطالعہ کے بغیر بھی نہیں رہ سکتا تھا‘ ٹی وی کی جاب سخت بھی تھی اور یہ ڈسپلن بھی مانگتی تھی اور سوشل میڈیا سیکھنا اور پھر شیروں کی نئی نسل کے منہ سے نوالہ چھیننا بھی انتہائی مشکل تھا لیکن میں نے ہر قسم کی جدوجہد کے باوجود کالم کو ہاتھ سے نہیں چھوٹنے دیا‘ میری زندگی میں پھروہ وقت آ گیا جو ہر پروفیشنل کی زندگی میں کبھی نہ کبھی آتا ہے‘ میں اچانک بے روزگار ہو گیالیکن اللہ تعالیٰ کا کرم تھا‘ میں ذہنی طور پر اس وقت کے لیے تین سال سے تیار بیٹھا تھا لہٰذا کوئی نفسیاتی جھٹکا نہیں لگا‘ اللہ نے وسائل بھی دے رکھے ہیں چناں چہ کوئی مالیاتی تکلیف بھی نہیں ہوئی‘ میں برسوں قبل بڑی سکرین کو چھوٹی سکرین کے ساتھ چلا رہا تھا‘ وی لاگ کرتا تھا
لہٰذا ٹی وی کی کمی سوشل میڈیا نے پوری کر دی جب کہ کالم میں نے اپنی پرانی ویب سائیٹ پر شروع کر دیا‘ آپ لوگ اب اسے ویب سائیٹ پر پڑھ رہے ہیں‘ میں نے اس دوران ایک دن بھی وقفہ نہیں کیا‘ ماضی میں بھی ہفتے میں تین کالم لکھتا تھا اور اب بھی لکھ رہا ہوں تاہم ماضی اور حال کے کالموں میں ایک فرق ہے‘ مجھے ماضی میں ڈر ڈر کر لکھنا پڑتا تھا لیکن اب بے خوف ہو کر لکھتا ہوں تاہم مجھے اس کالم کا کوئی مالی فائدہ نہیں ہوتا‘ میں نے اپنی ویب سائیٹ اور فیس بک پیج دس سال قبل اپنے ورکرز کو دے دیا تھا‘ اس کی ساری آمدنی ان کو چلی جاتی ہے‘ مجھے صرف گالیاں پڑتی ہیں لہٰذا اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو مجھے کسی اخبار میں کالم لکھنا چاہیے تھا یا چھوڑ دینا چاہیے تھا لیکن اخبار کی زندگی ختم ہو چکی ہے‘ یہ بمشکل ایک آدھ سال نکال سکیں گے چناں چہ میرے پاس صرف ایک آپشن تھا‘ میں لکھنا بند کر دیتا لیکن میں یہ نہیں کر سکا‘ کیوں؟ کیوں کہ مجھے یہ ان لوگوں کے لیے لکھنا پڑ رہا ہے جنہیں زیرو پوائنٹ پڑھنے کی عادت ہے‘ میں ٹرین کی طرح کانا ہراڈا کو مایوس نہیں کرنا چاہتا‘ مجھے محسوس ہوتا ہے شاید میری وجہ سے چند لوگوں کی زندگی میں کوئی رونق یا اچھائی ہو یا کوئی شخص میری معمولی سی کوشش سے کوئی نئی چیز سیکھ رہا ہو یا اسے کوئی نئی معلومات مل رہی ہوں‘ ہو سکتا ہے یہ میرا وہم ہو لیکن بہرحال یہ میری سوچ ہے‘ دوسرا میرا سٹاف ہے‘ یہ لوگ 20 سال سے میرے ساتھ کام کر رہے ہیں‘ میں اگر کالم چھوڑ دیتا ہوں تو ان کا کیا بنے گا!یہ کیا کریں گے؟ مجھے یہ سوچ بھی پیچھے نہیں ہٹنے دے رہی اور آخری وجہ میری زندگی کا سٹائل ہے‘ میں نے آج تک کوئی شخص‘ کوئی اچھی عادت اور کوئی کام ادھورا نہیں چھوڑا جو شروع کر دیا سو کر دیا اور وہ آخری سانس تک ساتھ چلے گا‘ چناں چہ میں لکھ رہا ہوں اور لکھتا رہوں گا‘ اس وقت تک جب تک ایک بھی شخص یہ کالم پڑھ رہا ہے‘ یہ سلسلہ ان شاء اللہ اس وقت تک جاری رہے گاجب تک میں رہوں گا یا پھر کانا ہراڈا کو میری ضرورت نہیں رہے گی تاہم یہ بھی حقیقت ہے آج کی مادی زندگی کے مادی تقاضے پورے کرنے کے لیے آمدنی ضروری ہے‘ ہم انسان زیادہ دیر تک ’’فری لنچ‘‘ نہیں چلا سکتے‘ یہ سچائی ہے وہ مسجد اور وہ چرچ بھی بند ہو جاتا ہے جس کے بجلی اور پانی کے بل ادا نہیں ہوتے یا جس کی ٹیک کیئر نہیں ہوتی‘ یہ کام میرا ’’پیشن‘‘ ہے لیکن میری ٹیم کا یہ روزگار ہے‘ میں اپنے زور پر ان کے اخراجات کب تک پورے کر سکوں گا؟۔
ہمیں آپ میں سے کچھ لوگوں کی سپورٹ کی ضرورت ہے‘ آپ اگر ان تحریروں کو اپنے لیے مفید سمجھتے ہیں تو پھر آپ ہماری پیڈ سبسکرپشن لے لیں‘ ہمارے پاس تین آپشن ہیں‘ آپشن اے‘ دس ہزار تین سو روپے ماہانہ‘ آپشن بی پانچ ہزار تین سو روپے ماہانہ اور آپشن سی مفت‘ آپ اگر افورڈ نہیں کر سکتے تو آپ کے لیے ہم فری حاضر ہیں لیکن اگر آپ صاحب استطاعت ہیں تو پھر خود ہی کیٹیگری اے یا بی کا فیصلہ کر لیں تاکہ ہم زیادہ اطمینان کے ساتھ یہ کام کر سکیں‘ آپ اگر اس کے لیے راضی ہیں تو آپ +92 332 5362221 پر امجد خلیفہ صاحب سے رابطہ کرلیں‘یہ آپ کے ساتھ بینک کی تفصیل شیئر کر لیں گے‘ ہم پیڈ سبسکرپشنز لینے والوں کے لیے الگ واٹس ایپ گروپ بنائیں گے جس میں کالم اور اس کی آڈیو اپ لوڈ کی جائے گی اور اس پر گفتگو بھی کی جائے گی تاکہ تحریر کی زیادہ سے زیادہ انڈرسٹینڈنگ ہو سکے‘ ہم یہ سلسلہ ان شاء اللہ اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ایک بھی شخص اسے پڑھنے کے لیے موجود ہے یا پھر ہم میں دم باقی ہے۔



















































