جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ

datetime 28  اگست‬‮  2026 |

بیجنگ(این این آئی)بحرالکاہل میں موسمیاتی خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے جہاں ایک ساتھ تین طاقتور طوفان سرگرم ہو گئے ہیں

جن سے چین، تائیوان اور جاپان کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔جنوبی بحیرہ چین اور شمال مغربی بحرالکاہل میں غیر معمولی موسمی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جہاں بیک وقت تین طاقتور طوفانوں نے ماہرینِ موسمیات کی تشویش بڑھا دی ہے۔چین کے محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں اور سمندری طوفانوں کے خطرے کے پیش نظر لیول فور ہنگامی الرٹ جاری کردیا ہے جبکہ ساحلی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔موسمیاتی نظام میں موجود تین طوفانوں میں گینیری، نارا اور سوڈیل شامل ہیں جن میں سے سوڈیل کے بارے میں ماہرین کا کہناتھا کہ سازگار سمندری حالات کے باعث اس کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے اور یہ سپر ٹائیفون کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رپورٹس کے مطابق گینیری طوفان تائیوان کے دارالحکومت تائپے سے تقریبا 320 کلومیٹر دور موجود ہے جبکہ اس کے مرکز کے قریب ہواں کی رفتار ریکارڈ کی گئی ہے۔ طوفان کے شمال مغربی سمت میں بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ٹائیفون نارا چین کے جنوبی علاقوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے جس کے باعث گوانگشی، ہینان اور گوانگ ڈونگ سمیت کئی علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارشوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق سوڈیل جس راستے پر موجود ہے وہاں سمندر کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہے جس سے طوفان کے مزید طاقتور ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ امکان ہے کہ یہ ریوکیو جزائر سے گزرنے کے بعد مشرقی بحیرہ چین کی جانب بڑھے گا۔

رواں سال طوفانی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جنوری سے اب تک 20 طوفان بن چکے ہیں جبکہ اس عرصے میں طوفانوں کی اوسط تعداد تقریبا 13 سے 14 کے قریب رہتی ہے۔موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تینوں طوفانوں اور جنوب مغربی مانسون کے مشترکہ اثرات کے باعث چین، تائیوان اور جاپان کے مختلف علاقوں میں شدید بارش، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے جیسے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔حکام نے سمندری سرگرمیوں، فضائی و زمینی نقل و حمل اور ساحلی علاقوں میں موجود افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کردی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…