اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان میں موجود سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں آسٹریلیا نے اپنے شہریوں کے لیے نئی سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے
پاکستان کے سفر سے متعلق اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
پاکستان میں تعینات آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے بھی تازہ ٹریول ایڈوائزری شیئر کی ہے۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی حالات غیر یقینی اور تیزی سے تبدیل ہونے والے ہیں، اس لیے آسٹریلوی شہری سفر کے دوران خصوصی احتیاط اختیار کریں۔
آسٹریلوی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں، سیاسی اجتماعات اور دیگر بڑے ہجوم سے فاصلہ رکھیں۔ انہیں مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے حالات سے باخبر رہنے اور سیکیورٹی اداروں سمیت مقامی حکام کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
ٹریول ایڈوائزری میں پاک افغان سرحد پر جاری فوجی سرگرمیوں کو بھی سیکیورٹی صورتحال کے لیے ایک ممکنہ عنصر قرار دیا گیا ہے۔ آسٹریلوی حکومت کے مطابق حالات میں اچانک تبدیلی کی صورت میں بعض علاقوں میں مختصر نوٹس پر نقل و حرکت محدود ہوسکتی ہے، سڑکیں بند ہونے کے ساتھ ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر اور سیکیورٹی اقدامات سخت کیے جا سکتے ہیں۔
آسٹریلوی شہریوں کو خاص طور پر سرکاری عمارتوں، عبادت گاہوں اور سیکیورٹی چیک پوسٹس کے قریب اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلوی اور پاکستانی دونوں ممالک کی شہریت رکھنے والے افراد کو سفر کے لیے اپنا درست آسٹریلوی پاسپورٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
حکومت نے خبردار کیا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے افراد اگر پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کریں تو انہیں پاکستان سے روانگی یا آسٹریلیا واپس پہنچنے کے دوران سفری مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب افغان نژاد آسٹریلوی شہریوں کے لیے بھی خصوصی احتیاط کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق ایسے افراد کو پاکستانی حکام کی جانب سے اضافی تفتیش، پوچھ گچھ یا حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، چاہے ان کے پاس پاکستان کا درست ویزا ہی کیوں نہ موجود ہو۔
آسٹریلوی حکومت نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں قیام کے دوران مقامی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں حکام کی ہدایات کو ترجیح دیں۔



















































