اسلام آباد(نیوز ڈ یسک) تائیوان: بیوی کے مبینہ معاشقے کا سراغ لگانے کے لیے روبوٹ ویکیوم کلینر کو نگرانی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے والا تائیوانی شہری ایک عجیب قانونی تنازع کا شکار ہوگیا،
جہاں بیوی کے خلاف حاصل کیا گیا ثبوت بالآخر اسی کے لیے قانونی مشکل کا باعث بن گیا۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص نے 2021 میں شادی کی تھی اور وہ اہلیہ کے ساتھ اپنے والدین کے گھر رہتا تھا۔ تعطیلات کے دوران دونوں ایک دوسرے گھر میں بھی قیام کرتے تھے۔ستمبر 2023 میں شوہر کو بیوی کے کردار پر شک اس وقت ہوا جب اسے تعطیلات والے گھر میں ایک ایسا ٹوتھ برش ملا جو اس کا نہیں تھا۔ شک کی بنیاد پر اس نے گھر کے قریب نصب پارکنگ کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھی، جہاں ایک نامعلوم شخص اس کی اہلیہ کو گاڑی میں گھر چھوڑتا ہوا دکھائی دیا۔اس واقعے کے بعد شوہر کا شک مزید گہرا ہوگیا۔ تقریباً تین ماہ بعد اس نے اپنے موبائل فون پر موجود ایپ کے ذریعے دور بیٹھے تعطیلات والے گھر کا روبوٹ ویکیوم کلینر چلا دیا۔مذکورہ روبوٹ صرف صفائی کے لیے استعمال ہونے والا آلہ نہیں تھا بلکہ اس میں کیمرہ اور آڈیو کی سہولت بھی موجود تھی، جس کے ذریعے صارف گھر میں موجود افراد سے رابطہ کرسکتا تھا۔
شوہر نے روبوٹ فعال کیا تو کیمرے کے ذریعے اسے وہ منظر نظر آیا جس کا اسے پہلے سے خدشہ تھا۔ ریکارڈنگ میں اس کی اہلیہ ایک دوسرے شخص کے ساتھ انتہائی نجی حالت میں نظر آئیں۔شوہر نے اس ویڈیو کو محفوظ کرلیا اور بعد میں بیوی اور مذکورہ شخص کے خلاف دائر کیے گئے سول مقدمے میں اسے بطور ثبوت پیش کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ دونوں کے درمیان تعلق نے اس کے ازدواجی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔رپورٹ کے مطابق شوہر نے ابتدا میں 20 لاکھ تائیوانی ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ خاتون اور دوسرے شخص کے درمیان تعلق محض دوستی تک محدود نہیں تھا۔عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں دونوں افراد کو مجموعی طور پر 5 لاکھ تائیوانی ڈالر ہرجانے کی رقم شوہر کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا، جو تقریباً 45 لاکھ پاکستانی روپے بنتے ہیں۔تاہم معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بیوی نے اپنے شوہر کے خلاف الگ مقدمہ دائر کردیا اور الزام عائد کیا کہ اس نے اس کی اجازت کے بغیر اس کے نجی لمحات کی خفیہ طور پر ویڈیو بنائی۔
شوہر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ وہی ویڈیو پہلے سول مقدمے میں بطور ثبوت قابلِ قبول قرار دی گئی تھی، اس لیے اسے ریکارڈ کرنا بھی غیرقانونی نہیں ہونا چاہیے۔عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا اور واضح کیا کہ شادی شدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فرد کا رازداری کا حق ختم ہوجاتا ہے۔ عدالت کے مطابق ویڈیو جان بوجھ کر اور خفیہ انداز میں ریکارڈ کی گئی تھی۔نتیجتاً شوہر کو نجی تصاویر اور ویڈیو غیرقانونی طور پر ریکارڈ کرنے کے جرم میں 5 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ اسے بیوی کو ڈیڑھ لاکھ تائیوانی ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا۔تائیوان کے قوانین کے تحت کسی فرد کی نجی سرگرمیوں یا انتہائی ذاتی نوعیت کی معلومات کو اس کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا یا دوسروں تک پہنچانا جرم تصور کیا جاتا ہے، جس پر قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔



















































