اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)پاکستان کے سابق عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم نے رواں برس اپنی اہلیہ شنیرا اکرم کے ہمراہ حج نہ کرنے کی وجہ واضح کردی۔
شنیرا اکرم اپنی پاکستان سے محبت، پاکستانی ثقافت سے قربت اور پاکستانی عوام کے لیے کھلے دل سے اظہارِ خیال کے باعث خاصی مقبول ہیں۔ پاکستانی مداح انہیں محبت سے ’نیشنل بھابھی‘ بھی کہتے ہیں۔
حال ہی میں 60 سالہ وسیم اکرم اور ان کی 44 سالہ اہلیہ شنیرا اکرم ایک پوڈکاسٹ میں شریک ہوئے، جہاں گفتگو کے دوران وسیم اکرم سے ان کی اہلیہ کے ساتھ حج پر نہ جانے سے متعلق سوال کیا گیا۔
وسیم اکرم نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر کئی افراد ان سے یہ سوال کر رہے تھے کہ شنیرا ان کے ساتھ حج کے سفر پر کیوں نہیں گئیں۔
سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں شنیرا کے لیے پہلے عمرہ کرنا زیادہ مناسب ہوگا تاکہ وہ اس مقدس سفر اور اس کے طریقہ کار کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ ان کے مطابق اس کے بعد دونوں ان شاء اللہ ایک ساتھ حج ادا کریں گے۔
دوسری جانب شنیرا اکرم نے بتایا کہ وہ چاہتی تھیں کہ وسیم اکرم حج کے دوران مکمل توجہ عبادات اور مناسک پر مرکوز رکھیں۔
شنیرا کے مطابق وہ نہیں چاہتی تھیں کہ حج کے دوران وسیم کو ان کی فکر لاحق ہو یا وہ ان کے بارے میں سوچ کر اپنی توجہ تقسیم کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا ہرگز نہیں کہ وہ مستقبل میں وسیم کے ساتھ حج نہیں کریں گی، بلکہ اس وقت وہ چاہتی تھیں کہ وسیم اطمینان کے ساتھ اپنے اس اہم روحانی سفر پر توجہ دیں۔
شنیرا اکرم نے مزید کہا کہ ان شاء اللہ وہ دونوں کسی دن اکٹھے حج ادا کریں گے۔ ان کے مطابق رواں برس کا حج وسیم اکرم کا ذاتی روحانی سفر تھا اور انہیں اس خاص موقع کو پوری طرح محسوس کرنے اور اس کی خوشی منانے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔
وسیم اکرم نے اپنے حج کے تجربے کو بھی انتہائی شاندار قرار دیا اور کہا کہ یہ سفر ان کے لیے ان کی سالگرہ کے تحفے کی طرح تھا۔
واضح رہے کہ وسیم اکرم نے اگست 2013 میں آسٹریلوی شہری شنیرا اکرم سے شادی کی تھی۔ اس جوڑے کی ایک بیٹی عائلہ ہے، جو 11 سال کی ہے۔ رواں سال دونوں نے اپنی ازدواجی رفاقت کے 13 برس مکمل ہونے کی خوشی بھی منائی۔



















































