منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلیا میں منفرد واقعہ، خاتون کے ہاں مختلف والدین کے جڑواں بچوں کی پیدائش

datetime 1  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آسٹریلیا میں سروگیسی کے ایک غیر معمولی معاملے نے قانونی اور طبی حلقوں کی توجہ حاصل کرلی، جہاں ایک خاتون نے جڑواں بچوں کو جنم دیا

لیکن ڈی این اے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ دونوں بچوں کے حیاتیاتی والدین ایک جیسے نہیں ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست کوئنزلینڈ میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون نے گزشتہ سال نومبر میں ایک بیٹے اور بیٹی کو جنم دیا۔ خاتون نے ایک جوڑے کے لیے سروگیٹ ماں بننے کی رضامندی ظاہر کی تھی۔رپورٹ کے مطابق حمل کے دوران خاتون کو ایک دوسرے جوڑے کا ایمبریو منتقل کرنے کے لیے طبی عمل سے گزارا جا رہا تھا، تاہم اسی دوران وہ غیر متوقع طور پر دوبارہ حاملہ ہوگئیں۔بعد میں طبی معائنے اور اسکین سے معلوم ہوا کہ خاتون کے پیٹ میں جڑواں بچے پرورش پا رہے ہیں۔ پیدائش کے بعد کرائے گئے ڈی این اے ٹیسٹ نے معاملے کو مزید حیران کن بنا دیا، کیونکہ ٹیسٹ کے مطابق لڑکا سروگیٹ ماں کا حیاتیاتی بچہ تھا جبکہ لڑکی اس جوڑے سے تعلق رکھتی تھی جس کے لیے خاتون نے سروگیسی کی تھی۔یہ صورتحال کوئنزلینڈ کے قوانین کے لیے بھی ایک منفرد چیلنج بن گئی، کیونکہ وہاں موجود سروگیسی قوانین میں اس نوعیت کے معاملے کے حوالے سے واضح شق موجود نہیں تھی۔

مزید برآں، قانون کے تحت ایک سے زائد بچوں کی پیدائش کی صورت میں بہن بھائیوں کو الگ کرنے کے حوالے سے پابندیاں موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق دونوں بچوں کی پیدائش کے بعد گزشتہ تقریباً نو ماہ سے دونوں جوڑے اپنے اپنے بچوں کی پرورش الگ الگ کر رہے ہیں اور اس معاملے پر فریقین کے درمیان کوئی تنازع بھی سامنے نہیں آیا۔معاملہ بالآخر کوئنزلینڈ کی عدالت میں پہنچا، جہاں بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا دونوں بچوں کو قانونی طور پر بہن بھائی تصور کیا جائے گا اور کیا انہیں الگ خاندانوں کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔ دونوں خاندانوں کی رضامندی بھی اس معاملے میں موجود تھی۔کوئنزلینڈ کی جج جوڈی وولڈریج نے منفرد صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ قانونی اعتبار سے دونوں بچے پیدائشی طور پر بہن بھائی نہیں تھے، اگرچہ انہوں نے ایک ہی حمل کے دوران بیک وقت نشوونما پائی۔ عدالت نے چنانچہ دونوں بچوں کی ولدیت الگ الگ تسلیم کرلی۔عدالت کے لیے تیار کی گئی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ دستیاب طبی تحقیق کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ پیدائش کے بعد ایسے جڑواں بچوں کو الگ رکھنے سے لازماً کوئی نفسیاتی نقصان ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں جوڑوں نے رواں سال کے آغاز میں ایک وکیل کی خدمات حاصل کی تھیں تاکہ معاملے کے مختلف قانونی اور طبی پہلوؤں پر عدالت کے لیے رپورٹ تیار کی جاسکے۔اسی نوعیت کا ایک واقعہ 2017 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بھی سامنے آیا تھا۔ اس کیس میں جیسیکا ایلن نامی خاتون نے اپنے حیاتیاتی بچے کے ساتھ ایک دوسرے جوڑے کے لیے بھی سروگیٹ بچے کو جنم دیا تھا، تاہم بعد ازاں بچوں کی تحویل کے معاملے پر طویل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔کوئنزلینڈ کا حالیہ واقعہ سروگیسی، جینیاتی تعلق اور خاندانی قوانین کے باہمی تعلق کے حوالے سے ایک غیر معمولی مثال بن گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…