پیر‬‮ ، 13 جولائی‬‮ 2026 

پاکستان کا المیہ

datetime 14  جولائی  2026
شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری جنگ ہار گیا‘ باپ اور بیٹے کے درمیان ملاقات ہوئی اور شاہ جہاں نے باپ جہانگیر کا ہاتھ چوم کر اطاعت قبول کر لی جس کے بعد باپ اور بیٹے کے درمیان فیصلہ ہوا بیٹا (شاہ جہاں) اپنے دو بیٹے باپ (جہانگیر) کے حوالے کر دے گا‘ یہ بچے دادا کے پاس یرغمال رہیں گے تاکہ بیٹا (شاہ جہاں) دوبارہ باپ (جہانگیر) کے خلاف بغاوت کی گستاخی نہ کر سکے‘ سودا طے ہو گیا‘ ممتاز محل کو اپنے بیٹوں سے بے انتہا محبت تھی‘ اس نے بچے بچانے کی کوشش کی لیکن شاہی فوج آئی‘ ماں کی گود میں چھپے بچے کھینچ کر نکالے اور انہیں لے کر لاہور روانہ ہو گئی‘ جہانگیر چھٹیاں گزارنے کے لیے کشمیر جا رہا تھا‘ راستے میں موسم خراب تھا لہٰذا وہ لاہور میں رک گیا‘ شاہ جہاں کے دونوں بیٹوں دارالشکوہ اور اورنگ زیب کو دادا کے سامنے پیش کیا گیا‘ دارالشکوہ اس وقت 11 سال جب کہ اورنگ زیب کی عمر 8 سال تھی‘ یہ دونوں 1626ء میں لاہور میں بادشاہ کے دربار میں پیش کیے گئے‘ بچوں کے چہروں پر ماں سے جدائی‘ طویل سفر اور بادشاہ کا خوف تینوں جذبے موجود تھے‘ جہانگیر انہیں پہلی بار دیکھ رہا تھا‘ اس نے چند لمحے سوچا اور پھر دونوں پوتوں کو گلے لگائے بغیر ملکہ نور جہاں کے حوالے کر دیا اورملکہ نے انہیں خواجہ سرائوں کی نگرانی میں دے دیا‘ جہانگیر اس کے بعد کشمیر کے لیے روانہ ہو گیا‘ راستے میں بیمار ہوا اور 1627ء میں اس کا انتقال ہو گیا‘ شاہ جہاں کو تخت کے لیے اپنے بھائی خسرو اور اس کے بیٹوں سے لڑنا پڑگیا‘ بھائی اور ا س کے بیٹے بالآخر مارے گئے اور شاہ جہاں بادشاہ بن گیا جس کے بعد نور جہاں ملکہ سے غلام بن گئی اور دارالشکوہ اور اورنگ زیب کو رہائی نصیب ہوگئی‘ وہ دونوں آگرہ کے شاہی محل میں پہنچے تو ماں نے دیوانہ وار باہر آ کر اپنے بیٹوں کو گلے لگایا‘ وہ روتی جاتی تھی اور انہیں چومتی جاتی تھی‘ بیٹے بھی ماں کے ساتھ لپٹ کر دھاڑیں مار کر رو رہے تھے‘ ماں کا خیال تھا ہمارے دکھوں کا دور ختم ہو گیا‘ ہم اب ’’ہیپی فیملی‘‘ کی طرح مزے سے زندگی گزاریں گے لیکن یہ خیال چند دنوں میں غلط ثابت ہو گیا‘ بادشاہت دنیا کا سب سے مشکل کھیل ہوتا ہے‘ اس میں کوئی اپنا نہیں ہوتا‘ اس کھیل
میں باپ سے بھی لڑنا پڑتا ہے‘ بھائی سے بھی اور بیٹوں سے بھی‘ شاہ جہاں بھی دن بہ دن بادشاہت کی دلدل میں دھنستا چلا گیا‘ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ اور دوسری کے بعد تیسری شروع ہو جاتی تھی یہاں تک کہ 1631ء میں ممتاز محل 14 ویں زچگی کے دوران فوت ہو گئی اور بادشاہ جنگلوں سے نکل کر تاج محل کی دیوانگی میں مبتلا ہو گیا‘ ہم اگر آج چار سو سال پرانی تاریخ کا تجزیہ کریں تو ہمیں مغلیہ سلطنت کے خاتمے کی تین بڑی وجوہات ملیں گی‘ شاہ جہاں کا تاج محل‘ اورنگ زیب عالم گیر کی 50 سال طویل جنگیں اور وار ٹیکنالوجی سے دوری۔ یہ تین بڑی غلطیاں دنیا کی مضبوط اور بڑی سلطنت کو کھا گئیں‘ شاہ جہاں نے تاج محل کے لیے خزانہ خالی کر دیا جس کے نتیجے میں ملک میں کساد بازی‘ بے روزگاری اور مالی بدحالی شروع ہو گئی اور ہندوستان کا روپیہ پہلی بار ’’ڈی ویلیو‘‘ ہوا‘ شاہ جہاں کو تاج محل لے کر بیٹھ گیا جس کے آخر میں بادشاہ کی زندگی میں ہی شہزادوں کے درمیان تخت کے لیے لڑائی شروع ہو گئی‘ اورنگ زیب فوجی لحاظ سے تگڑا تھا چناں چہ اس نے والد کو آگرہ کے قلعے میں بند کیا‘ اپنے تینوں بھائیوں دارالشکوہ‘ شاہ شجاع اور مراد بخش کو شکست دی‘ قتل کیا اور ان کے بیٹوں کو افیون پلا پلا کر مار دیا اور 1658ء میں خود کو شہنشاہ ڈکلیئر کر دیا‘ اس نے اپنے لیے عالمگیر کا خطاب پسند فرمایا۔ اورنگ زیب عالمگیر مغل تاریخ کا مضبوط ترین اور طویل ترین حکمران تھا‘ اس نے 1658ء سے 1707ء تک 50 سال تین ماہ حکومت کی‘ وہ سادہ مزاج اور درویش صفت انسان تھا‘ بے انتہا مذہبی تھا‘ کبھی کوئی نماز قضا نہیں کی‘ہفتے میں دو سے تین دن روزے بھی رکھتا تھا‘ علماء کرام کی صحبت میں رہتا تھا‘ بلا کا خطاط تھا‘ اپنے ہاتھ سے قرآن مجید تحریر کرتا تھا‘ کروشیے سے ٹوپیاں بناتا تھا اور موسیقی کے خلاف تھا چناں چہ ناچ گانے پر پابندی لگا دی تھی اور بے انتہا بہادر تھا‘ یہ بہادری آخر میں اس کے گلے پڑ گئی‘وہ اقتدار کے پہلے 25 سال شمالی ہندوستان میں لڑتا رہا اور اس نے آخری 25 سال جنوبی ہندوستان (دکن) میں لڑ لڑ کر ضائع کر دیے لہٰذا وہ پچاس برس ٹک کر دارالحکومت میں نہیں بیٹھ سکا‘بے شک ان جنگوں نے اس کی سلطنت شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک پھیلا دی اور وہ بنگال سے سمرقند تک بادشاہ بن گیا لیکن ریاست اندر سے کھوکھلی اور کم زور ہو گئی‘ وہ 1707ء میں اپنے نام سے تعمیر شدہ شہر اورنگ آباد میں فوت ہوگیا اور اس کے رخصت ہوتے ہی سلطنت کی دیواریں گرتی چلی گئیں‘ آپ مغل سلطنت کا المیہ ملاحظہ کیجیے‘ ظہیرالدین بابر نے 1526ء میں دہلی فتح کیا‘ 1526ء سے 1707ء تک 181 برسوں کے درمیان 6 مغل بادشاہوں نے حکومت کی جب کہ 1707ء سے 1857ء تک 150 سال میں 14 مغل بادشاہ تخت نیشن ہوئے اور ان ڈیڑھ سو برسوں میں سلطنت کی اینٹیں خاک بن کر بکھر گئیں‘ مغلوں کی 1707ء سے 1857ء تک سب سے بڑی غلطی وارٹیکنالوجی سے دوری تھی‘ دنیا میں بندوقیں‘ توپیں اور بارودی گولے ایجاد ہو چکے تھے لیکن مغل ہاتھی‘ گھوڑے اور تلوار سے چپکے رہے جس کا یہ نتیجہ نکلا آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو کوئے یار میں تدفین کے لیے بھی جگہ نہ مل سکی‘ مغل سلطنت کو ختم ہوئے آج 169 سال ہو چکے ہیں‘ ان پونے دو سو سالوں میں ہندوستان کے مالک مغل لوہار اور ترکھان بن گئے‘ یہ بے چارے آج بھی معمولی کام اور چھوٹی موٹی نوکریاں کرتے ہیں اور اپنے آبائواجداد کا سیاپا کرتے ہیں۔پاکستان کا جینیئس مغل سلطنت تھی‘ مسلمان سلاطین دہلی اور مغل دور میں سنٹرل ایشیا سے ہندوستان آئے تھے‘ ہم ہندوستانی مسلمانوں کی رگوں میں ازبک‘ ایرانی‘ افغانی اور ترک خون ہے‘ ہمارے ہندوستانی آبائو اجداد نے بھی اسی زمانے میں اسلام قبول کیا تھا‘ فوج کی مارشل ریسز بھی اسی دور میں پیدا ہوئی تھیں لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں اگر ہندوستان میں مغل ریاست نہ ہوتی تو شاید آج پاکستان بھی نہ ہوتا۔ ہم نے بہرحال جیسے تیسے 1947ء میں ہندوستان میں پہلی اسلامی ریاست بنا لی لیکن ہم بدقسمتی سے اپنے پائوں میں پڑی تاریخ کی بیڑیاں نہ کھول سکے اور یہ اس ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے‘ کیسے؟ آپ ذرا ملاحظہ کیجیے۔ مسلمان ہندوستان میں حملہ آور کی حیثیت سے آئے تھے‘ جنگ ان کی خو تھی‘ یہ پہلے ہندوستان کی مختلف قومیتوں سے لڑتے تھے اور جب یہ انہیں فتح کر لیتے تھے تو پھر یہ آپس میں لڑنا شروع کر دیتے تھے‘ ہندوستان کی مسلم تاریخ میں کوئی اقتدار جنگ کے بغیر ٹرانسفر نہیں ہوا اور کوئی حکمران ایسا نہیں گزرا جس نے تلوار اور گارڈز کے بغیر کوئی رات گزاری ہو‘ بادشاہ اپنے باپ‘ اپنے بھائیوں اور اپنے بیٹوں سے لڑتے رہے اور اس وقت تک سانس نہیں لی جب تک وہ سارے مارے نہیں گئے چناں چہ جنگ ہم ہندوستانی مسلمانوں کا ڈی این اے ہے‘ دوسرا ہندوستان کی مسلم تاریخ میں فوج کو ہمیشہ باقی اداروں پر فوقیت رہی‘ مغلوں نے اپنے دور میں کوئی سنٹرل سول بیوروکریسی نہیں بنائی‘ کوئی تعلیمی ادارہ تعمیر نہیں کیا‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں کہ انگریزوں کے آنے تک پورے ہندوستان میں کوئی تعلیمی ادارہ نہیں تھا‘ سنٹرل ایشیا سے استاد لائے جاتے ہیں اور وہ صرف شہزادوں اور امراء کے بچوں کو پڑھاتے تھے‘ امیر خسرو اور اسد اللہ غالب کے بزرگ بھی استاد کی حیثیت سے ہندوستان آئے تھے جب کہ بیوروکریسی صرف لگان کی وصولی تک محدود تھی‘ مغلوں نے انفراسٹرکچر تک نہیں بچھایا تھا‘ ہندوستان میں صرف ایک گرینڈ روڈ تھی اور وہ بھی شیر شاہ سوری نے بنائی تھی‘ پورے ہندوستان میں کوئی پل نہیں تھا‘ پہلا پل انگریز نے آ کر بنایا جب کہ اس مقابلے میں ہر زمانے میں فوج بہت تگڑی اور بڑی رہی اور یہ ہر وقت باہر اور اندر برسر پیکار رہی ‘ پاکستان بنا تو جنگ کی وہ نفسیات پاکستان آ گئی اور ہم نے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیا‘پہلی لڑائی مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ہوئی اور اس کے نتیجے میں ملک پیدائش کے صرف 24 سال بعد آدھا رہ گیا‘ آپ آج بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے حالات دیکھ لیں‘ آپ اگر انہیں اورنگ زیب کے زمانے کی لڑائیوں کے سامنے رکھ کر دیکھیں تو آپ کو محسوس ہو گاہم 2026ء میں 1678ء کے زمانے میں زندہ ہیں‘ وہی ایک دوسرے کو فتح کرنے کی خواہش‘ بھائیوں کے ہاتھوں بھائیوں کا قتل‘ فوج کو مصروف رکھنے کی کوشش اور اپنی مرضی کے شہزادے کو تخت پر بٹھانے کی سعی چناں چہ 1678ء میں بھی لوگ مر رہے تھے اور 2026 ء میں بھی پہاڑوں پر لاشیں پڑی ہیں اور انہیں چیلیں بھنبھوڑ رہی ہیں گویا ہم ہندوستانی مسلمانوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا‘ دوسرا مغل دور میں بھی ہماری ہمسایوں کے ساتھ لڑائی تھی‘ مغل فوج کبھی شمالی ریاستوں سے لڑتی تھی اور کبھی جنوبی ریاستوں سے لڑائی میں پچیس پچیس سال ضائع کر دیتی تھی‘ ہم آج بھی چار میں سے تین ہمسایوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں‘ بھارت کے ساتھ ہماری جنگ 1948ء میں سٹارٹ ہوئی اور ہم نے آج تک یہ بند نہیں ہونے دی‘ افغانستان کے ساتھ ہمارا پھڈا 1950ء کی دہائی میں شروع ہو گیا تھا‘ یہ بھی ہم نے رکنے نہیں دیا‘ ایران کے ساتھ ہمارے اختلافات سکندر مرزا کی تدفین پر ہوئے اور ہم نے اس شکر رنجی میں بھی 50 سال گزار دیے بس چین بچ گیا اور ہم اس سے اس لیے نہیں لڑرہے کہ چین نے ہمارے ساتھ نہ لڑنے کا فیصلہ کر رکھا ہے‘ یہ گوادر کے ذریعے مڈل ایسٹ کے ساتھ جڑنا چاہتا ہے اور یہ اس معاملے میں بہت کلیئر ہے ورنہ ہم اس سے بھی لڑ چکے ہوتے‘تیسرا ہم نے اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی جنگ نہیں رکنے دی‘ شہزادوں کو تخت سے اٹھا کر دوسرے شہزادوں کو بٹھانا اور آخر میں دونوں کے ساتھ لڑائی یہ بھی ہماری پرانی روایت ہے اور ہم جی جان سے یہ روایت نبھا رہے ہیں‘ آپ دیکھ لیں ہم نے کسی بھی زمانے میں ملک میں سیاسی استحکام پیدانہیں ہونے دیا‘ ملک کی کوئی ایک پارٹی بتائیں جو اسٹیبلشمنٹ سے خوش ہو‘ ہم نے بنگالیوں کو لڑ کر الگ کر دیا اور ذرا سوچیں اگربنگالی سیاست دان وزیراعظم بن جاتا یا بنگالی زبان قومی زبان بن جاتی تو کیا فرق پڑ جاتا لیکن لڑنا کیوں کہ ہماری خو ہے لہٰذا ہم نے ملک توڑ دیا لیکن ان کے جائز مطالبے نہیں مانے‘ شیخ مجیب الرحمن اکثریت حاصل ہونے کے باوجود غدار تھا اور فاطمہ جناح بھی قائداعظم کی بہن ہونے کے باوجود غدار تھیں‘ کیوں؟ اس کی وجہ مغل ڈی این اے تھا۔(جاری ہے)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…