بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نئی آٹو پالیسی آخری مراحل میں، کیا گاڑیاں سستی ہوں گی؟

datetime 13  جولائی  2026 |

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک) نئی آٹو پالیسی کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے، تاہم حکومت کو ٹیکس سے متعلق اہم تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت کے بعد ہی اس پالیسی کو حتمی شکل دینے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی پالیسی آئندہ ماہ کے آغاز میں متعارف کرائی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی خواہش تھی کہ نئی آٹو پالیسی یکم جولائی سے نافذ کر دی جائے، تاہم مختلف وزارتوں اور آئی ایم ایف کے ساتھ مزید مشاورت کی ضرورت کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ پالیسی اگست کے پہلے ہفتے میں پیش کی جائے گی۔

ابتدائی تجاویز کے مطابق 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو موجودہ 18 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی تھی، لیکن آئی ایم ایف نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے بعد وزارت خزانہ، وزارت تجارت، ایف بی آر، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت قانون مشترکہ طور پر ٹیکس تجاویز کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت پانچ سالہ ٹیکس فریم ورک پر بھی آئی ایم ایف سے مذاکرات کرے گی تاکہ آٹو سیکٹر کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کی جا سکے۔

مجوزہ پالیسی کا مقصد آٹو موبائل صنعت میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس کے ساتھ تمام نئی گاڑیوں کے لیے اقوام متحدہ کے 62 حفاظتی معیارات اپنانے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے تاکہ گاڑیوں کی حفاظت اور معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق پالیسی میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی پر بھی زور دیا گیا ہے، جبکہ روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں پر انحصار بتدریج کم کرنے اور جدید، کم آلودگی پیدا کرنے والی گاڑیوں کو فروغ دینے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…