اسلا م آباد (نیوز ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر بڑھنے والی فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی نمایاں نظر آئے،
جہاں سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث قیمتی دھاتوں اور توانائی کی منڈی میں مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں تقریباً 1.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونا تقریباً 4,050 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گیا۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی سونے کی عالمی قیمت میں 1.4 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔پاکستانی مارکیٹ میں دو روز قبل سونے کی قیمت میں کمی کے بعد دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں فی تولہ سونا 1,100 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 33 ہزار 536 روپے تک پہنچ گیا تھا۔دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی خام تیل کی قیمتوں کو اوپر کی جانب دھکیل دیا۔ رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 2.67 ڈالر اضافے کے بعد 78.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت میں بھی تقریباً 3.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی پر دباؤ بڑھنے اور مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے امکانات بھی مضبوط ہو سکتے ہیں۔



















































