بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کراچی: ڈاکٹرز کی غفلت، والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی، 2بیٹوں کے بعد بیٹی میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق

datetime 11  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال سے مبینہ طور پر ایچ آئی وی منتقل ہونے کے معاملے میں مزید دو بچوں کے متاثر ہونے کی تصدیق سامنے آگئی ہے، جس کے بعد متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 80 ہو گئی ہے۔

سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) سے وابستہ ولیکا اسپتال کے اس معاملے نے ایک بار پھر والدین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس سے قبل صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق کر چکے تھے، جبکہ تازہ دو کیسز کے بعد تعداد مزید بڑھ گئی ہے۔

نئے متاثرہ بچوں میں ایک 9 سالہ بچی بھی شامل ہے۔ بچی کے والد عرفات نے بتایا کہ اس سے پہلے ان کے 12 سالہ اور 3 سالہ بیٹوں میں بھی ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی تھی، جبکہ اب ان کی بیٹی کی رپورٹ بھی مثبت آ گئی ہے۔ ان کے مطابق بچی کا 2025 کے اختتام پر سینے کے انفیکشن کے باعث ولیکا اسپتال میں علاج کیا گیا تھا، لیکن بعد ازاں طبیعت بہتر نہ ہونے پر ٹیسٹ کروایا گیا جس میں ایچ آئی وی کی موجودگی سامنے آئی۔

دوسرا کیس میٹرول کالونی کی 3 سالہ بچی کا ہے۔ بچی کے والد محمد امین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی بھی اسی اسپتال میں زیر علاج رہی تھی۔ بعد میں طبیعت خراب ہونے پر مختلف طبی معائنے کیے گئے، جن میں ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا۔

متاثرہ بچوں کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور کسی بھی غفلت کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

دریں اثنا ضیا کالونی اور میٹرول کالونی سمیت متاثرہ علاقوں میں والدین شدید خوف و تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن بچوں کا علاج ولیکا اسپتال میں ہوا ہے، ان سب کے فوری اسکریننگ ٹیسٹ کرائے جائیں تاکہ اگر مزید کوئی متاثرہ بچہ موجود ہو تو بروقت اس کی تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔

متاثرہ خاندانوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متاثرہ بچوں کے لیے مفت علاج، ضروری ادویات اور نفسیاتی معاونت کا انتظام کیا جائے، جبکہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دے کر متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…