جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

datetime 1  اکتوبر‬‮  2026

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر +92 332 5362221 پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 0310 5366774 موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)
روس نے 1964ء میں مری قبیلے کے چند نوجوانوں کی مدد سے بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے نام سے عسکری تنظیم بنائی‘ اس کا ہیڈ کوارٹر شام کے دارالحکومت دمشق میں تھا‘

یہ تنظیم ایرانی بلوچستان کے علاقے سیستان میں علیحدگی پسندی کے رجحانات پیدا کرنے کے لیے بنائی گئی تھی‘ اس نے شروع میں ایران اور بعدازاں عراق میں کام کیا‘ بی ایل ایف نے بھٹو صاحب کے دور میں بلوچستان میں بھی سرکاری املاک پر حملے کیے‘ یہ بعدازاں ختم ہو گئی اور اس سے وابستہ لوگ مختلف ملکوں میں رہائش پذیر ہو گئے‘26 نومبر 1967ء کو کراچی میں بلوچ طالب علموں نے بی ایس او(بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کے نام سے ایک طلباء تنظیم بنائی‘ اس تنظیم کی تشکیل کے ساتھ ہی بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو وہ پڑھے لکھے نوجوان ملنے لگے جو اس وقت تک سرداروں اور حکومت کی لڑائی میں سائیڈ پر کھڑے تھے‘ نوجوانوں کی شمولیت کے بعد بلوچستان کے حالات بگڑتے چلے گئے‘ 2003ء میں جمعہ خان مری اور اللہ نذر بلوچ دو بلوچ نوجوان بی ایس او سے نکلے اور مردہ بی ایل ایف کو دوبارہ زندہ کر دیا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں کی عسکری جماعت بنتی چلی گئی‘ اسے دوبارہ زندہ کرنے کا اصل ذمہ دار جمعہ خان تھا‘ یہ کوہلو میں مری قبیلے میں پیدا ہوا‘ 1986ء میں روس گیا‘ وہاں سے رشین سٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور پھر 1998ء میں الرجیز کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی‘ اس نے بعدازاں آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا اور جھنڈا بھی بنایا‘ بی ایل ایف کا زیادہ تر ہدف صحافی‘ سرکاری ملازم اور بلوچستان میں کام کرنے والے دوسرے صوبوں کے ماہرین تھے‘ بی ایل ایف کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق اس نے بلوچستان میں 27 صحافی قتل کیے‘ یہ وہ صحافی تھے جو غیر جانب دارانہ رپورٹنگ کرتے تھے‘ بھارت اور را اس کی پشت پناہی کر رہی تھی‘

جمعہ خان مری کو جلد ہی اندازہ ہو گیا ہم بلوچستان کو غلط راستے پر لے جا رہے ہیں‘ اس سے لاکھوں بلوچ نوجوان مارے جائیں گے اور ملک بھی تباہ ہو جائے گا‘ انہیں یہ بھی اندازہ ہو گیا بلوچستان بین الاقوامی ایجنڈے کا میدان جنگ اور ہم اس کے کھلاڑی ہیں چناں چہ اس نے ماسکو میں پاکستانی حکام سے رابطہ کیا‘ ملاقاتیں کیں اور بلوچستان میں انڈیا کی مداخلت کے ثبوت پاکستانی حکام کے حوالے کر دیے‘ اس نے ماسکو میں ٹی وی کو انٹرویو بھی دیا اور اس میں براہ راست تسلیم کیا ہم نے بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کیا‘ اس نے تسلیم کیا میں نے اس جعلی تحریک میں بہت کچھ کھو دیا اور میں نہیں چاہتا بلوچ نوجوان میری طرح گمراہ ہوں‘ جمعہ خان کے بعد تنظیم براہ راست اللہ نذر بلوچ کے ہاتھ میں چلی گئی‘ یہ بلوچستان کے علاقے آواران کی تحصیل مشکے میں پیدا ہوا تھا‘ یہ 2005ء میں گرفتار ہوا لیکن حکومت نے اسے 2008ء میں ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ پراجیکٹ کے تحت رہا کر دیا‘یہ کوئٹہ ہسپتال میں زیر علاج بھی رہا‘ صحت یاب ہونے کے بعد یہ سیدھا آواران گیا اور وعدے سے پھر گیا‘ اس کے بھائی اور بھتیجے بھی بی ایل ایف میں شامل ہو گئے تاہم اس کے ایک کزن عید محمد نے 2016ء میں سرینڈر کر دیا‘ اللہ نذر محمد بلوچ نے 2017ء میں ریاست کو کے پی میں 2014ء جیسے سکول حملے کی دھمکی بھی دی‘ بی ایل ایف سکولوں‘ سرکاری عمارتوں اور دوسرے صوبوں کے سیٹلرز پر بھی حملے کرتی ہے‘ صوبے میں کام کرنے والے ٹھیکے دار اور مزدور اس کا خصوصی نشانہ ہوتے ہیں‘ یہ لوگ صوبے میں ڈویلپمنٹ کے کام رکوانا چاہتے ہیں تاکہ عوام کی محرومی میں اضافہ ہو جائے اور لوگ ریاست کے خلاف ہوتے رہیں‘ اللہ نذر محمد اور بی ایل ایف را کے ساتھ مل کر ایران سے آپریٹ کرتی تھی‘

پاکستانی اداروں نے تین مارچ 2016ء کو را کا آفیسر کلبھوشن یادیو گرفتار کیا‘ وہ آپریشن بھی کمال تھا‘ میں کسی دن آپ کو اس کی تفصیل بتائوں گا‘ کلبھوشن چاہ بہار (ایران) میں بیٹھ کر بلوچستان میں فسادات پھیلا رہا تھا‘ پاکستان اور ایران کے تعلقات 2026ء میں آئیڈیل ہیں لیکن اس کے باوجود اللہ نذر خان اس وقت بھی تہران میں پناہ گزین ہے‘ پاکستانی اداروں نے ایرانی حکومت کو وہ میس تک بنادیا جس میں اسے ٹھہرایا گیا ہے لیکن ایران اس کے باوجود اسے پاکستان کے حوالے نہیں کر رہا‘ ہمارے اداروں نے عین ان دنوں میں ایران سے آنے والا بھاری اسلحہ اور بارود بھی پکڑا جب ایرانی وفد اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کر رہا تھا‘ آپ خود سمجھ دار ہیں‘ آپ اس سے صورت حال کی نزاکت کا اندازہ کر لیجیے۔

بلوچستان میں اس دوران ایک نئے کردار بشیر زیب نے بھی جنم لیا‘ یہ نوشکی میں پیدا ہوا‘ محمد حسینی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے‘ کوئٹہ پولی ٹیکنیکل کالج سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ لیا‘ بلوچی ادب میں ایم اے کیا‘ بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او)جوائن کی اور آہستہ آہستہ عسکری سرگرمیوں میں شامل ہوتا چلا گیا‘ اس کا بھائی اسلم بلوچ بی ایل اے میں تھا‘ 2018ء میں اس کی ہلاکت کے بعد بشیر زیب نے بی ایل اے کی قیادت سنبھال لی‘ یہ پچھلے 8 برسوں سے ریاست اور ریاستی اثاثوں کو نشانہ بنا رہا ہے‘ بشیر زیب کے ساتھ ساتھ 2009ء میں ایک نیا کردار سامنے آیا‘ اس کا نام ماہ رنگ بلوچ ہے‘ یہ لانگو قبیلے سے تعلق رکھتی ہے‘ ڈاکٹر ہے‘ اس نے ریاست کے وظیفے پر ایم بی بی ایس کیا اوربی ایس او میں ایکٹو ہو گئی‘ 2020ء میں کریمہ بلوچ (کریمہ محراب) نام کی ایک بلوچ لڑکی ٹورنٹو (کینیڈا) میں قتل ہو گئی‘ وہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کی پہلی خاتون چیئرپرسن تھی‘ وہ بھی آزاد بلوچستان کی مہم چلا رہی تھی‘وہ کچھ میں پیدا ہوئی تھی‘ وہ 2005ء میں بی ایل اے میں شامل ہوئی اور آزاد بلوچستان کی سرگرمیوں میں شریک ہو گئی‘ اس کے خلاف مقدمات بن گئے تو وہ 2015ء میں کینیڈا میں پناہ گزین ہو گئی اور وہاں سے بلوچ نوجوانوں کے حق میں سوشل میڈیا استعمال کرنے لگی‘

وہ پہلی خاتون تھی جس نے ’’مسنگ پرسنز‘‘ اور بلوچوں کے قتل کا ایشو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا شروع کیا‘ 22 دسمبر 2020ء کو اس کی لاش ٹورنٹو کے مضافات میں ملی‘ وہ ڈوب کر مر گئی تھی‘ بلوچ علیحدگی پسندوں نے اسے قتل اور حکومت پاکستان کو اس کا ذمہ دار قرار دے دیا دیا یہاں سے ماہ رنگ بلوچ نے ’’بلوچستان یک جہتی کمیٹی‘‘ (بی وائے سی) شروع کر دی‘ 2024ء میں محل بلوچ کا واقعہ پیش آیا‘ محل بلوچ گوادر میں پیدا ہوئی‘ وہ تربت یونیورسٹی سے ایل ایل بی کر رہی تھی‘ اس کا والد نیشنل عوامی پارٹی (این اے پی)کا ممبر تھا اور غوث بخش بزنجوں کا شاگرد تھا‘ بی ایل اے نے محل بلوچ کو اس وقت تنظیم میں شامل کیا جب وہ کوئٹہ میں انٹرن شپ کر رہی تھی‘ وہ اچانک گھر سے غائب ہو گئی‘ بی وائے سی نے اسے مسنگ پرسنز میں شامل کیا اور احتجاج شروع کر دیا۔ اس دوران 20 سال کا بلوچ نوجوان مولانا بخش تربت میں مارا گیا جس کے بعد مولا بخش کی بہن نجمہ مولا بخش نے بھی بی وائے سی جوائن کر لی یوں احتجاج اور بی وائے سی کے پروفائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا‘ اس دوران بی وائے سی نے مسنگ پرسنز کے لیے کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ کیا‘ یہ مارچ چھ دسمبر 2023ء کو سٹارٹ ہوا اور20 دسمبرکو اسلام آباد پہنچا‘ اس میں بلوچ لڑکیاں‘ لڑکے‘ بوڑھے اور جوان بھی شامل تھے۔ ’’بی وائے سی‘‘ کو بعدازاں یورپ سے سپورٹ ملنا شروع ہو گئی‘ پاکستانی خفیہ اداروں کا دعویٰ ہے ’’بی وائے سی‘‘ کو مختلف ملکوں سے پانچ ارب روپے کے فنڈز ملے جب کہ ان کا سوشل میڈیا جرمنی سے آپریٹ ہو رہا ہے اور وہاں ان کا ٹھیک ٹھاک دفتر اور عملہ موجود ہے۔

ہم اگر بلوچستان کے ماضی‘ حال اور مستقبل کا جائزہ لیں تو اب تک پانچ حقائق سامنے آتے ہیں‘ ایک۔ بلوچ قبائل ’’سن آف سائل‘‘ نہیں ہیں‘ یہ عرب اور ایران کے علاقوں سے بلوچستان آئے اور مقامی لوگوں کو بے دخل کرکے یہاں قابض ہو گئے لیکن یہ کوئی جرم نہیں ہے‘ سنٹرل ایشیا سے مختلف ادوار میں مختلف قومیں برصغیر میں آتی اور یہاں قابض ہوتی رہیں‘ پنجاب اور سندھ میں بھی ایسے بے شمار قبائل اور نسلیں آباد ہیں جو باہر سے آ کر یہاں قابض ہوئیں اور آہستہ آہستہ ’’سن آف سائل‘‘ بن گئیں‘ ہندوستان کے قدیم ترین باشندے راجپوت اور جاٹ تھے‘ باقی زیادہ تر باہر سے آئے ہیں‘ ہم سب اس میں برابر ہیں لہٰذا اگر پنجابی اور سندھی خود کو ’’سن آف سائل‘‘ سمجھتے ہیں تو بلوچ کیوں نہیں؟ تاہم یہ سچ ہے ’’مین لینڈ‘‘ میں ہونے کی وجہ سے نوے فیصد پنجابی اور سندھی مختلف قوموں اور ثقافتوں سے رابطے کی وجہ سے شہری ہو چکے ہیں جس سے ان کی سوچ اور طرز زندگی تبدیل ہو چکی ہے اور ان میں بلوچوں کے مقابلے میں برداشت زیادہ ہے جب کہ بلوچستان آج بھی قبائلی معاشرہ ہے جس کی وجہ سے ان میں عصبیت اور ایک دوسرے کے لیے نفرت ہے‘ یہ آج بھی اپنے نام کے ساتھ اپنے قبیلے کی شناخت لگاتے ہیں‘ پنجاب اور سندھ کے شہروں میں گوت‘ برادری اور نسلی شناخت ختم ہوتی جا رہی ہے چناں چہ خیال کیا جاتا ہے اگلے دس برسوں میں لوگوں کے ناموں سے بھٹی‘ چودھری اور چانڈیو ختم ہو جائے گا‘ دو۔ پاکستان کا کل رقبہ8 لاکھ 81 ہزار 913 مربع کلومیٹر ہے جس میں سے تین لاکھ47 ہزار 190مربع کلو میٹر بلوچستان ہے گویا پاکستان کا 40فیصد رقبہ بلوچستان پر مشتمل ہے‘ اس کے مقابلے میں بلوچستان کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے اور یہ لوگ بھی دور دراز کے علاقوں میں رہتے ہیں‘ آپ اگر بلوچستان کے ایک شہر سے دوسرے شہر جائیں تو آپ کو چار چار‘پانچ پانچ سو کلومیٹر تک آبادی کا نام و نشان نظر نہیں آتا‘ درمیان میں لق و دق صحرا اور ویرانے آتے ہیں‘

ان دوریوں کی وجہ سے ان علاقوں میں احساس محرومی اور غربت ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پنجاب‘ سندھ اور کے پی میں سینکڑوں شہر ہیں اور یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں‘ آپ اگر پنجاب میں جی ٹی روڈ پر سفر کریں تو آپ کو سڑک کی دو سائیڈز پر خالی جگہ نظر نہیں آتی‘ شہر شہروں کے ساتھ مل چکے ہیں‘ سندھ میں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے‘ بلوچستان میں 41 اضلاع ہیں جس میں پاکستان کا سب سے بڑا ضلع چاغی بھی شامل ہے‘ اس کا رقبہ 45 ہزار مربع کلومیٹر ہے‘ یہ ضلع رقبے کے لحاظ سے ڈنمارک‘ نیدر لینڈ‘ سوئٹزر لینڈ‘ بھوٹان‘ بیلجیئم اور اسرائیل سمیت دنیا کے 65 ممالک سے بڑا ہے‘ اسرائیل کا ٹوٹل رقبہ 20 ہزار مربع کلو میٹر اور لبنان ساڑھے دس ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے‘ آپ اس سے ضلع چاغی کی لمبائی چوڑائی کا اندازہ کر لیجیے‘ چاغی ضلع میں آپ اگر تفتان بارڈر سے نوشکی تک مسلسل سفر کریں تو آپ کو سات سے دس گھنٹے لگتے ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں آپ اتنے ہی وقت میں اٹک سے صادق آباد تک پورا پنجاب کراس کر جاتے ہیں‘ پاکستان کے 65 ممالک سے بڑے اس ضلع کی آبادی صرف دو لاکھ 70 ہزار ہے جب کہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ کی آبادی ساڑھے پانچ لاکھ ہے‘ ملک کے 40فیصد رقبے کے اس صوبے میں قومی اسمبلی کے صرف 16 حلقے ہیں‘

ہم اگر ان حلقوں کو اضلاع میں تقسیم کریں تو اوسطاً تین اضلاع سے ایک ایم این اے منتخب ہوتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں ضلع گوجرانوالہ سے پانچ ایم این اے قومی اسمبلی پہنچتے ہیں‘ قومی اسمبلی میں ضلع لاہور کی 14 سیٹیں ہیں گویا قومی اسمبلی میں پورے بلوچستان کی نمائندگی لاہور کے برابر ہے‘اسی طرح حکومت ایم این ایز کو جو فنڈ دیتی ہے وہ ایک طرف لاہور کے چودہویں حصے اور گوجوانوالہ کے پانچویں حصے میں خرچ ہو تا ہے اور دوسری طرف اتنی رقم بلوچستان کے تین اضلاع میں خرچ ہوتی ہے جو پنجاب کے آدھے رقبے کے برابر ہوتے ہیں چناں چہ پھر دونوں میں مساوات کیسے قائم ہو گی‘ چاغی کا نوجوان خود کو گوجرانوالہ اور لاہور کے نوجوان کے برابر کیسے لا سکے گا اور یہ اگر خود کو لاہوری نوجوان سے کم تر محسوس کرے گا تو یہ اس کی کیا عزت کرے گا؟ریاست کو چاہیے تھا یہ 1960ء کی دہائی میں بلوچستان کا رقبہ پنجاب‘ کے پی اور سندھ میں ضم کر دیتی تاکہ یہ رقبے کے لحاظ سے دوسرے صوبوں کے برابر ہو جاتا‘ ہمیں بلوچستان میں نئے شہر بھی آباد کرنے چاہیے تھے تاکہ اس کی آبادی کم از کم کے پی کے برابر ہی ہو جاتی‘ اسے 1960ء کی دہائی میں تین چار صوبوں میں تقسیم بھی کیا جا سکتا تھا تاکہ اس کے مسائل کم ہو سکتے لیکن ہم نے وہ وقت ضائع کر دیا‘ تین۔ بلوچستان کے سردار ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں (جاری ہے)۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…