جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

datetime 24  ستمبر‬‮  2026

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر +92 332 5362221 پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 0310 5366774 موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)
قیام پاکستان کے بعد بلوچستان میں تین مسائل نے جنم لیا‘ پہلا مسئلہ بی ایریا اور لیویز تھیں‘ ملک اس دور میں بے تحاشا مسائل کا شکار تھا لہٰذا گورنمنٹ نے بلوچستان کو جوں کا توں رہنے دیا‘ بی ایریا کو اے میں تبدیل کیا اور نہ سرداروں کی لیویز ختم کیں‘ حکومت رابرٹ سنڈیمن کے فارمولے کے تحت ہر سال سرداروں کو رقم دے دیتی تھی اور یہ اپنے لشکروں کے ذریعے علاقے کو چلاتے تھے‘ بلوچستان میں ڈپٹی کمشنرز اور ایس پی تھے لیکن ان کے اختیارات نہ ہونے کے برابر تھے‘ یہ سارا سارا دن دفتروں میں بے کار بیٹھے رہتے تھے یا پھر سرداروں کی مہمان نوازی کو انجوائے کرتے تھے‘ لیویز اور بی ایریا آہستہ آہستہ بلوچستان کی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے‘ آج بلوچستان کی محرومیوں کی سب سے بڑی وجہ یہ دونوں ہیں‘ دوسرا مسئلہ ون یونٹ تھا‘ مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ تھا جب کہ اس کے مقابلے میں پنجاب‘ سندھ اور سرحد(کے پی) چھوٹے چھوٹے صوبے تھے‘ بلوچستان کو اس وقت تک صوبے کا سٹیٹس نہیں ملا تھا‘ حکومت نے مشرقی اور مغربی پاکستان کو بیلنس کرنے کے لیے 14 اکتوبر 1955ء کو ون یونٹ کا فارمولہ متعارف کرا دیا‘ ون یونٹ کے آرکی ٹیکٹ وزیراعظم محمد علی بوگرا تھے‘ وہ خود بنگالی تھے لیکن انہوں نے یہ پلان ڈرافٹ بھی کیا اور پالیسی بھی بنائی تاہم اسے آئینی شکل وزیراعظم چودھری محمد علی نے دی‘ بہرحال ون یونٹ کے بعد مغربی پاکستان کے تین صوبے اور بلوچستان کے علاقے ایک یونٹ بن گئے اور آج کے پورے پاکستان کا دارالحکومت لاہور ہو گیاجس کے بعد چمن اور تفتان کے بلوچوں کو بھی اپنے معمولی کاموں کے لیے لاہور آنا پڑتا تھا‘ کراچی اور کے پی کے لوگ بھی روزانہ اس اذیت سے گزرتے تھے‘

یہ سلسلہ یکم جولائی 1970ء تک چلتا رہا‘ صدر یحییٰ خان نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ون یونٹ ختم کر دیا جس کے بعد پاکستان میں پہلی بار بلوچستان کا نام سامنے آیا‘ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے اس وقت تک ملک میں بلوچستان کا نام تک موجود نہیں تھا اور بلوچستان کا تیسرا ایشو سوویت یونین تھا‘ پاکستان کے وجود کو سوویت یونین نے قبول نہیں کیا تھا‘ روسی ہمیں برطانیہ اور امریکا کی پراکسی سمجھتے تھے چناں چہ انہوں نے اینٹی پاکستان عناصر کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا‘ اس زمانے میں گریٹر بلوچستان اور پختونستان کے تصور کو ہوا دی جانے لگی‘ بلوچستان اور صوبہ سرحد میں انگریز کے آنے سے قبل پشتون اور بلوچ قبائل آج کے ایران‘ افغانستان اور پاکستان میں اکٹھے رہتے تھے‘ انگریز آیا اور اس نے 1871ء میں ایران اور قلات ریاست کے درمیان سرحدی لائین کھینچ دی‘ یہ گولڈز مڈ (Golds Mid) لائین کہلاتی ہے‘ یہ لائین جنرل فیڈرک جان گولڈز مڈ نے کھینچی تھی‘ اس نے برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان ٹیلی گراف کا رابطہ شروع کیا تھا اور دوسرا روس اور ہندوستان کے درمیان بفر سٹیٹس بنائی تھیں تاکہ روس ہندوستان میں داخل نہ ہو سکے‘ اس کی کھینچی لکیر کے نتیجے میں بلوچ قبائل ایران‘ افغانستان اور آج کے پاکستان میں تقسیم ہو گئے‘ آج ایرانی بلوچ سیستان‘ افغانی بلوچ نیمروز اور پاکستانی بلوچ بلوچستان میں رہ رہے ہیں‘ دوسری لائین ڈیورنڈ تھی‘ یہ سرہنری ڈیورنڈ نے 1893ء میں بنائی جس کے نتیجے میں پشتون قبائل بھی افغانستان اور آج کے پاکستان میں تقسیم ہو گئے‘ انگریز کا فارمولہ ’’ڈیوائیڈ اینڈ رول‘‘ تھا‘ وہ اقوام اور لوگوں کو تقسیم کر کے حکومت کرتا رہا‘ یہ دونوں لائین پشتونوں اور بلوچوں کو کم زور کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں‘ بلوچستان اور صوبہ سرحد(کے پی) کے عوام نے یہ لائنیں پسند نہیں کیں اور ان کے خلاف تحریکیں شروع کر دیں‘ یہ تحریکیں آہستہ آہستہ پختونستان اور گریٹر بلوچستان میں تبدیل ہو گئیں‘ آج کے بلوچستان میں 1921ء میں پڑھے لکھے بلوچوں نے ’’انجمن اتحاد بلوچستان‘‘ کے نام سے متحدہ اور آزاد بلوچستان کے لیے پہلی تنظیم بنائی‘ 1937ء میں بلوچستان کی دوسری تنظیم قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی بنی‘ یہ پارٹی بھی ایران کے کنٹرول میں موجود بلوچستان اور برطانوی بلوچستان دونوں کو آزاد کرانا چاہتی تھی‘ 1948ء میں خان آف قلات کے بھائی پرنس آغا عبدالکریم خان نے انضمام کی مخالفت کی اور خان اور پاکستان دونوں سے بغاوت کر دی‘ قلات کی فوج کا ایک دستہ اس کے ساتھ مل گیا اور یوں بلوچستان میں عسکری جدوجہد شروع ہو گئی‘ پرنس آغا عبدالکریم خان نے گولڈز مڈ لائین کی دوسری طرف افغانستان کے پہاڑوں میں ٹریننگ کیمپ بنائے اور پاک فوج پر حملے شروع کر دیے‘ اسے سوویت یونین‘ افغانستان اور ایران کی حمایت حاصل تھی‘ ایران بھی اس زمانے میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں پر قبضہ چاہتا تھا‘ پرنس عبدالکریم نے بلوچستان میں پہلی گوریلا وار شروع کی ‘ یہ پہلا شخص تھا جس کے پاس ہزار بلوچوں کی گوریلا فورس تھی اور اس نے پہلی بار جھلاوان کے علاقوں میں پاکستان آرمی کے جوانوں کو شہید کرنا شروع کیا‘ وہ بعدازاں سو علیحدگی پسندوں کے ساتھ گرفتار ہوگیا (پرنس کے بقول میں نے سرینڈر کیا تھا) اس پر مقدمہ چلا‘ وہ طویل عرصہ جیل میں رہااور رہائی کے بعد اس نے استمان گال (پیپلز پارٹی) بنا کر سیاست شروع کر دی‘ یہ پارٹی بعدازاں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں ضم ہو گئی۔

پاکستان میں پختونستان اور گریٹر بلوچستان کی تحریکوں کو سوویت یونین کی حمایت حاصل تھی‘ افغانستان ان لوگوں کا گڑھ تھا‘ سوویت یونین پہلا ملک تھا جس نے بلوچ اور پشتون نوجوانوں کو سکالر شپس دینا شروع کیے‘ اس سکیم سے ہزاروں نوجوانوں نے فائدہ اٹھایا‘ روسی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی‘ کمیونسٹ بنے اور پختونستان اور گریٹر بلوچستان کی تحریکوں پر اپنی جوانیاں ضائع کیں‘ ان میں خیر بخش مری بھی شامل تھے‘ وہ مری قبیلے کے سردار تھے‘ مری انگریزوں کے قریب تھے‘ خیر بخش مری کے دادا نواب عمران خان مری نے خان آف قلات کے ساتھ ڈیل کر کے رابرٹ سنڈیمن کو وہ علاقے لیز پر لے کر دیے تھے جن پر بعدازاں برٹش بلوچستان بنا ‘ خیر بخش مری 1928ء میں پیدا ہوئے‘ وہ ابھی والدہ کی گود میں تھے کہ ان کے والد مہراللہ خان مری کا انتقال ہو گیا‘ انگریز نے مری قبیلے کے ایک سردار دودا خان کو قبیلے کا عارضی سردار بنا دیا اور خیر بخش مری کو تعلیم کے لیے ایچی سن کالج لاہور بھجوا دیا‘ یہ وہاں کمیونسٹوں میں بیٹھنے لگے اور کامریڈ ہو گئے‘ یہ بعدازاں 22 سال کی عمر میں 1950ء میں اپنے قبیلے کے سردار بنے‘ ان کے سوویت یونین اور افغانستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے جب کہ حکومت کمیونسٹوں کے خلاف تھی‘ 1960ء کی دہائی میں بگٹی اور مری قبائل کے علاقوں سے تیل اور گیس نکلنے لگی‘ پاکستان میں اس زمانے میں توانائی کی شدید قلت تھی۔ سوویت یونین کا خیال تھا یہ کمی پاکستان کو کبھی نہ کبھی روس کے پاس لے آئے گی لیکن گیس اور تیل کی دریافت نے اس خیال کو باطل ثابت کر دیا چناں چہ روس نے خیربخش مری کے ذریعے وفاق کو ٹف ٹائم دینا شروع کر دیا‘ مری قبیلے کے لوگ تیل اور گیس کے انجینئرز پر حملے کرتے تھے اور کنوئوں کو آگ لگا دیتے تھے‘یہ فوجیوں کو بھی نشانہ بناتے تھے‘ وہ ایوب خان کا دور تھا‘ وفاق نے پہلی بار گیس فیلڈز کی حفاظت کے لیے فوج کے اضافی دستے بلوچستان بھجوائے‘ اسی زمانے میں بلوچ سرداروں کو پہلی بار ’’اینٹی ڈویلپمنٹ‘‘ قرار دیا گیا اور یہ ٹائٹل آج تک ان کے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ گیس میں اضافے کے ساتھ ساتھ مری اور بگٹی قبائل کے ساتھ ریاست کا ’’لو اینڈ ہیٹ ریلیشن شپ‘‘بھی بڑھتا رہا‘ 1960ء کی دہائی میں سوویت یونین نے بلوچوں پر سرمایہ کاری بھی بڑھا دی‘ یہ افغانستان کے بعد بلوچستان پر قابض ہونا چاہتا تھا تاکہ یہ بلوچستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کر سکے اور انہیں پاکستان اور بھارت کو بیچ کر سرمایہ کمائے اور دوسرا اس کی گرم پانیوں تک رسائی ہو جائے‘ یہ اگر واقعی بلوچستان تک پہنچ جاتا تو پھر اس کے لیے پوری دنیا کھل جاتی‘ یہ خلیجی ممالک کو بھی کنٹرول کر لیتا اور آبنائے ہرمز اور باب المندب پر بیٹھ کر انٹرنیشنل ٹریڈ کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتاجب کہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادی اسے ہر قیمت پر روکنا چاہتے تھے‘ خیر بخش مری سمارٹ سردار تھے‘ وہ سوویت یونین‘ مغربی طاقتوں اور پاکستان کی مجبوری سے واقف تھے چناں چہ انہوں نے جی بھر کر صورت حال کا فائدہ اٹھایا۔

ہم یہاں خیر بخش مری کی کہانی کو روکتے ہیں اور ایک نئے کردار کی طرف آتے ہیں‘ اس کردار کا نام نواب نوروزخان تھا‘ وہ 1875ء میں خضدار میں پیدا ہوئے ‘ وہ زہری قبیلے سے تعلق رکھتے تھے‘ جھلاوان تھے اور بابائے بلوچستان کہلاتے تھے‘ وہ قیام پاکستان سے قبل بلوچستان کی آزادی کے لیے انگریزوں سے لڑتے رہے‘ 1922ء میں گرفتار ہوئے‘ عمر قید کی سزا پائی تاہم سکھر جیل توڑ کر فرار ہوگئے اور پہاڑوں میں پناہ لے لی‘وہ قیام پاکستان کے بعد پہاڑوں سے اترے‘ حکومت نے جب 1955ء میں ون یونٹ قائم کیا تو بلوچ سرداروں نے اس کی مخالفت کر دی جس کے جواب میں فوج نے 1958ء میں خان آف قلات کو گرفتار کر لیا‘ اس کے ردعمل میں نواب نوروز خان نے مسلح جدوجہد شروع کر دی‘ نواب نوروز کے دو مطالبے تھے‘ بلوچ لیڈروں کو رہا کیا جائے اور قلات کی ریاست بحال کر دی جائے‘ نوروز خان کے ساتھ ہزار بلوچ نوجوان تھے‘ وہ پہاڑوں سے فوج اور سول انتظامیہ پر حملے کرتے تھے ‘ ریاست نے نوروز خان کے خلاف آپریشن کیا لیکن کام یاب نہیں ہو سکی جس کے بعد اس نے نوروز خان کے قبیلے زہری کے چیف سردار دودا خان کے ذریعے مذاکرات شروع کر دیے‘ سردار دودا خان نوروز خان کا بھانجا اور داماد تھا (نوٹ: مری قبیلے کے سردار دودا خان اور زہری لیڈر دودا خان دو مختلف انسان ہیں)۔ سردار دودا خان قرآن مجید لے کر پہاڑوں پر گئے اور حلف دے کر نواب نوروز خان کو یقین دلایا آپ سرینڈر کر دیں‘ ریاست آپ اور آپ کے لوگوں کو عام معافی دے گی اور آپ کا سٹیٹس بھی بحال کر دیا جائے گا‘ سردار نوروز خان نے اپنے داماد اور قرآن مجید پر حلف کی وجہ سے 1959ء میں سرینڈر کر دیا‘ وہ پہاڑوں سے اترے لیکن اس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے حلف کا احترام نہیں کیااور انہیں ان کے ساتھیوں اور بیٹوں سمیت گرفتار کر لیا ‘

بعدازاں سردار نوروز خان کے بیٹوں اور بھتیجوں سمیت سات قریبی لوگوں کو 15جولائی 1960ء کو پھانسی دے دی گئی جب کہ سردار نوروز خان کو حیدر آباد جیل میں عمر قید کر دیا گیا‘ وہ 25 ستمبر 1965ء کو علالت کی وجہ سے حیدر آباد جیل میں انتقال کر گئے‘ بلوچ انہیں آج بھی شہید قرار دیتے ہیں جب کہ ان کے بیٹوں اور ساتھیوں کی پھانسی کے دن (15جولائی) کو یوم شہداء کے طور پر مناتے ہیں‘ سردار دودا خان اس واقعے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے دوست بن گئے‘ ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحب زادے اور سردار نوروز خان کے نواسے سردار ثناء اللہ زہری قبیلے کے سردار بنے‘ یہ 2015ء سے 2018ء تک بلوچستان کے وزیراعلیٰ بھی رہے‘ سردار نوروز خان کے ساتھ وعدہ خلافی پر دو آراء ہیں‘ زہریوں کے مطابق ہمارے ساتھ دھوکا کیا گیا‘ ہمیں ریاست نے قرآن مجید کے ساتھ پہاڑوں پر بھجوایا تھا‘ ہم جب حلف دے کر سردار نوروز خان کو نیچے لے آئے تو ریاست نے وعدہ خلافی کی اور انہیں گرفتار کر لیا جب کہ ریاست کا کہنا ہے یہ وعدہ ہم نے نہیں کیا تھا‘ ان کے داماد اور بھتیجے سردار دودا خان نے کیا تھا‘ ہم انہیں باغی سمجھتے تھے اور ہم نے ان کے ساتھ باغیوں جیسا سلوک کیا‘ ریاست اس ضمن میں سردار دودا خان اور سردار ثناء اللہ زہری کو بطور ثبوت پیش کرتی ہے‘ یہ دونوں اس واقعے کے بعد بھی ریاست کے ساتھ رہے‘ ریاست کی دلیل ہے اگر ہم نے وعدہ خلافی کی تھی تو پھر دودا خان اور ثناء اللہ زہری ہمارے ساتھ کیوں رہے‘ یہ بھی باغیوں کے ساتھ شامل ہو جاتے‘ یہ دلیل اپنی جگہ لیکن یہ طے شدہ حقیقت ہے سردار نوروز خان کے ساتھ وعدہ خلافی نے بلوچستان میں بغاوت کے بیج کو درخت بنا دیا‘ حکومت اگر ان کے ساتھ نرم رویہ رکھتی تو شاید آج حالات مختلف ہوتے‘ سردار نوروز خان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے چند فیصلوں نے بلوچستان کی جلتی آگ پرتیل کا کام کیا۔ (جاری ہے)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…