پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

گلاس برج سے

datetime 30  جون‬‮  2026
ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو دیکھنا تھا اور اسی رات میری شنگھائی کے لیے فلائیٹ تھی‘ چانگ چاچے کے مضافات میں مختلف ریزارٹ ہیں‘ ہمیں پہاڑیوں کے درمیان موجود ریزارٹ میں کمرے مل گئے‘ وہ کسی بڑے چینی بزنس مین کی پراپرٹی تھی‘ پہاڑوں کے دامن میں اس کی زمین تھی اور اس نے اس پر ریزارٹ بنا دیا‘ وہ جگہ بھی کمال تھی‘ درمیان سے دریا گزر رہا تھا اور جنگل کے مختلف حصوں میں ہٹس تھے جن تک آنے اور جانے کے لیے الیکٹرک گاڑیاں استعمال ہوتی تھیں‘ ہم نے اگر واپس نہ آنا ہوتا تو ہم لازماً دو تین دن اس میں گزارتے‘ چین کا مشہور گلاس برج اس سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا‘ یہ گریٹ وال کے بعد چین کی دوسری بڑی سیاحتی کشش ہے‘ ہم صبح گلاس برج کے مقام پر پہنچ گئے‘ چین کے دیگر سیاحتی مقامات کی طرح وہاں بھی وسیع پارکنگ تھی‘ میں نے محسوس کیا چین جہاں بھی کوئی سیاحتی یا کمرشل مقام بناتا ہے یہ وہاں تمام سہولتیں مستقبل کو ذہن میں رکھ کر تعمیر کرتا ہے‘ دنیا کے ہر بڑے سیاحتی مقام پر وقت کے ساتھ ساتھ رش بڑھتارہتا ہے جس کے بعد پارکنگ کا ایشو بن جاتا ہے‘ چین سب سے پہلے یہ فیصلہ کرتا ہے پچاس سال بعد یہاں کیا صورت حال ہو گی اور اس کے بعد پارکنگ لاٹ اور کمرشل ایریاز کا لے آئوٹ تیار کرتا ہے‘ یورپ میں حکومتوں کو ہر دس سال بعد پورے پورے عمارتی بلاکس گرا کر انہیں پارکنگ لاٹ میں تبدیل کرنا پڑتا ہے جب کہ ہم سرے سے پارکنگ کو اہمیت ہی نہیں دیتے‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پتریاٹہ چیئر لفٹس کی پارکنگ دیکھ لیں‘ وہاں ہر وقت ٹریفک بلاک رہتی ہے‘ بہرحال گلاس برج کی پارکنگ بھی بہت وسیع و عریض تھی‘ اس کے بعد ایک پلیٹ فارم آیا وہاں سے گلاس برج کے ٹکٹ گھر کے لیے بسیں ملتی ہیں‘ پارکنگ سے ٹکٹ گھر دس منٹ کی بس ڈرائیو پر تھا‘ راستہ پہاڑی اور جنگلی تھا بالکل سوات کی طرح‘ ٹکٹ گھر کی عمارت گول اور وسیع وعریض تھی‘ ہم نے ٹکٹ لیا‘ کیمروں کو اپنی شکل دکھائی اور باہر نکل گئے‘ ٹکٹ گھر سے گلاس برج نظر نہیں آتا تھا‘ ہمیں تین چار منٹ سیڑھیاں چڑھنی پڑیں اور ہم اس کے بعد ایک اور ہال میں آ گئے‘ وہاں ہمیں جوتوں پر چڑھانے
کے لیے کور دیے گئے‘ یہ شیشے کو خراشوں سے بچانے کے لیے تھے‘ ہم نے کور جوتوں پر چڑھائے اور مزید سیڑھیاں چڑھ کر باہر آ گئے اور پھر اچانک سامنے گلاس برج آ گیا‘ وہ منظر بھی دل کش تھا‘ دو بلند وبالا پہاڑ تھے جن کے نیچے دریا بہہ رہا تھا‘ ایک کونے میں سبز رنگ کی جھیل تھی اور ان سب کے اوپر 430 میٹر (1410 فٹ) لمبا گلاس برج تھا‘ پل کے نیچے کسی قسم کی سپورٹ نہیں تھی‘ یہ دونوں سائیڈز سے موٹی دھاتی تاروں کے ساتھ بندھا ہوا تھا‘ یہ دنیا کا بلند ترین اور طویل ترین ہینگنگ برج تھا‘ اس کی اونچائی 300 میٹر تھی‘اوپر سے گہرائی میں موجود جنگل اور درخت گھاس محسوس ہو رہے تھے‘ پل کے شروع میں سٹیڈیم تھا‘ اس میں پل کی سطح تک لکڑی کے بینچ لگے تھے‘ لوگ وہاں بیٹھ کر دھوپ تاپ رہے تھے اور پل دیکھ رہے تھے‘ ہم نے وہاں کھڑے ہو کر تصویریں بنائیں ( کالم کے اختتام پر ملاحظہ کریں) اور اس کے بعد پل پر آ گئے‘ ہمارے قدموں میں شیشے کی موٹی تہہ تھی اور اس پر ہزار کے قریب لوگ چل رہے تھے‘ نیچے دیکھ کر دل کو کچھ ہوتا تھا‘ ہول سا اٹھتا تھا‘ لوگ شیشے پر لیٹ کر تصویریں بنا رہے تھے‘ پل پر جمپ کر کے اس کی مضبوطی بھی دیکھ رہے تھے‘ دائیں اور بائیں دور دور تک وادی بکھری ہوئی تھی‘ پل کے درمیان سے سیڑھیاں نیچے اترتی تھیں‘ وہاں سے ’’بنجی جمپ‘‘ ہوتے ہیں‘ یہ دنیا کا بلند ترین ’’بنجی جمپ‘‘ ہے‘انسان رسے سے بندھ کر 260 میٹر (853فٹ) کی چھلانگ لگاتا ہے‘ شیشے پر بیٹھ کر لوگ جمپ لگانے والوں کی ویڈیوز بنا رہے تھے‘ ہم بھی اس میں شامل ہو گئے۔ بنجی جمپ 1988ء تک غیرقانونی تھا‘ یہ علت آکسفورڈ یونیورسٹی کے طالب علم ڈیوڈ کرک (David Kirke) نے شروع کی‘ وہ یونیورسٹی کے ڈینجرس سپورٹس کلب کا سربراہ تھا‘ اس نے یکم اپریل (اپریل فو)1979ء کے دن اپنے دو دوستوں سائمن کیلنگ اورجیف تابن کے ساتھ مل کر برسٹل کے کلفٹن سپینش برج سے رسہ باندھ کر چھلانگ لگائی‘ یہ کام یاب ہو گئے لیکن انہیں پولیس نے پکڑ لیا تاہم اس ایک چھلانگ نے بنجی جمپنگ کو کھیل بنا دیا‘ 1987ء میں نیوزی لینڈ کے نوجوان اے جے ہیکٹ نے ایفل ٹاور کے سیکنڈلیول سے چھلانگ لگا دی‘یہ بھی بعدازاں گرفتار ہو گیا‘ نومبر 1988ء میں اسی ہیکٹ نے ہنری وین ایش(Henry van Asch) کے ساتھ مل کر پہلی بار کوئینز ٹائون میں کاوارائو جورج برج پرکمرشل بنجی جمپنگ کی اور یوں یہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی‘ چین کے گلاس برج سے دنیا کی سب سے اونچی چھلانگ لگائی جاتی ہے‘ ہم بھی وہاں کھڑے ہو کر یہ تماشا دیکھتے رہے‘ میں نے سوچا میں ٹرائی کرتا ہوں لیکن ڈاکٹرعثمان تیار نہیں ہوئے تاہم زپ لائین پر سودا ہو گیااور یہ بھی اتنی ہی خطرناک اور ہول ناک تھی۔یہ گلاس برج اسرائیل کے آرکی ٹیکٹ ہین دوتن (Hain Dotan) نے بنایا تھا اور یہ ماڈرن زمانے کا تعمیراتی معجزہ ہے۔ پل کی دوسری سائیڈ پر گول عمارت تھی جس کے عین درمیان سوئمنگ پول تھا‘ وہاں سے برج کا نظارہ حیران کن تھا‘ گول سوئمنگ پول‘ سامنے برج اور آخر میں سبز پہاڑیاں اور پل کی دو سائیڈز پر نیچے گہرائی میں سرسبز وادی‘ میں تھوڑی دیر وہاں کھڑا رہا اور پھر آگے چل پڑا‘ اس سے آگے تین سرگرمیاں تھیں‘ گلاس لفٹ‘ زپ لائین اور آخر میں چار ہزار سیڑھیاں‘ ہم نے سب سے پہلے گلاس لفٹ لی‘ وہ ہمیں لے کر وادی کے پیندے میں آگئی‘ ہم وہاں نہیں اترے کیوں کہ ہم نے زپ لائین لینی تھی‘ ہم لفٹ کے ذریعے دوبارہ اوپر آ گئے اور زپ لائین کی قطار میں کھڑے ہو گئے‘ یہ بھی دنیا کی بلند ترین زپ لائین تھی‘ انسان لوہے کے رسے پر چار سو میٹر کی بلندی پر گھسٹتا ہے‘ وہاں سے گہرائی اور ہوا کو محسوس کرنا بھی تجربہ تھا‘ میں اور ڈاکٹر عثمان دونوں نے یہ تجربہ کیا اور دل کھول کر قہقہے لگائے‘ زپ لائین کے آخر میں دو آپشن تھے‘ دو ہزار سیڑھیاں اور پہاڑ کے ساتھ ساتھ پتلے پلوں پر چل کر دوبارہ گلاس برج کے آغاز پر پہنچ جائیں یا پھر چار ہزار سیڑھیاں اتر کر دریا کے کنارے پہنچ جائیں‘ ہم نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور سیڑھیاں اترنے لگے‘ سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ گھیسی (سلائیڈ) کا بندوبست بھی تھا لیکن ہمیں وہ واہیات محسوس ہوئی اور ہم سیڑھیاں اترتے چلے گئے‘ تمام سیڑھیاں لکڑی کی تھیں اور گھنے جنگل میں تھیں‘ ہم یہ ایڈونچر کرنے والے اکیلے لوگ تھے‘ ہمیں راستے میں صفائی کرنے والی ایک خاتون ملی‘ اس نے بتایا وہ یہ سیڑھیاں روزانہ چار مرتبہ اترتی اور چڑھتی ہے‘ ہم اس کی ہمت کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے‘ ہم بہرحال ایک گھنٹے بعد نیچے پہنچے‘اس وقت تک ہماری ٹانگوں میں ارتعاش شروع ہو چکا تھا‘ ہم کھڑے ہوتے تھے تو ٹانگیں بانس کے ستون کی طرح لرزتی تھیں‘ سیڑھیوں کے آخر میں پلیٹ فارم تھا‘ وہاں کافی شاپ‘ ریستوران اور واش رومز تھے‘ ہم نے وہاں آدھا گھنٹہ آرام کیا اور اس کے بعد میری زندگی کا شان دار ترین سفر شروع ہو گیا‘ وادی میں دریا بہہ رہا تھا‘ دریا کی دونوں سائیڈز پر پہاڑ تھے اور ان پر گھنے جنگل تھے‘ حکومت نے دریا کے ساتھ ساتھ لکڑی کا تین کلومیٹر لمبا باریک پل بنا دیا تھا‘ یہ پہاڑ کے ساتھ ساتھ کبھی دائیں اور کبھی بائیں جانب چلتا ہے‘ راستے میں بے شمار چھوٹی آب شاریں آتی ہیں‘ ہم اس پر چل پڑے‘ میں نے زندگی میں ہر قسم کے علاقے میں واک کی ہے‘ مجھے نارتھ پول سے سائوتھ پول تک جنگلوں‘ صحرائوں‘ شہروں‘ دریائوں اورخشک پہاڑوں پر واک کا موقع ملا‘ میں اس جنت کے کونے تک بھی گیا جہاں سے حضرت آدم ؑ نے اپنا سفر شروع کیا تھا اور اس مقام پر بھی جہاں سے حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کے ساتھ ہجرت شروع کی تھی اور وہاں بھی جہاں یاجوج ماجوج دیوار چاٹتے تھے اور اصحاب کہف لمبی نیند کی چادر اوڑھ کر سو گئے تھے اور وہاں بھی جہاں دنیا کی پہلی بائبل لکھی گئی تھی اور وہاں بھی جہاں شداد کی جنت ریت میں غرق ہوئی اور وہاں بھی جہاں سامری جادوگر نے دنیا میں جادو کی پہلی یونیورسٹی بنائی اور وہاں بھی جہاں زمین کے سرے ختم ہو جاتے ہیں اور چاند آدھے سیکنڈ کے لیے زمین کو چھو کر گزرتا ہے اور وہاں بھی جہاں دوزخ کا دروازہ ہے اور وہاں بھی جہاں پیدل چلنے سے ناک سے خون نکلنے لگتا ہے لیکن آپ یقین کریں وہ تمام سفر ایک طرف اور یہ تین کلومیٹر کی واک دوسری طرف‘ وہ دو بلند پہاڑ تھے جن کے درمیان پانی کی سبز لائین تھی اور ہم اس لائین کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور جنگلی پرندے ہمیں دیکھ کر قہقہے لگا رہے تھے‘ ہم پر بعض جگہوں پر پھوار بھی پڑنے لگتی تھی‘ چین کا کمال دیکھیں اس نے اتنی دشوار گزار جگہ پر چٹانوں پر پانی کے عین اوپر تین کلومیٹر لمبا واک وے بنا دیا ‘ اس پر کیمرے بھی لگا دیے اور بجلی کا بندوبست بھی کر دیا‘ یہ واقعی کمال تھا‘ ہم جہاں سے گزرتے تھے ہمیں کیمرے دیکھتے رہتے تھے‘ درمیان میں ڈاکوئوں کا غار بھی آیا‘ یہ ماضی کے تین ڈاکوئوں کا ٹھکانہ تھا‘ وہ غار بھی طویل اور محفوظ تھے‘ سیاح ان کے درمیان سے گزر کر دوبارہ واک وے پر آ جاتے ہیں‘ غار کے بعد کا سفر مزید خوب صورت تھا‘ پل مزید پتلا ہو گیا اور یہ چٹان کے ساتھ لٹک کر آگے بڑھنے لگا‘ اس سفر کا اختتام جھیل پر ہوا وہاں موٹر بوٹس کھڑی تھیں‘ ہم ان میں سوار ہو گئے‘ آپ ذرا تصور کریں‘ آپ جھیل سیف الملوک میں کشتی میں سوار ہوں اورآپ کے چاروں سائیڈز پر سرسبز وشاداب پہاڑ ہوں تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ ہم بھی اس وقت یہی محسوس کر رہے تھے‘ اس لمحے آہستہ آہستہ بارش شروع ہو گئی‘ بارش نے تصویر کو مزید خوب صورت بنا دیا‘ ہمارے نیچے سبز جھیل تھی‘ دائیں بائیں پہاڑ تھے‘ پیچھے باریک دریا اور تین کلومیٹر لمبا واک وے تھا اور اوپر سے ہلکی ہلکی بارش برس رہی تھی‘ وہ منظر بھی تصویر بنا اور ذہن کے البم میں محفوظ ہو گیالیکن نہیں رکیے ‘اس لمحے پہاڑ سے سرمئی رنگ کا ایک بگلہ اترا اور پھرر پھرر کر کے جھیل کے پانی پر اتر گیا‘ تصویر کے اندر ہل جل ہوئی اور وہ رنگین ہو گئی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…