پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

ریو سیکریٹو

datetime 9  جون‬‮  2026
دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی پیتے تھے‘ پانی میں دو قسم کی مچھلیاں تھیں‘ زرد رنگ کی چھوٹی سی مچھلی مکمل نابینا تھی‘ یہ انگریزی میں میکسیکن بلائینڈ کیو فش جب کہ مایا زبان میں (Ogylbia) کہلاتی ہے‘ یہ ایسے گہرے اندھیرے غار میں پیدا ہوتی ہے جہاں روشنی کی کوئی کرن نہیں جاتی لہٰذا قدرت نے اسے آنکھوں کی نعمت سے محروم رکھا ہے‘ یہ دیکھ نہیں سکتی‘ صرف پانی کی لہروں کے اتار چڑھائو سے خطرے کا اندازہ کرتی ہے اور چھٹی حس کے ذریعے اپنے آپ کو بچاتی ہے‘ دوسری مچھلی کیٹ فش کہلاتی ہے‘ یہ غار کے ان حصوں میں پائی جاتی ہے جہاں تھوڑی تھوڑی روشنی ہوتی ہے‘ غاروں میں مچھلیوں کی خوراک زیادہ نہیں ہوتی لہٰذا ان کا سائز بھی نہیں بڑھتا‘ یہ چھوٹی انگلی جتنی رہ جاتی ہیں‘ غاروں کی دیواریں لائم سٹون کی تھیں‘ فرش بھی دودھیا لائم سٹون سے بنا ہوا تھا‘ پانی بھی شفاف تھالہٰذا ٹارچ کی معمولی سی روشنی نے غار کو جگمگا دیا‘ ہمیں ہر چیز صاف دکھائی دے رہی تھی‘ مایا لوگ ماضی میں ان غاروں میں پناہ لیتے تھے یا پھر عبادت کے لیے آتے تھے‘ دیواروں پر مایا لوگوں نے اپنے آثار چھوڑے تھے‘ یہ قدیم تحریریں تھیں یا پھر ان کے خدائوں کی تصویریں تھیں‘ جانوروں کے پنجوں کے نشان بھی تھے‘ راہول ہمیں پانی میں ایک ایسے مقام پر لے گیا جہاں زمین کی سطح سفید تھی‘ راہول نے انگلی سے سطح کو چھیڑا تو سفیدی چونے کی طرح پانی میں مکس ہو گئی‘ اس نے اس کے بعد تھوڑے سے فاصلے پر ہاتھ لگایا وہاں بھی چونے کا برادہ تھا لیکن وہ اب چٹان بن چکا تھا‘ اس نے بتایا یہ چٹانیں اور ان کے اوپر موجود فارمیشنز صدیوں تک پانی میں رہنے کی وجہ سے بنی ہیں‘ ہم اگر یہاں نہ آتے اور اس چونے کو پانی میں مکس نہ کرتے تو یہ بھی سو دو سو سال بعد اس چٹان کا حصہ بن چکا ہوتا‘ وہ اس کے بعد ہمیں ایک چٹان پر لے کر گیا‘ وہاں زمین سے لائم سٹون کی برچھیاں اوپر اٹھی ہوئی تھیں‘ اس نے ایک جگہ ہاتھ لگا کر بتایا یہاں ایک میٹر کی پتھریلی سلاخ تھی‘ سائنس دان اسے نکال کر لیبارٹری میں لے کر گئے‘ اسے کاٹ کر دیکھا تو پتا چلا یہ ایک میٹر کی سلاخ تین اعشاریہ دو ملین سالوں میں بنی تھی‘ آپ اس سے
غار کی قدامت اور ان فارمیشنز کی عمر کا اندازہ کر لیجیے‘ ہمیں چٹانوں میں جگہ جگہ درختوں کی جڑیں ملیں‘ یہ ململ کے کپڑے کی طرح باریک تھیں اور چٹانوں پر بکھری ہوئی تھیں‘ یہ غاروں کے اوپر موجودہ درختوں کی جڑیں تھیں جو پتھروں کا سینہ چیر کر چٹانوں کے وجود سے لپٹ کر پانی کی سطح تک آئی تھیں‘ چھتوں سے بھی جڑیں لٹک رہی تھیں‘ وہ غاروں کی نمی سے پانی حاصل کر رہی تھیں‘ ہمیں چند مقامات پر درختوں کے بڑے اور موٹے تنے جتنی جڑیں ملیں‘ انہیں دیکھ کر معلوم ہوا درختوں کے صرف تنے موٹے نہیں ہوتے بعض اوقات ان کی جڑیں بھی تنوں جتنی ہوتی ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بے شمار مخلوقات کی خوراک بنتی ہیں‘ غاروں کی مکھیاں‘ مچھلیاں اور مچھر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں‘ ہم مختلف غاروں اور پانی کے تالابوں سے گزر کر ہال نما مقام پر پہنچ گئے‘ یہ بڑی اور کھلی چوکور جگہ تھی جس کے دائیں بائیں مختلف غار تھے‘ یہ خشک تھی اور اس کی چھت سے زیادہ تعداد میں برچھیاں لٹک رہی تھیں‘ مایا لوگ زمانہ قدیم میں اس جگہ قیام کرتے تھے‘ وہاں صرف برسات میں پانی آتاتھا‘ بارشوں کے دوران درختوں کی جڑیں اور زمین کی درزیں غاروں کی سطح آب بڑھا دیتی تھیں‘ مایا لوگوں نے اس صورت حال میں خود کو بچانے کے لیے چٹانوں پر ٹھکانے بنا رکھے تھے۔ گائیڈ راہول نے بتایا 2015ء میں اچانک بارش ہو گئی جس کے نتیجے میں یہاں پانی کی سطح بلند ہو گئی‘ اس وقت ریسرچ ٹیم یہاں کام کر رہی تھی‘ وہ لوگ پانی میں ڈوبنے لگے‘ اس نے اس کے بعد چھت کے قریب ایک چٹان کی طرف اشارہ کیا اور بتایا ان بے چاروں نے وہاں بیٹھ کر اپنی جان بچائی‘ اس دن اگر بارش نہ رکتی اور پانی کی سطح ان کی گردنوں تک پہنچ کر کم نہ ہوتی تو پوری ٹیم ڈوب کر مر جاتی‘ یہ سن کر ہمیں کپکپکی لگ گئی‘ راہول نے ہماری طرف دیکھا اور مسکرا کہا‘ آپ لوگ پریشان نہ ہوں‘ کین کون میں دہائیوں بعد موسلا دھار بارش ہوتی ہے‘ ہمارے جنگلوں میں اکثر اوقات آدھ گھنٹہ بارش ہوتی ہے اور اس کے بعد آسمان کھل جاتی ہے‘ راہول نے بتایا‘ غاروں کی لمبائی 52 کلو میٹر ہے‘ یہ اس کے بعد سمندر تک جاتے ہوں گے لیکن ریسرچر ابھی تک وہاں نہیں گئے۔ میں نے اس سے پوچھا‘ سمندر سے رابطے کا اندازہ کیسے ہوا؟ اس کا جواب تھا‘ غاروں سے سمندری مخلوقات کے ڈھانچے ملے ہیں‘ دوسرا یہاں مچھلیوں کی دو قسمیں بھی پائی جاتی ہیں‘ ہمیں اس سے اندازہ ہوا یہ غار کسی نہ کسی جگہ سمندر سے جڑے ہوں گے‘ اس نے بتایا ہم نے سیاحوں کے لیے چھوٹا سا پورشن کھولا ہے‘ اس نے اس کے ساتھ ہی چٹانوں سے بندھے ربنز اور کپڑے کی رنگین دھجیوں کی طرف اشارہ کیا اور بتایا ’’کوئی شخص ان سے آگے نہیں جا سکتا‘ غاروں کے اندر گھپ اندھیرا بھی ہے‘ بعض جگہوں پر پانی سروں سے اونچا ہے اور وہاں آکسیجن کی کمی بھی ہے لہٰذا کوئی شخص خصوصی انتظامات اور اجازت کے بغیروہاں نہیں جا سکتا‘ سیاح بھی گائیڈ کے بغیر غاروں میں نہیں آ سکتے‘ ہمارے پاس تمام لوگوں کا ڈیٹا ہوتا ہے‘ ہم جب تک تمام سیاحوں کی واپسی کا یقین نہ کر لیں ہم سنٹر بند نہیں کر سکتے‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کیا کبھی کوئی حادثہ بھی ہوا‘‘ راہول نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا ’’دنیا کی کون سی ایسی جگہ ہو گی جہاں حادثے نہ ہوتے ہوں لیکن ہم اس جگہ کے حادثوں کے بارے میں کسی کو نہیں بتا سکتے‘ حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے کیوں کہ اس سے خوف پھیلے گا اور سیاحت میں کمی آئے گی‘‘۔ ہم تقریباً ایک گھنٹہ غاروں کے اندر رہے‘ وزٹ کے بعد راہول ہمیں لے کر غاروں سے نکلا اور ہمیں گھنے جنگل سے گزار کر شاور ایریا تک واپس لے آیا‘ ہم نے آبی لباس اتار کر واپس جمع کرایا‘سنٹر میں پانی کے حوض تھے‘ ہمارے لباس حوضوں میں ڈال کر دھوئے گئے اور اس کے بعد سوکھنے کے لیے تاروں پر ڈال دیے گئے‘ یہ بندوبست شاید لباسوں کو جراثیم سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا‘ ہم نے دوبارہ غسل کیا‘ اپنے کپڑے پہنے اور ہمیں اس کے بعد ڈائننگ ہال میں لے جایا گیا‘ لنچ پیکج کا حصہ تھا‘ کھانا حلال نہیں تھا لہٰذا ہم پھلوں تک محدود رہے‘ میکسیکو میں ٹکیلا نام کی شراب بنتی ہے‘ پورا ملک یہ پیتا ہے‘ سیاح بھی ٹکیلا کے چکر میں میکسیکو آتے ہیں‘ یہ عموماً اسے کھانوں اور مشروبات میں بھی ڈال دیتے ہیں چناں چہ میکسیکو میں کوئی بھی مشروب یا کھانا لینے سے پہلے پوچھ لینا چاہیے‘ یہ لوگ ٹکیلا کے نام سے گانے بھی گاتے ہیں‘ ہم نے جب بھی کسی میکسیکن سے تصویر بنانے کی درخواست کی وہ موبائل فون پکڑ کر سمائل یا چیز کی بجائے ٹکیلا کہتا تھا‘ ہم یہ سن کر بے اختیار ہنس پڑتے تھے اور وہ ہماری تصویر بنا لیتا تھا‘ بہرحال فروٹ کے لنچ کے بعد ہم واپس چل پڑے۔ کین کون کا سب سے اہم سیاحتی مقام چیچن اٹزا (Chichen Itza) ہے‘ یہ مایا لوگوں کا سب سے بڑا ٹیمپل تھا ‘ یہ کین کون کے ایسے علاقے میں ہے جہاں سال میں 300 دن سورج رہتا ہے یعنی بارش یا بادل کا موسم نہیں آتا‘ مایا لوگ اسے دنیا کا ساتواں عجوبہ کہتے ہیں‘ یہ ان کا بلند ترین اہرام ہے‘ اس کی اونچائی 30میٹرہے‘ شہر کے عین درمیان تھا‘ اس کی چاروں سائیڈز پر سیڑھیاں ہیں‘ بلند ترین مقام پر وہ ٹیمپل تھا جہاں روزانہ زندہ انسانوں کی قربانی دی جاتی تھی اور اس بے چارے کا سر سیڑھیوں سے ٹکراتا ہوا نیچے آتا تھا‘ اس علاقے میں جون سے اکتوبر کے درمیان ہلکی بارش ہوتی تھی جو صرف آدھ گھنٹہ رہتی تھی‘ باقی سارا سال گرمی اور دھوپ رہتی تھی‘ اس کی سیڑھیوں پر اگر تالی بجائی جائے تو آواز لوٹ کر واپس آتی ہے‘ اس کی کل سیڑھیاں 365 ہیں گویا ہر دن کی ایک سیڑھی ہے جو یہ ثابت کرتی ہے مایا لوگوں کا سال بھی 365 دنوں کا تھا اور انہوں نے بھی دن کو باقاعدہ مختلف پہروں میں تقسیم کر رکھا تھا‘ مایا کیلنڈر کے تین حصے ہوتے تھے‘ یہ 260 دن مذہبی عبادات کرتے تھے‘ یہ ان کا مذہبی کیلنڈر ہوتا تھا‘ ان کا شمسی سال بھی ہماری طرح 365 دنوں کا تھا لیکن ان کا مہینہ 20 دن کا تھا یوں ان کا سال 18 ماہ میں مکمل ہوتا تھا جب کہ درمیان میں ویب (Wayeb) کے پانچ دن بھی آتے تھے‘ یہ ان دنوں میں صرف عبادت کرتے تھے‘ آپ انہیں ان کے حج کے دن بھی کہہ سکتے ہیں‘ یہ وقت کو 52 برسوں میں بھی تقسیم کرتے تھے‘ ان کے عقیدے کے مطابق 52 سال بعد ہر چیز بدل جاتی ہے‘ یہ وقت کو 394 برسوں کے سائیکل میں بھی رکھ کر دیکھتے تھے‘ ان کا آخری سائیکل 21 دسمبر 2012ء کو مکمل ہوا تھا‘ یہ اسے ’’اینڈ آف دی ورلڈ‘‘ کہتے ہیں‘ ان کے خیال کے مطابق 2012ء میں کائنات کا سائیکل مکمل ہو گیا‘ اس کے بعد نیا ٹائم سائیکل شروع ہوگیا‘ اس میں دنیا مکمل طور پر ختم ہو جائے گی‘ ہم چیچن اٹزا جانا چاہتے تھے لیکن وہاں لوکل لوگوں کا احتجاج چل رہا تھا‘مئی کے شروع میں مایا لوگوں نے ٹیمپل پر قبضہ کر کے ایک کینیڈین سیاح کو قتل کر دیا تھاجس کے بعد حکومت نے سائیٹ عارضی طور پر بند کر دی یوں ہم دنیا کا ساتواں عجوبہ نہیں دیکھ سکے‘ بہرحال یار زندہ صحبت باقی اگر اللہ تعالیٰ نے مہلت دی تو ہم دوبارہ میکسیکو جا کر چیچن اٹزا کی زیارت کریں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…