اسلام آباد( این این آئی)آرمرڈ کور سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے پہلے سربراہ جنرل عامر رضا نے پاکستانی فوج میں کمانڈ،
سٹاف اور ادارہ جاتی سطح کے متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔جنرل عامر رضا فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی سے قبل جنرل ہیڈ کوارٹرز میں چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے عہدوں پر بھی تعینات رہے ہیں اور جی او سی انفنٹری ڈویژن کھاریاں کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں جبکہ برطانیہ سے ماسٹرز بھی کر چکے ہیں۔جنرل عامر رضا نے اپریل 2020 میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی کمان سنبھالی، جبکہ اکتوبر 2022 میں انہیںلیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔جنرل رضا کو ان کے ملٹری کریئر کے دوران ہلالِ امتیاز (ملٹری)اور ستارہ بسالت سے بھی نوازا جا چکا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عامر رضا ان 12 میجر جنرلز میں شامل تھے جنہیںاکتوبر 2022 میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی تھی،عامر رضا کور کمانڈر لاہور کے عہدے پر بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرح جنرل عامر رضا کا بھی تعلق آفیسر ٹریننگ سکول منگلا سے ہے۔گزشتہ سال نومبر میں 27ویں آئینی ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے بجائے کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا ایک نیا عہدہ متعارف کروایا گیا تھا۔27ویں آئینی ترمیم ذریعے فوجی کمان کے نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں اور ملک کے جوہری و تزویراتی اثاثوں کی نگرانی کی ذمہ داری جو پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے پاس تھی اس نئے عہدے کو منتقل کر دی گئی تھی۔اسی قانون سازی کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا تھا۔اس عہدے کا بنیادی تعلق پاکستان کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی نگرانی اور کمان سے ہے۔اس عہدے پر رہتے ہوئے جنرل عامر رضا ایک بااختیار سربراہ ہوں گے جو جوہری اثاثوں کی دیکھ بھال کر رہے ہوں گے اور فوج کو جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔قانون کے مطابق کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ جنرل کے رینک کے مساوی ہے اور اس کی ابتدائی مدت ملازمت تین سال ہوگی۔27ویں آئینی ترمیم کے مطابق اس عہدے پر تقرری وزیراعظم کرتے ہیں تاہم اس کے لیے چیف آف آرمی سٹاف جو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہیں کی سفارش لازمی ہو گی اور قانون کے مطابق اس عہدے پر تقرری پاکستانی فوج کے حاضر سروس جنرلز میں سے کی جاتی ہے۔قانون کے تحت کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی ملازمت کی شرائط، مراعات اور اختیارات کا تعین بھی وزیراعظم کریں گے۔
نئی قانون سازی میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی تھی کہ قومی سلامتی کے تقاضوں یا ہنگامی حالات کے پیش نظر وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر عہدے دار کو مزید تین سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکتا ہے یا اس کی مدت ملازمت میں تین سال تک توسیع دے سکتے ہیں۔کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری، مدت ملازمت میں توسیع یا تقرر کرنے والی اتھارٹی کے صوابدیدی اختیار کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔



















































