اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے نیشنل امیگریشن پالیسی 2026 کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے،
جس کا بنیادی مقصد بیرونِ ملک روزگار یا دیگر مقاصد کے لیے جانے والے پاکستانیوں کو محفوظ، منظم اور باوقار انداز میں سہولت فراہم کرنا، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنا ہے۔اسلام آباد میں پالیسی کی رونمائی کے موقع پر وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے کہا کہ یہ اقدام بیرونِ ملک مقیم اور جانے والے پاکستانیوں کے ساتھ حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی لیبر مارکیٹ میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور ہنر مند افرادی قوت کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے پاکستان کو بھی اپنی ورک فورس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نئی امیگریشن پالیسی کے ذریعے پاکستانی افرادی قوت کی مہارتوں کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ وہ عالمی منڈی میں بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک ملازمت اختیار کرنے والے شہریوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کو بھی ترجیح دی جائے گی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، جو نہ صرف ملک کا مثبت تشخص اجاگر کر رہے ہیں بلکہ قومی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اوورسیز پاکستانیوں نے 41 ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجیں، جو ملکی معیشت کے استحکام میں اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہیں۔چوہدری سالک حسین کے مطابق حکومت اس نئی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری، بیرونِ ملک روزگار کے بہتر مواقع تک رسائی اور اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید مضبوط بنائے گی۔



















































