بدھ‬‮ ، 08 جولائی‬‮ 2026 

وراثت

datetime 9  جولائی  2026
بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور تاجر تھا‘ اس نے بے تحاشا پیسہ کمایا اور آخر میں دل کے عارضے کی وجہ سے فوت ہو گیا‘ والد کی جائیداد زیادہ تھی لہٰذا دونوں بھائیوں کے درمیان پھڈا ہو گیا‘ بڑے بھائی نے والد کی زمین‘ گھر اور حجرے پر قبضہ کر لیا جب کہ چھوٹا بھائی دکانوں پر قابض ہو کر بیٹھ گیا‘ یہ تنازع آہستہ آہستہ کورٹ کچہری اور دنگا فساد تک چلا گیا اور دونوں بھائی دس بارہ سال تک ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے‘ چھوٹا خان شہر میں رہتا تھا‘ وہ ایک دن اپنی بیگم‘ بیٹی اور بیٹے کے ساتھ کہیں جا رہا تھا‘ راستے میں خانہ بدوشوں نے خربوزوں کی ڈھیری لگائی ہوئی تھی اور دس بارہ سال کی ایک خانہ بدوش لڑکی ڈھیری پر کھڑی ہو کر خربوزے بیچ رہی تھی‘ چھوٹے خان کی بیٹی خربوزہ کھانے کی ضد کرنے لگی چناں چہ اس نے اپنی گاڑی خربوزوں کی ڈھیری کے ساتھ کھڑی کر دی‘ بھائی کی بیگم کنجوس تھی‘ اس نے ایک خربوزہ خریدا اور خانہ بدوش بچی کے ساتھ بھائو تائو شروع کر دیا‘ بچی خربوزے کے دس روپے مانگ رہی تھی جب کہ بیگم پانچ روپے سے زیادہ دینے کے لیے تیار نہیں تھی‘ بہرحال دس منٹ کی تکرار کے بعد چھ روپے میں سودا ہو گیا‘ خانہ بدوش بچی جب چھ روپے لے کر جانے لگی تو چھوٹے خان کے بیٹے نے بھی خربوزہ مانگ لیا‘ بیگم نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور خانہ بدوش لڑکی سے کہا ’’اے لڑکی بھائی کو بھی ایک خربوزہ دے دو‘‘ لڑکی دوڑتی ہوئی گئی‘ ایک خربوزہ اٹھایا اور گاڑی کی طرف واپس دوڑ لگا دی‘ سڑک کے قریب اینٹ پڑی تھی‘ اس کا پائوں ٹکرایا‘ وہ گری‘ خربوزہ اس کے ہاتھ سے نکل کر زمین پر گرا اور ٹوٹ گیا‘ بچی اٹھ کر واپس دوڑی اور دوسرا خربوزہ اٹھا کر لے آئی‘ بیگم نے لڑکی سے کہا ’’میں تمہیں زمین پر گرنے والے خربوزے کے پیسے نہیں دوں گی‘ وہ تمہاری غلطی تھی‘‘ خانہ بدوش لڑکی نے ہنس کر کہا ’’میں آپ سے دونوں خربوزوں کے پیسے نہیں لے رہی‘‘ بیگم نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیوں؟‘‘ لڑکی نے ہنس کر جواب دیا ’’آپ نے کہا تھا بھائی کو بھی ایک خربوزہ دے دو‘ آپ نے اسے میرا بھائی کہہ دیا‘ میری ماں نے مجھے وصیت کی تھی بھائیوں کے ساتھ کبھی حساب نہیں کرنا‘ ان سے کبھی سودا نہیں کرنا‘
آپ کا بیٹا آپ کے کہنے کے بعد میرا بھائی بن گیا‘ میں اب اس سے سودا کیسے کر سکتی ہوں‘ اس سے حساب کیسے مانگ سکتی ہوں چناں چہ دونوں خربوزے میری طرف سے میرے بھائی کے لیے تحفہ سمجھ کر قبول کریں‘‘ یہ بات سیدھی بیگم اور خان کے دل میں لگی‘ بیگم نے رونا شروع کر دیا اور نیچے اتر کر اپنا پرس لڑکی کی جھولی میں الٹ دیا‘ بیگم روتی جاتی تھی اور خانہ بدوش لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیرتی جاتی تھی‘ اس نے آخر میں اپنی چوڑیاں اور کانوں کے بندے بھی اتار کر لڑکی کے ہاتھوں میں دے دیے‘لڑکی انکار کرتی رہی لیکن بیگم صاحبہ اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر کے گاڑی میں واپس آئی‘ چھوٹا خان بھی اس دوران اپنا سر سٹیئرنگ پر رکھ کر رو رہا تھا‘ بیگم اس کا دکھ سمجھ رہی تھی‘ اس بے وقوف نے اپنے بھائی کے ساتھ حساب میں دس بارہ سال ضائع کر دیے تھے بہرحال وہ لوگ آگے روانہ ہوئے‘ تھوڑی دور جا کر خان نے گاڑی روکی‘ فون اٹھایا اور اپنے بڑے بھائی کو فون کر دیا‘ بڑا بھائی پریشان ہو گیا‘ چھوٹے بھائی نے بس ایک فقرہ کہا‘ بھائی میں آپ کی تقسیم پر راضی ہوں‘ آپ جو مناسب سمجھتے ہیں آپ کر دیں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں‘ میں اپنا دعویٰ اور کیس دونوں واپس لے رہا ہوں‘ بڑے بھائی نے پریشان ہو کر پوچھا ’’تمہاری طبیعت ٹھیک ہے‘ کیا ہوا تمہیں‘‘ چھوٹے بھائی نے ساری بات سنائی اور کہا’’ ہم کتنے بے وقوف ہیں‘ ہم یہ موٹی سی بات نہیں سمجھ سکے کہ بھائیوں کے ساتھ حساب نہیں کیا جاتا‘ وہ خانہ بدوش لڑکی ہم خانوں سے کتنی زیادہ سمجھ دار تھی‘ میں آپ سے پائوں پکڑ کر معافی مانگنے کے لیے سیدھا آپ کے پاس آ رہا ہوں‘‘ بڑے بھائی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے‘ وہ بھی دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ میں نے یہ واقعہ ایک پشتون بھائی کے کلپ میں سنا‘ آج کے زمانے میں یوٹیوب‘ ٹک ٹاک اور انسٹا گرام انفارمیشن اور نالج کا سب سے بڑا سورس ہیں بس یہ احتیاط ضروری ہے آپ اچھی ریلز دیکھیں ورنہ سوشل میڈیا آپ کا سارا دن برباد کر دیتا ہے‘ بہرحال اس ریل نے ہماری زندگی کی بہت بڑی حقیقت آشکار کر دی‘ میں نے زندگی میں ایسے درجنوں کیس دیکھے‘ مثلاً ہمارے سینئر اور استاد ہوتے تھے عباس اطہر‘ شاہ صاحب بہت ہی شان دار اور درویش صفت انسان تھے لیکن ان سے دو غلطیاں ہو گئیں‘ انہوں نے بڑھاپے میں جوان لڑکی سے شادی کر لی‘ اس خاتون نے شاہ صاحب کے انتقال کے بعد ان کے گن مین سے شادی کر لی اور شاہ صاحب کے شاگردوں اور جاننے والوں سے پیسے مانگنے لگی‘ دوسرا اس نے جائیداد کا پھڈا بھی شروع کر دیا چناں چہ خاندان رل کر رہ گیا‘ دوسرا شاہ صاحب کے بچے نکمے نکلے‘ وہ عمر میں بڑے تھے مگر پوری زندگی والد انہیں پالتا رہا‘شاہ صاحب آخر میں ہسپتال میں علیل تھے‘ میرے ایک دوست عیادت کے لیے وہاں موجود تھے‘ اس کے سامنے ان کا بیٹا آیا اور نہایت بدتمیزی سے شاہ صاحب سے چیک بک پر سائن کرا لیے‘ وہ جاتے جاتے سر پر پیچ کس کا سائن بھی بناتا رہا جس کے ذریعے وہ وہاں موجود لوگوں کو یہ پیغام دے رہا تھا ہمارے والد کا دماغی توازن خراب ہو چکا ہے‘میرے دوست نے یہ واقعہ مجھے سنایا تو ہم دیر تک افسوس کرتے رہے۔ اسلام آباد میں میرے ایک اور جاننے والے تھے‘ وہ ٹھیکے دار تھے اور کھرب پتی تھے‘ وہ فوت ہوئے تو میں ہفتے بعد تعزیت کے لیے ان کے گھر گیا‘ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی‘ وہ تینوں جائیداد کی تقسیم پر لڑ رہے تھے جب کہ ماں ویل چیئر پر سر نیچے کر کے آنسو بہا رہی تھی‘ میں وہاں دس پندرہ منٹ بیٹھا رہا لیکن ان میں سے کوئی دعا کے لیے میرے پاس نہیں آیا لہٰذا میں نے مجبوراً خود ہی ہاتھ اٹھائے‘ دعا کی اور چپ چاپ واپس آ گیا‘ میں راستہ بھر سوچتا رہا‘ مرحوم پوری زندگی اس اولاد کے لیے جمع کرتا رہا جو اس کی تعزیت پر بھی اکٹھی نہیں ہو رہی‘ میرے والد کے ایک جاننے والے تھے‘ وہ بھی بہت خوش حال تھے اور پوری زندگی اپنی اولاد کے لیے اکٹھا کرتے رہے لیکن پھر کیا ہوا‘ بڑے بیٹے نے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کو نکال کر جائیداد پر قبضہ کر لیا‘ والدین تڑپ تڑپ کر مر گئے اور ان کے بعد اب اولاد جائیداد کے لیے کورٹ کچہریوں میں دھکے کھا رہی ہے‘ سہگل پاکستان کی بڑی بزنس فیملی تھی‘ مجھے نعیم بخاری نے بتایا جب ان کے والد یوسف سہگل کا انتقال ہوا تو بیٹے قبرستان میں ایک دوسرے سے لڑ پڑے ‘ انہوں نے والد کی تدفین کا بھی انتظار نہیں کیا تھا‘ مجھے اسی طرح ایک صاحب نے بتایا ’’ہمارے والد کا انتقال ہوا‘ میں جب قبرستان میں والد کی تدفین میں مصروف تھا تو میرا بھائی میت چھوڑ کر گھر آیا‘ والد کی الماری توڑی اور جائیداد کے کاغذات‘ رقم‘ انگوٹھیاں اور گھڑیاں لے کر غائب ہو گیا‘ یہ ہمیں آج تک کاغذات نہیں دے رہا‘‘ اسی طرح میرے پاس ایک اور صاحب آئے اور انہوں نے بڑی ہول ناک کہانی سنائی‘ ان کے بقول میں بیمار تھا‘ مجھے دو ماہ ہسپتال میں رہنا پڑ گیا‘ میں جب واپس آیا تو میرے پاس ایک پٹھان آ گیا اور مجھ سے پچاس لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کرنے لگا‘ میں اس رقم کے بارے میں بالکل نہیں جانتا تھا‘ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا‘ آپ جب ہسپتال میں تھے تو آپ کے بیٹے نے ہم سے چالیس لاکھ روپے قرض لیا‘ اس کا کہنا تھا میرا والد ہسپتال میں پڑا ہے‘ یہ مرنے والا ہے‘ یہ جوں ہی فوت ہو گا میں جائیداد بیچ کر سود سمیت آپ کا قرض ادا کر دوں گا‘ ہم دو ماہ آپ کے مرنے کا انتظار کرتے رہے لیکن آپ بچ گئے جس کے بعد آپ کا بیٹا غائب ہے‘ یہ رقم اب آپ کو ادا کرنا ہو گی‘ میں نے ان سے کہا ’’میں اگر بیماری سے بچ گیا ہوں تو کیا یہ میرا جرم ہے؟‘‘۔ پٹھان نے ہنس کو جواب دیا ’’یہ آپ کو بچنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا‘ اب آپ اگر بچ گئے ہیں تو آپ کو قرض تو ادا کرنا پڑے گا‘‘ وہ صاحب یہ بتانے کے بعد رو پڑے اور بار بار یہ کہہ رہے تھے ’’آپ دیکھیں جاوید صاحب میرے سگے بیٹے نے میری موت کی امید پر سود پر قرض لے لیا تھا‘‘۔ لاہور کے ایک بزرگ ہمارے سیشنز میں آتے ہیں‘ ان کی کہانی بھی بہت درد ناک ہے‘ یہ اربوں روپے کی جائیداد کے مالک ہیں لیکن کمرے کی کنڈی لگا کر سوتے ہیں کیوں کہ انہیں خطرہ ہے ان کا واحد بیٹا جائیداد کے لیے انہیں کسی بھی وقت قتل کر دے گا‘ مجھے اسی طرح کوئی صاحب اوکاڑہ سے فون کیا کرتے تھے‘ وہ سابق صحافی تھے‘ امریکا گئے‘ واپس آئے تو ان کی جائیداد پر بیٹا قابض ہو چکا تھا‘ وہ اس کے بعد جائیداد کے لیے کبھی اس دفتر دھکے کھاتے رہے اور کبھی اس دفتر‘ پولیس اور لوکل انتظامیہ ان کا مسئلہ سمجھتی تھی لیکن غلطی ان کی اپنی تھی‘ وہ امریکا جانے سے قبل اپنے بیٹے کو پاور آف اٹارنی دے گئے تھے اور بیٹے نے اس کا فائدہ اٹھا کر ان کی جائیداد اپنے دوست کے نام منتقل کر دی تھی یوں وہ بے چارے بیٹے کے خلاف درخواستیں دے دے کر دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن آپ خدا کی کرنی دیکھیے‘ والد کے انتقال کے بعد بیٹے کے دوست نے جائیداد واپس کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد اب بیٹا دفتروں میں دھکے کھا رہا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو والدین کی موجودگی میں جائیداد کے لیے لڑ رہے تھے جب کہ والدین کے بعد اولاد کے درمیان تقسیم کیا کیا رنگ دکھاتی ہے وہ گھر گھر کی کہانی ہے‘ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی والدین کے انتقال کے بعد وارث وراثت تقسیم کرتے ہیں یا پھر وراثت وارثوں کو تقسیم کرتی ہے‘ ہمارے نوے فیصد کیسز میں وراثت وارثوں کو تقسیم کرتی ہے اور تقسیم کے عمل کے دوران رشتے اور احساس دونوں ختم ہو جاتے ہیں‘ ہم اگر اس تقسیم سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین فارمولا خانہ بدوش لڑکی نے دیاتھا ’’بھائیوں کے ساتھ سودا بازی ہو سکتی ہے اور نہ حساب‘‘ آپ یہ کر کے دیکھیں آپ کے رشتے بھی بچ جائیں گے اورآپ بھی۔

موضوعات:



کالم



وراثت


بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…