اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی ادائیگی اور انویسٹ پاک اسکیم سے متعلق نئے ضوابط جاری کر دیے ہیں،
جن کے بعد بڑی رقوم رکھنے والے کھاتہ داروں کے لیے سابقہ سہولتیں محدود ہو جائیں گی۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق اب بینکوں پر یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے کہ وہ ایک کروڑ روپے یا اس سے زیادہ بیلنس والے سیونگ اکاؤنٹس پر لازمی یا گارنٹی شدہ منافع ادا کریں۔ اس تبدیلی سے بینکوں کو منافع کی شرح مقرر کرنے میں زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔البتہ جن صارفین کے سیونگ اکاؤنٹس میں ایک کروڑ روپے سے کم رقم موجود ہے، ان کے لیے کم از کم منافع کی مقررہ شرح برقرار رہے گی اور بینک اس سے کم منافع دینے کے مجاز نہیں ہوں گے۔اسٹیٹ بینک نے ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے بڑے سرمایہ کاروں کو انویسٹ پاک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی اجازت بھی دے دی ہے۔
اس سہولت کے تحت سرمایہ کار بینکوں کو درمیان سے نکال کر حکومت کی سرمایہ کاری اسکیموں میں براہِ راست حصہ لے سکیں گے۔مالیاتی ماہرین کے مطابق نئی پالیسی سے بینکوں کے فنڈز کی لاگت میں کمی آئے گی اور ان کے منافع میں اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بڑے سرمایہ کار اپنی رقوم بینکوں میں رکھنے کے بجائے اسٹاک مارکیٹ، حکومتی سیکیورٹیز اور دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع کا رخ کریں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انویسٹ پاک کے ذریعے حکومتی سیکیورٹیز میں براہِ راست سرمایہ کاری سرمایہ کاروں کو نسبتاً بہتر منافع فراہم کر سکتی ہے، جبکہ حکومت کو بھی قرض کے متبادل ذرائع میسر آئیں گے۔



















































