بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بینکوں میں بھاری رقوم رکھنے والوں کیلئے بری خبر

datetime 8  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی ادائیگی اور انویسٹ پاک اسکیم سے متعلق نئے ضوابط جاری کر دیے ہیں،

جن کے بعد بڑی رقوم رکھنے والے کھاتہ داروں کے لیے سابقہ سہولتیں محدود ہو جائیں گی۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق اب بینکوں پر یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے کہ وہ ایک کروڑ روپے یا اس سے زیادہ بیلنس والے سیونگ اکاؤنٹس پر لازمی یا گارنٹی شدہ منافع ادا کریں۔ اس تبدیلی سے بینکوں کو منافع کی شرح مقرر کرنے میں زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔البتہ جن صارفین کے سیونگ اکاؤنٹس میں ایک کروڑ روپے سے کم رقم موجود ہے، ان کے لیے کم از کم منافع کی مقررہ شرح برقرار رہے گی اور بینک اس سے کم منافع دینے کے مجاز نہیں ہوں گے۔اسٹیٹ بینک نے ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے بڑے سرمایہ کاروں کو انویسٹ پاک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی اجازت بھی دے دی ہے۔

اس سہولت کے تحت سرمایہ کار بینکوں کو درمیان سے نکال کر حکومت کی سرمایہ کاری اسکیموں میں براہِ راست حصہ لے سکیں گے۔مالیاتی ماہرین کے مطابق نئی پالیسی سے بینکوں کے فنڈز کی لاگت میں کمی آئے گی اور ان کے منافع میں اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بڑے سرمایہ کار اپنی رقوم بینکوں میں رکھنے کے بجائے اسٹاک مارکیٹ، حکومتی سیکیورٹیز اور دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع کا رخ کریں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انویسٹ پاک کے ذریعے حکومتی سیکیورٹیز میں براہِ راست سرمایہ کاری سرمایہ کاروں کو نسبتاً بہتر منافع فراہم کر سکتی ہے، جبکہ حکومت کو بھی قرض کے متبادل ذرائع میسر آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…