اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں پیش آنے والے ایک قتل کے مقدمے نے خاندانی تعلقات سے متعلق کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
چنئی میں ایک 28 سالہ خاتون کے خلاف اپنے سسر کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، تاہم پولیس نے ابتدائی مرحلے پر انہیں گرفتار نہیں کیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ یکم جولائی کو پیش آیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قدم اپنی جان اور عزت کے تحفظ کے لیے انتہائی مجبوری کی حالت میں اٹھایا۔
ابتدائی بیان میں خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر کا تقریباً چار ماہ قبل انتقال ہو چکا تھا، جس کے بعد وہ اپنے دو بچوں سمیت سسرال میں رہائش پذیر تھیں۔
خاتون کے مطابق شوہر کی وفات کے بعد ان کے سسر مسلسل انہیں جنسی طور پر ہراساں کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سسر گھر کے اخراجات اٹھانے کا حوالہ دے کر ان پر ناجائز تعلقات قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے۔
متاثرہ خاتون نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سسر کے رویے سے اپنی ساس کو آگاہ کیا تھا۔ ان کے بقول ساس نے اس معاملے پر اپنے شوہر سے جھگڑا بھی کیا، مگر صورتحال بہتر نہ ہونے پر گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق خاتون نے بیان دیا ہے کہ واقعے والے روز بھی سسر نے ان کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے مزاحمت کی۔ اسی دوران ہونے والی جھڑپ میں سسر جان کی بازی ہار گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق تمام شواہد جمع کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق فی الحال خاتون کو اس بنیاد پر گرفتار نہیں کیا گیا کہ انہوں نے اپنے دفاع کا مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم تفتیش مکمل ہونے اور شواہد سامنے آنے کے بعد آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق بھارتی قانون شہریوں کو اپنی جان، عزت اور جسمانی تحفظ کے لیے مناسب حد تک دفاع کا حق دیتا ہے، تاہم عدالت میں یہ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے کہ طاقت کا استعمال واقعی ناگزیر تھا اور واقعہ حقِ دفاع کے دائرے میں پیش آیا۔



















































