منگل‬‮ ، 07 جولائی‬‮ 2026 

بڑی خوشخبری: سعودیہ نے ایشیا کیلیے تیل کی قیمت 26 برس کی کم ترین سطح پر کردی

datetime 7  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ سپلائی میں بہتری آنے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں استحکام کے ساتھ نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے اگست کے لیے ایشیائی ممالک کو فراہم کیے جانے والے اپنے اہم عرب لائٹ خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی کمی کا اعلان کیا ہے۔ سعودی آرامکو نے اس خام تیل کی سرکاری فروختی قیمت علاقائی عمان اور دبئی بینچ مارک کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل رعایت پر مقرر کر دی ہے، جبکہ جولائی میں یہی خام تیل 9.50 ڈالر فی بیرل پریمیم پر فروخت کیا جا رہا تھا۔ ماہرین اس اقدام کو گزشتہ 26 برسوں کی سب سے بڑی ماہانہ قیمت میں کمی قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ خلیجی خطے سے خام تیل کی فراہمی میں اضافہ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل ٹینکرز کی معمول کے مطابق آمدورفت کی بحالی ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں سپلائی کا دباؤ کم ہوا ہے۔

چند ماہ قبل ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں بے یقینی پیدا کر دی تھی۔ اس صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ ماہرین نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ اگر یہ اہم بحری راستہ طویل عرصے تک بند رہتا تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی تھی۔

آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 سے 25 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ جنگی حالات میں سعودی عرب، عراق، کویت اور دیگر خلیجی ممالک کو اپنی برآمدات متبادل راستوں سے جاری رکھنا پڑیں، جبکہ متعدد تیل بردار جہازوں نے اپنے سفر بھی روک دیے تھے۔

اب جنگ بندی کے بعد خلیجی ممالک کی برآمدات دوبارہ معمول پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی راس تنورہ بندرگاہ سے خام تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے والی سطح تک پہنچ چکی ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں پیداوار بھی بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب اوپیک پلس نے بھی اگست سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس سے عالمی منڈی میں مزید رسد آنے کی توقع ہے۔ اسی بڑھتی ہوئی سپلائی کے پیش نظر سعودی عرب نے ایشیائی خریداروں کے لیے قیمتوں میں نمایاں کمی کر کے اپنی مارکیٹ شیئر برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان، چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اگر خام تیل کے نرخ موجودہ سطح پر برقرار رہے تو آئندہ مہینوں میں درآمدی ایندھن کی لاگت کم ہونے کے ساتھ مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔

فی الحال عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل تقریباً 72 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 69 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جو حالیہ جنگی کشیدگی کے دوران ریکارڈ ہونے والی بلند ترین قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم سطح ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ووزی ناں (Vozinha)


وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…