بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

اواتار مائونٹین

datetime 25  جون‬‮  2026
اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی گئی اور اس نے ریکارڈ قائم کر دیا‘ یہ فلم جیمز کیمرون نے بنائی تھی‘ باکس آفس میں تین بلین ڈالر کا بزنس کر کے یہ سینما کی تاریخ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی‘ اواتار کا پلاٹ 2154ء کے سائنسی تجربے گرد گھومتا ہے‘ فلم میں دکھایا گیا 22ویں صدی میں زمین کے قدرتی وسائل ختم ہو گئے ہیں اور انسانوں کے لیے یہاں زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ‘ سائنس دانوں کو پھر اچانک زمین کے قریب پنڈورا نام کا انتہائی سرسبز‘ خوب صورت اور کیمیائی مادوں سے پاک چاند مل جاتا ہے جس پر ناوی (Navi) نام کی خلائی مخلوق رہتی ہے‘ چاند پر انتہائی قیمتی اور کم یاب دھات انوٹینیم (Unobtanium) بھی موجود ہے‘ ناوی دس فٹ کے نیلے رنگ کی مخلوق ہیں‘ نیچرل زندگی گزارتے ہیں‘ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے روحانی لحاظ سے بہت مضبوط لوگ ہیں‘ پنڈورا بہت خوب صورت ہے لیکن انسان وہاں سروائیو نہیں کر سکتے چناں چہ سائنس دان لیبارٹری میں انسانی ڈی این اے سے اواتار بناتے ہیں‘ یہ شکل سے ناوی لگتے ہیں لیکن اندر سے انسان ہیں‘ ان ناوی نما انسانوں کو پنڈورا پر اتار دیا جاتا ہے اور اس کے بعد ایک نئی کہانی شروع ہو جاتی ہے‘ اواتار کا نوے فیصد حصہ فلم سازی کی نئی تکنیکس ایچ ایف آر (High Frame Rate) اور سی جی آئی (Computer-Generated Imagery) کے ذریعے بنایا گیا اور اس نے آگے چل کر فلم سازی کا پورا رجحان بدل دیا‘ بہرحال قصہ مختصر فلم میں پنڈورا کا وہ حصہ دکھایا گیا جس میں ناوی لوگ رہتے ہیں‘ یہ انتہا درجے کا سرسبز علاقہ ہے جس میں جنگلوں کے عین درمیان بلند چٹانیں ہیں‘ ان چٹانوں پر بھی جنگل ہیں‘ چٹانیں ستونوں کی طرح وادی کے درمیان کھڑی ہیں اور اوپر سے ان کا پیندہ دکھائی نہیں دیتا‘ وادی میں ایسے گھنے جنگل ہیں جو وادی کے کناروں تک آتے ہیں‘ فلم میں یہ جگہ اتنی خوب صورت تھی کہ لوگوں نے اسے تلاش کرنا شروع کر دیا‘ تلاش کے دوران پتا چلا یہ چین کے شہر چانگ چاچے کے نیشنل پارک کی گریٹ کینین ہے‘ سیاحوں نے اس کے بعد اس مقام کی طرف دوڑنا شروع کر دیا‘ حکومت کو پتا چلا تو اس نے علاقے کا نام ’’اواتار مائونٹین‘‘ رکھ کر سیاحتی سرگرمیاں شروع کر دیں اور یہ اس وقت چین کی بڑی سیاحتی
منزل بن چکی ہے۔ ہم فورنگ ٹائون سے اواتار مائونیٹن کی طرف روانہ ہوئے‘ یہ چانگ چاچے کے قریب ہے‘ حکومت نے اسے شان دار سڑکوں‘ وسیع پارکنگ اور شاپنگ ایریا کے ساتھ جوڑ کر ’’اپروچ ایبل‘‘بنا دیا‘ ہم نے گاڑی پارک کی اور ٹکٹ گھر پہنچ گئے‘ مشین نے اسی طرح ہماری تصویریں لیں‘ پاسپورٹ سکین کیا اور ہمیں موبائل فون پر ’’کیوآر کوڈ‘‘ بھجوا دیا‘ یہ بھی تین چار دنوں کا ٹور ہوتا ہے‘ ہمارے پاس وقت کم تھا لہٰذا ہم نے اسے آدھ دن میں بھگتانے کا فیصلہ کر لیا‘ ٹکٹ گھر سے آگے بسیں کھڑی تھیں‘ سیاح قطاروں میں کھڑے ہو کر بسوں میں سوار ہو رہے تھے‘ ہم بھی بس پر چڑھ گئے‘ ہمارا پہلا سٹاپ دنیا کی بلند ترین اوپن گلاس لفٹ تھی‘ لفٹ 326میٹر بلند ہے اور چٹان کے ساتھ بنی ہے‘ ہم لفٹ میں سوار ہو گئے‘ ڈاکٹر عثمان سعید کے مشورے سے میں شیشے کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا‘ لفٹ جوں ہی وادی کے برابر پہنچی اندر موجود تمام سیاحوں کے منہ سے ’’ہائے اور اف‘‘ کی آوازیں نکل گئیں‘ ہمارے سامنے درجنوں چٹانی ستون تھے اور ان کے سروں پر چنار اور چیڑھ کے درخت تھے‘ وہ منظر حقیقتاً دل کش تھا‘ لفٹ ویو پوائنٹ پر رک گئی‘ پہاڑ کی بلندی پر پلیٹ فارم بنا تھا‘ اس کے دائیں بائیں کھائیاں تھیں اور ان میں چٹانیں کھڑی تھیں‘ پوری وادی سبز تھی‘ پلیٹ فارم کے ساتھ ریستوران اور ٹک شاپس تھیں‘ اس کے ساتھ دوسرا بس سٹاپ تھا‘ ہم بس میں بیٹھے اور بس گھنے جنگل میں اتر گئی‘ ہمارے چاروں طرف جنگل تھا‘ یہ سفر طویل واک وے پر ختم ہوا‘ وہ جنگلی راستہ تھا‘ ہم اس پر چل پڑے‘ درمیان میں سیڑھیاں‘ سلوپس اور چڑھائیاں آتی رہیں‘ دائیں بائیں سے جنگلی پرندوں اور کیڑوں کی آوازیں آ رہی تھیں‘ ہم ان کے ساتھ سفر کرتے ہوئے کھلی جگہ پر پہنچ گئے اور پھر ہمارے سامنے اواتار مائونٹینز آ گئیں‘ اواتار فلم کی مرکزی چٹان کا نام ’’ہلا لوجا‘‘ (Halle Lujah) تھا‘ وہ علاقے کی بلند ترین اور خوب صورت ترین چٹان تھی ‘ وہ اس وقت ہمارے سامنے تھی‘ اب منظر کچھ یوں تھا‘ سیاح آدھے چاند جیسے نیم دائرہ پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں‘ ان کے سامنے پیالہ نما سبز وادی ہے اور اس وادی میں کیلوں کی طرح درجن بھر چٹانیں کھڑی ہیں‘ اوپر سے چٹانوں کی بنیاد نظر نہیں آ رہی تھی‘ چٹانوں سے سبز بیلیں لٹک رہی تھیں جب کہ سر پر بلند درخت کھڑے تھے‘ وہ مبہوت کر دینے والا منظر تھا‘ ہم پر سکتہ طاری ہو گیا اور ہم دیر تک آنکھیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتے چلے گئے۔ ہم یہ سمجھ رہے تھے ہمارا سفر مکمل ہو گیا لیکن پتا چلا یہ آغاز ہے‘ سفر تو ابھی باقی ہے لہٰذا ہم چل پڑے‘ وادی کے ساتھ ساتھ واک وے تھا اور اس پر ہر آدھ کلو میٹر بعد کوئی ویو ڈیک آ جاتا تھا‘ چٹانوں کا ویو وہاں سے بھی دکھائی دیتا تھا‘ یہ ہلا لوجا کے مختلف اینگل تھے‘ ماہرین کے مطابق یہ چٹانیں 380 ملین سال قبل بنی تھیں‘ یہ علاقہ اس زمانے میں زیر آب تھا‘ پانی اور چونے کے پتھر نے انہیں تشکیل دیا اور آخر میں ان کے سروں پر لوہے کی تہیں چڑھ گئیں‘ کروڑوں سال کے سفر کے بعد پانی اتر گیا اور پوری وادی ظاہر ہو گئی اور پھر 2009ء میں اواتار فلم بنی اور قدرت کا یہ شاہ کار دنیا کے سامنے آ گیا‘ یہ واقعی دیکھنے لائق تھا تاہم جنگل میں چڑھائی اور پیدل چلنا مشکل تھا‘ اس کے لیے فٹنس ضروری ہے‘ میں نے وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اس نے مجھے ہمت اور مہلت دی اور میں ان دشوار گزار جگہوں پر آسانی سے چل اور چڑھ سکتا ہوں‘ وہ پانچ کلومیٹر کی واک تھی جس کے آخر میں دو چٹانوں کے درمیان پل تھا‘ یہ آسمان کے نیچے دنیا کا پہلا پل ہے‘ دنیا میں اس بلندی پر کوئی دوسرا پل موجود نہیں‘یہ ’’فرسٹ برج انڈر دی ہیون‘‘ کہلاتا ہے‘ اس کے دائیں بائیں خوف ناک کھائیاں تھیں‘ نیچے دیکھنے سے دل میں ہول اٹھتا تھا‘ اس کے بعد ایک اور پل تھا جسے ’’فرسٹ برج آف لو‘‘ یعنی محبت کے پہلا پل کا نام دیا گیا تھا‘ یہ اس ریجن کی چھوٹی لیکن سب سے اونچی پہاڑی تھی جس کے گرد چٹانیں کاٹ کے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں‘ سیڑھی کے جنگلوں کے ساتھ کروڑوں کی تعداد میں سرخ ربن بندے ہوئے تھے‘ چین میں پرانی روایت ہے لوگ سرخ ربن پر اپنے محبوب کا نام لکھ کر پہاڑیوں پر درختوں کے ساتھ لٹکا دیتے ہیں‘ان کا خیال ہے یہ ربن جب تک قائم رہے گا اس وقت تک ان کے درمیان محبت موجود رہے گی‘ یہ روایت اس پہاڑ پر پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر تھی‘ اس کی وجہ سے وہ پہاڑی دور سے سرخ دکھائی دیتی تھی‘ میرا خیال تھا اگر چاند سے زمین کی طرف دیکھا جائے تو پوری زمین پر صرف ایک جگہ دل کی طرح سرخ دکھائی دے گی اور وہ یہ پہاڑی ہو گی‘ وہ پہاڑی واقعی شان دار تھی‘ میں اس پر پہنچا اور عاشقوں کے کروڑوں ربنوں کے درمیان کھڑے ہو کر لمبے لمبے سانس لیے‘ آسمان سے ہلکی ہلکی بارش برس رہی تھی‘ بارش اس وادی کی روٹین ہے‘ دائیں بائیں گھنے جنگل ہیں چناں چہ وہاں ہر وقت ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہتی ہے‘ چٹانی ستون اس قدر اونچے ہیں کہ ہمیں گہرائی میں بادل نظر آ رہے تھے گویا ہم بادلوں سے اوپر تھے‘ وہ منظر اف خدایا دل کی دیواروں پر نقش ہو کر رہ گیا۔ (نوٹ: ان مناظر کی تصاویر کالم کے آخر میں ملاحظہ کریں)۔ اواتار مائونٹین پر چار دل چسپ تجربے ہوئے‘ ایک‘ یہ طویل پارک ہے‘ یہ ایک دن میں کور نہیں ہو سکتا‘ اس کے مختلف سیکشنز ہیں اور ان میں مختلف سرگرمیاں ہیں‘ مثلاً اس کی اپنی آب شاریں‘ ندیاں اور دریا ہیں‘ لوگ انہیں بھی انجوائے کرتے ہیں‘ اس کے اپنے غار اور ٹریکس ہیں‘ ان پر بھی ہر وقت رش رہتا ہے‘ دوسرا پورا پارک کیمروں کے ساتھ منسلک ہے‘ کوئی ایسا کونا نہیں جس پر کیمرہ نہ ہو اور وہ جگہ انتظامیہ کی آنکھ سے اوجھل ہو‘ فضا میں ڈرونز کے ذریعے بھی سیاحوں کی نگرانی کی جارہی تھی‘ چین کا یہ بہت بڑا کمال ہے‘ تیسرا پہاڑ کی انتہائی بلندی پر تمام سہولتیں موجود تھیں‘ بجلی بھی تھی اور ریستوران‘ کافی شاپس ‘ ٹک شاپس ‘ واش رومز اور ایمرجنسی سہولتیں بھی‘ بزرگوں کے لیے بھی بندوبست تھا‘ بوڑھے لوگ بس پر وہاں تک آتے تھے اور پھر انہیں ڈولی میں بٹھا کر دو پوٹر کندھے پر اٹھا کر پورے پارک کا چکر لگوا دیتے تھے‘ اس قسم کی ڈولی پرانے زمانے میں دولہنوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی یا امیر گھرانوں کی پردہ دار خواتین ایک گھر سے دوسرے گھر میں جانے کے لیے اسے استعمال کرتی تھیں اور چوتھا چین کی سیاحت کے معاملے میں بڑی دل چسپ فلاسفی ہے‘ یہ اپنے ہر سیاحتی مقام کاابتدائی اور آخری مقام بہت دل چسپ اور شان دار بناتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں کسی بھی کام اور جگہ کا سٹارٹ اور پھر اینڈ اچھا ہونا چاہیے‘ ہمیں ان کی یہ فلاسفی ہر جگہ دکھائی دی‘ اواتار مائونٹینز کا اینڈ بھی بہت دل چسپ تھا‘ سفر کا آخر کیبل کار پر ہوا‘ یہ دنیا کی بلند ترین کیبل کار تھی‘ سیاح اس میں بیٹھ گئے اور یہ اواتار چٹانوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی ہزاروں فٹ نیچے آئی‘ وہ سفر بھی کمال تھا‘ کیبل کار جوں جوں نیچے آ رہی تھی‘ ہمارا دل بیٹھتا چلا جا رہا تھا‘یہ آخری سٹیشن پر پہنچی تو سانس میں سانس آئی۔ ہم نے آٹھ گھنٹے اواتار مائونٹینز میں گزارے لیکن ہم اس کے باوجود قدرتی پارک کا صرف دس فیصد حصہ دیکھ سکے لیکن یہ دس فیصد بھی کافی تھا‘ کیبل کار کے آخر میں ہم نے دوبارہ بس لی‘ یہ ہمارے دن کا طویل ترین بس ٹور تھا‘ وہ ہمیں پندرہ منٹ میں نیچے پارکنگ تک لے کر آئی‘ میری ٹورازم انڈسٹری کے منتظمین سے درخواست ہے آپ ایک بار چانگ چاچے کے پارکس کی سیر ضرور کریں‘ ہو سکتا ہے آپ کے دماغ کی کھڑکیاں کھل جائیں اور آپ بھی پاکستان میں کوئی ایسا پراجیکٹ شروع کر دیں جس سے مقامی لوگوں کی حالت بھی بدل جائے اور عام لوگوں کو بھی سستی اور اچھی تفریح مل جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…