اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مارکیٹ میں دستیاب کئی اہم غذائی مصنوعات کے معیار پر تشویش ناک انکشافات سامنے آئے ہیں،
جہاں بناسپتی گھی، ریفائنڈ پام آئل اور پیک شدہ دودھ کے متعدد نمونے مقررہ قومی معیار پر پورے نہیں اتر سکے۔وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر سے حاصل کیے گئے بناسپتی گھی، خوردنی تیل اور پیک شدہ دودھ سمیت مختلف غذائی اشیا کے مجموعی طور پر 491 نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے۔ پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) میں ہونے والی جانچ کے دوران 176 نمونے مقررہ معیار کے مطابق نہیں پائے گئے، جبکہ 315 نمونے قومی معیارات پر پورے اترے۔رپورٹ کے مطابق بناسپتی گھی کے 204 نمونوں میں سے 98، یعنی تقریباً 48 فیصد، معیار پر پورے نہیں اترے۔ اسی طرح ریفائنڈ پام آئل کے 4 میں سے 3 نمونے غیر معیاری قرار دیے گئے، جبکہ پیک شدہ مائع دودھ کے 104 نمونوں میں سے 26 مطلوبہ معیار حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 146 نمونوں میں سے 40 معیار سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ملک پاؤڈر کے 18 میں سے 8 اور ریفائنڈ کینولا آئل کے 13 میں سے ایک نمونہ بھی مقررہ معیار پر پورا نہ اتر سکا۔حکام کے مطابق بعض نمونوں میں غذائی معیار سے متعلق نمایاں خامیاں سامنے آئیں۔ ایک مثال میں دودھ میں ملک فیٹ کی مطلوبہ کم از کم مقدار 3.5 فیصد کے بجائے صرف 0.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پیک شدہ دودھ کے نمونے عمومی طور پر معیار کے مطابق تھے، جبکہ بعض کم معروف مقامی برانڈز میں سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی۔یہ تفصیلات نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئیں، جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔ لیبارٹری ٹیسٹنگ وفاقی وزیر کی ہدایت پر کی گئی تھی جبکہ حتمی رپورٹ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے تیار کی۔اجلاس کے دوران غذائی اشیا کے معیار اور عوامی صحت سے متعلق صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ خوراک کا معیار اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اسے قومی اہمیت کے معاملے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق شہریوں کو محفوظ، صحت بخش اور قومی معیار کے مطابق خوراک فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔وفاقی وزیر نے صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ فوڈ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی کہ کھلے گھی، خوردنی تیل اور دودھ کے معیار کا بھی ملک گیر سائنسی سروے کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں کی جانے والی لیبارٹری جانچ میں غیر پیک شدہ مصنوعات شامل نہیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ اس سروے کے ذریعے مختلف علاقوں میں فروخت ہونے والی کھلی غذائی مصنوعات کے معیار کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ملاوٹ اور غیر معیاری اشیا کی وجوہات بھی معلوم کی جائیں۔ متعلقہ اداروں کو فوڈ سیفٹی کے نظام، ریگولیٹری نگرانی اور صارفین کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی تجاویز تیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
لیبارٹری نتائج کا تفصیلی اور سائنسی جائزہ لینے کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی، پی سی ایس آئی آر اور پی ایس کیو سی اے کے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی تکنیکی ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی شواہد کی بنیاد پر آئندہ کے لیے ریگولیٹری اور پالیسی اقدامات تجویز کرے گی۔دوسری جانب اجلاس میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جولائی 2026 کی مہنگائی سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔ حکام کے مطابق اس ماہ مجموعی افراطِ زر کی شرح کم ہو کر 9.2 فیصد رہی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ قدرتی گیس مہنگائی میں اضافے کا اہم سبب بنی، جبکہ ہاؤسنگ، گندم کا آٹا، تازہ دودھ اور پیٹرول کی قیمتوں نے بھی مجموعی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھا۔ دوسری جانب چینی، آلو اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں کمی نے مہنگائی کی شرح کو کسی حد تک قابو میں رکھنے میں مدد دی۔اجلاس میں مختلف شہروں کی ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹوں میں قیمتوں کے نمایاں فرق کا بھی جائزہ لیا گیا۔ احسن اقبال نے صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ قیمتوں میں اس فرق کی وجوہات معلوم کی جائیں، مارکیٹ میں شفافیت بہتر بنائی جائے اور ضروری اشیا صارفین کو مناسب اور منصفانہ نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔



















































