منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت

datetime 8  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کے ردعمل میں بھارت کی جانب سے اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کرنے کی درخواست سے متعلق وائرل دعوے کو جعلی خبر قرار دے کر مسترد کردیا۔

انڈین میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترک میڈیا ادارے اسٹریٹورکا کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی، جسے بعد ازاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا، رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے حقائق کی جانچ کرنے والے شعبے نے مذکورہ رپورٹ کا عکس شیئر کرتے ہوئے اسے واضح طور پر ’جعلی خبر‘ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے اسرائیل سے ایسے کسی دفاعی معاہدے کی درخواست کیے جانے کا دعویٰ درست نہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے پر بھی بھارت کے مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، بھارت اس پیش رفت کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے اور اس حوالے سے میڈیا کو مزید معلومات سے آگاہ کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب کی جانب سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…