جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی

datetime 8  اگست‬‮  2026 |

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کے انتظام کے لیے کمرشل بینکوں پر نئے قواعد نافذ کر دیے ہیں۔ مرکزی بینک   کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے تحت تمام بینکوں کو فروخت ہونے والے بانڈز کی رقم اسی روز کلیئر اور سیٹل کرنا ہوگی۔

اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں بینکوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ پریمیم پرائز بانڈز سے متعلق تمام لین دین کی معلومات مقررہ وقت کے اندر فراہم کریں۔ نئی پالیسی کے مطابق فروخت کی تفصیلات ڈیٹا ایکوزیشن پورٹل کے ذریعے رپورٹ کی جائیں گی۔

مرکزی بینک کے مطابق موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن متعلقہ بینک کے اکاؤنٹ سے فروخت شدہ بانڈز کی رقم روزانہ کی بنیاد پر منہا کرے گی تاکہ مالی معاملات میں شفافیت اور بروقت تصفیہ یقینی بنایا جا سکے۔

تاخیر کی صورت میں جرمانہ نما چارجز

اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بینک فروخت کی گئی رقم کا تصفیہ مقررہ دن میں نہ کر سکا تو اسے تاخیر کے دوران رقم کے استعمال پر اضافی چارجز ادا کرنا ہوں گے۔

سرکلر کے مطابق یہ چارجز ہر دن کے حساب سے اسٹیٹ بینک کی اوور نائٹ ریورس ریپو سیلنگ ریٹ کے مطابق وصول کیے جائیں گے۔ ان چارجز کا حساب اسٹیٹ بینک کے کراچی دفتر میں کیا جائے گا اور متعلقہ رقم براہِ راست بینک کے اکاؤنٹ سے کاٹ کر مرکزی اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔

غلط یا نامکمل رپورٹنگ کی ذمہ داری بینک پر ہوگی

مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی بینک کی جانب سے پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت، منتقلی یا انکیشمنٹ سے متعلق معلومات غلط، نامکمل یا تاخیر سے فراہم کی گئیں اور اس کے نتیجے میں کسی صارف کو منافع یا انعامی رقم کی ادائیگی میں غلطی ہوئی تو اس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ بینک پر عائد ہوگی۔

البتہ اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ جہاں قانون اجازت دیتا ہو وہاں قابلِ اطلاق انکم ٹیکس کی رقم میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کی جا سکے گی۔

اس نئے نظام کا مقصد پریمیم پرائز بانڈز کے لین دین کو مزید منظم بنانا، بروقت رپورٹنگ کو یقینی بنانا اور مالیاتی معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…