منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی

datetime 8  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کار مستقبل کے رجحانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی اور عالمی حالات برقرار رہے تو 2030 تک دونوں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے، تاہم یہ اندازے حتمی پیشگوئی نہیں سمجھے جا سکتے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں سونے کی قیمت میں خاصا اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاندی کی قیمت بھی تیزی کے بعد مختلف اتار چڑھاؤ سے گزر رہی ہے۔

عالمی اقتصادی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثرانداز ہونے والے نمایاں عوامل ہیں۔بین الاقوامی مارکیٹ کے بعض تجزیوں میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر سونے کی موجودہ تیزی برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں اس کی قیمت نئی ریکارڈ سطحوں تک پہنچ سکتی ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق سونا مستقبل میں 7 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح بھی عبور کرسکتا ہے۔دوسری جانب طویل مدتی پیشگوئیوں میں سونے کے 10 ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچنے جبکہ چاندی کی قیمت 300 ڈالر فی اونس سے تجاوز کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم مختلف ماہرین کے تخمینے ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور عالمی حالات میں تبدیلی کے ساتھ یہ اعداد و شمار بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکی معیشت اور مالی صورتحال، شرح سود، ڈالر کی قدر، عالمی اقتصادی حالات اور جغرافیائی سیاسی تنازعات مستقبل میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہوا تو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر قیمتی دھاتوں کی طلب بڑھنے کا امکان ہے۔

پاکستانی مارکیٹ میں بھی عالمی قیمتوں کا اثر نمایاں ہوسکتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر سونے کی قیمت 10 ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچتی ہے تو پاکستان میں بھی اس کے نرخ موجودہ سطح کے مقابلے میں کافی بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم مقامی مارکیٹ میں سونے کی حتمی قیمت عالمی نرخ کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور دیگر ملکی عوامل سے بھی متاثر ہوگی۔ماہرین نے واضح کیا ہے کہ 2030 تک سونے اور چاندی کی قیمتوں سے متعلق یہ تمام اعداد و شمار موجودہ مارکیٹ رجحانات اور دستیاب معاشی اندازوں کی بنیاد پر ہیں۔ عالمی معیشت، مالیاتی پالیسیوں یا جغرافیائی سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلی کی صورت میں مستقبل کے یہ تخمینے مختلف بھی ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…