اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی

datetime 8  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کار مستقبل کے رجحانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی اور عالمی حالات برقرار رہے تو 2030 تک دونوں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے، تاہم یہ اندازے حتمی پیشگوئی نہیں سمجھے جا سکتے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں سونے کی قیمت میں خاصا اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاندی کی قیمت بھی تیزی کے بعد مختلف اتار چڑھاؤ سے گزر رہی ہے۔

عالمی اقتصادی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثرانداز ہونے والے نمایاں عوامل ہیں۔بین الاقوامی مارکیٹ کے بعض تجزیوں میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر سونے کی موجودہ تیزی برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں اس کی قیمت نئی ریکارڈ سطحوں تک پہنچ سکتی ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق سونا مستقبل میں 7 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح بھی عبور کرسکتا ہے۔دوسری جانب طویل مدتی پیشگوئیوں میں سونے کے 10 ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچنے جبکہ چاندی کی قیمت 300 ڈالر فی اونس سے تجاوز کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم مختلف ماہرین کے تخمینے ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور عالمی حالات میں تبدیلی کے ساتھ یہ اعداد و شمار بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکی معیشت اور مالی صورتحال، شرح سود، ڈالر کی قدر، عالمی اقتصادی حالات اور جغرافیائی سیاسی تنازعات مستقبل میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہوا تو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر قیمتی دھاتوں کی طلب بڑھنے کا امکان ہے۔

پاکستانی مارکیٹ میں بھی عالمی قیمتوں کا اثر نمایاں ہوسکتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر سونے کی قیمت 10 ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچتی ہے تو پاکستان میں بھی اس کے نرخ موجودہ سطح کے مقابلے میں کافی بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم مقامی مارکیٹ میں سونے کی حتمی قیمت عالمی نرخ کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور دیگر ملکی عوامل سے بھی متاثر ہوگی۔ماہرین نے واضح کیا ہے کہ 2030 تک سونے اور چاندی کی قیمتوں سے متعلق یہ تمام اعداد و شمار موجودہ مارکیٹ رجحانات اور دستیاب معاشی اندازوں کی بنیاد پر ہیں۔ عالمی معیشت، مالیاتی پالیسیوں یا جغرافیائی سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلی کی صورت میں مستقبل کے یہ تخمینے مختلف بھی ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…