فلم میں بھی ہارنے سے انکار
یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن تھا 2025ئ‘ مکس مارشل آرٹس (ایم ایم اے) کا مقابلہ تھا‘ پاکستانی ریسلر علی رضا ناصر رنگ میں اترا‘ دوسری طرف سے بھارتی کھلاڑی آیا‘علی رضا منجھا ہوا‘ تجربہ کار ریسلر تھا جب کہ بھارتی پہلوان ناتجربہ کار اور نیا تھا لیکن جب مقابلہ شروع ہوا تو بھارتی کھلاڑی نے علی رضا ناصر کو صرف 90 سیکنڈز (ڈیڑھ منٹ) میں ناک آئوٹ کر دیا‘ یہ دنیا میں اس نوعیت کا منفرد ایم ایم اے مقابلہ تھا جس میں نوے سیکنڈ میں ناتجربہ کار کھلاڑی نے تجربہ کار اوربڑے کھلاڑی کو ہرا دیا‘ پاکستانی کھلاڑی کو ہرانے والے انڈین ریسلر کا نام سنگرام سنگھ تھا‘ وہ اس مقابلے کے بعد انڈیا کا پہلا ایسا ایم ایم اے کھلاڑی بن گیا جس نے مخالف کو ڈیڑھ منٹ میں ہرا دیا تھا‘ میں سر سے لے کر پائوں تک پاکستانی ہوں اور سنگرام سنگھ نے پاکستان کو ہرایا لیکن آپ یقین کریں میں اس کے باوجود یہ سمجھتا ہوں سنگرام سنگھ اس جیت مستحق تھا بلکہ اگر یہ جسارت نہ ہو تو میں سمجھتا ہوں یہ شخص اس سے بڑی جیت کا حق دار ہے‘ کیوں؟ آیے میں آپ کو بتاتا ہوں۔
سنگرام سنگھ روہتک (ہریانہ) کے قریب چھوٹے سے گائوں مدینہ میں پیدا ہوا‘ والدین ان پڑھ اور غریب کسان تھے‘ بچپن میں اس کے پائوں میں درد ہوا اور یہ بڑھتا بڑھتا اس کے پورے جسم میں پھیل گیا‘ یہ اپنے جوڑ نہیں ہلا سکتا تھا‘ ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے بتایا یہ جوڑوں کے درد کی بیماری (آرتھریٹس) کا شکار ہو گیا ہے اور دنیا میں اس کا کوئی علاج نہیں‘ یہ بیماری آنے والے دنوں میں تیزی سے بڑھی اور سنگرام سنگھ اٹھنے‘ بیٹھنے‘ چلنے پھرنے حتیٰ کہ منہ دھونے کے قابل بھی نہ رہا‘ اسے خوراک نگلنے اور بولنے میں بھی دقت کا سامنا ہونے لگا‘ گائوں میں واش روم نہیں ہوتے تھے‘ لوگوں کو فطری ضرورتوں کے لیے کھیتوں میں جانا پڑتا تھا‘ سنگرام سنگھ کھیت میں نہیں جا سکتا تھا اور کوئی اسے بار بار اٹھا کر کھیتوں میں لے جانے کے لیے موجود نہیں تھا چناں چہ والدین نے اس کی چارپائی کے درمیان سوراخ کر دیا‘ یہ چار پائی پر لیٹے لیٹے بول براز کرتا تھا اور اس کی ماں اگلے دن اسے صاف کر دیتی تھی‘ وہ اس دوران بو اور مکھیوں کے درمیان لیٹا رہتا تھا‘ ڈاکٹرز کے بقول سنگرام سنگھ کی
بیماری میں ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد لوگ موت تک ٹھیک نہیں ہوتے‘ اس کے پاس بھی صرف چھ ماہ تھے‘ ڈاکٹرز نے اس کے والدین کو بتادیا آپ غریب لوگ ہیں‘ آپ لڑکے پر پیسے ضائع نہ کریں‘ اسے خاموشی سے مرنے دیں لیکن اس کی ماں نے ہار ماننے سے انکار کر دیا‘ وہ تین کام کرتی تھی‘ وہ روز بارہ تیرہ بار مختلف تیلوں سے اس کی مالش کرتی تھی‘ اس نے دیسی جڑی بوٹیاں ابال کر بھی اسے پلانا شروع کر دیں اور وہ ہر وقت اس کے قریب بیٹھ کر ’’میرا بیٹا پہلوان بنے گا‘‘ کہتی رہتی تھی‘ وہ مالش کرتی تھی اور کہتی تھی ’’سنگرام تم پہلوان بنو گے اور دنیا یہ دیکھے گی‘‘ ماں پہلوانی کی دعا کیوں کرتی تھی؟اس کی وجہ ہریانہ کا کلچر تھا‘ ہریانہ میں اس زمانے میں پہلوانی پاپولر کھیل ہوتا تھا‘ ریاست کے تمام نوجوان پہلوانی کرتے تھے اور جیتنے والا پورے علاقے کا ہیرو ہوتا تھا‘ بہرحال قصہ مختصر ماں کی مالش اور دعائوں نے کام کیا اور سنگرام سنگھ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے لگا‘ گائو میں ویل چیئر نہیں تھی اور اگر ہوتی بھی تو یہ لوگ اسے خرید نہیں سکتے تھے‘ ماں نے اسے لکڑی کی بیساکھیاں بنا دیں اور یہ سارا دن ان کے ساتھ لٹک کر گلیوں میں پھرتا رہتا‘ سنگرام نے آٹھ سال اس عالم میں گزارے‘ یہ گیارہ بارہ سال کا ہوا تو ماں اسے اکھاڑے میں لے گئی‘ استاد نے اس لنگڑے‘ کم زور اور کالے کلوٹے لڑکے کو دیکھتے ہی مسترد کر دیا‘ ماں نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’کیا تم میں اپنے استاد کو غلط ثابت کرنے کی ہمت ہے؟‘‘ سنگرام نے بیساکھی دیوار کے ساتھ ٹکائی اور کہا ’’ہاں ماں‘‘ اور یہاں سے اس کا سفر شروع ہو گیا‘ سنگرام سنگھ نے پہلوانوں سے بے تحاشا مار کھائی لیکن اس کے باوجود اکھاڑہ نہیں چھوڑا‘ یہ 15 سال کی عمر میں دہلی آ گیا اور وہاں بھی ایک اکھاڑے سے دوسرے اکھاڑے میں مارکھاتا رہا۔ اسے پڑھائی کا شوق بھی تھا‘ یہ سکول گیا تو استاد نے اسے نالائق اور جاہل قرار دے کر مسترد کر دیا‘ یہ اس استاد کو بھی غلط ثابت کرنے میں جت گیا‘ یہ زندگی میں کبھی بہت اچھے نمبر نہیں لے سکا لیکن یہ اس کے باوجود گرتا پڑتا ایم اے تک چلاگیا‘ یہ اس کے بعد ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری کشتی لڑتا اور ہارتا رہا لیکن ہمت نہیں ہاری‘ اس کا اپنا قول تھا لوگ صرف آپ کی دولت اور طاقت دیکھتے ہیں انہیں آپ کا حوصلہ اور ہمت دکھائی نہیں دیتی‘ سنگرام سنگھ کے پاس طاقت اوردولت نہیں تھی لیکن یہ حوصلے اور ہمت سے لبالب تھا چناں چہ یہ ڈٹا رہا اور ہارتا ہارتا جیتنے لگ گیا‘ سنگرام سنگھ کی زندگی کا صرف ایک اصول تھا ’’ری جیکشن سب سے بڑی موٹی ویشن ہے‘‘ اس کا کہنا تھا ’’تعریف صرف آپ کا دن بناتی ہے لیکن طعنہ آپ کی پوری زندگی بنا دیتا ہے‘‘ اس نے طعنوں کو لائف لیسن اور ری جیکشن کو موٹی ویشن بنا لیا لہٰذا اسے جس سے روکا گیا‘یہ جہاں فیل ہوا اس نے اسے زندگی کا مقصد بنا لیا اور آخر میں کام یاب ہو گیا‘ یہ جسمانی لحاظ سے کم زور تھا‘ اس نے اس کم زوری کو شکست دے دی‘یہ جوڑوں کی بیماری میں مبتلا تھا اس نے بیماری کو پچھاڑ دیا‘ یہ ان پڑھ تھا یہ تعلیم کو گھر تک کھینچ لایا‘ اسے بولنا نہیں آتا تھا‘ یہ موٹی ویشنل سپیکر بن گیا‘ اس پر ٹی وی کے دروازے بند تھے‘یہ ٹی وی ہوسٹ بن گیا اور اسے فلم کے قابل نہیں سمجھا گیا لیکن یہ اب فلموں میں بھی کام کر رہا ہے‘ کشتیوں اور مارشل آرٹس کی عمر عموماً 30 سال تک ختم ہو جاتی ہے لیکن اس نے 39 سال کی عمر میں ’’ایم ایم اے‘‘ کا ریکارڈ قائم کر دیا اور بھارت میں ’’فٹ انڈیا کا ایمبیسیڈر‘‘ بن گیا‘ اس نے ’’فوڈ کا پیٹرن‘‘ بھی بدل دیا‘ یہ دنیا میں جہاں بھی جاتا ہے اپنی ہلدی‘ دیسی گھی‘ نمک اور گڑ ساتھ لے کر جاتا ہے‘ دنیا بھر کے ٹرینر میٹھا کھانے سے روکتے ہیں لیکن یہ آدھ آدھ کلو حلوہ کھا جاتا ہے لیکن اس کے بقول حلوہ دیسی گڑ کا ہونا چاہیے‘ چینی کا نہیں اور آپ کو اس کے ساتھ روزانہ دو تین گھنٹے ایکسرسائز کرنی چاہیے‘ اس کے بقول میری زندگی کے صرف دو مقصد ہیں ’’ورک اور ورک آئوٹ‘‘ میں کام کرتا ہوں اور اس کے بعد دبا کر ایکسرسائز کرتا ہوں۔یہ جلدی سوتا ہے‘ صبح جلدی جاگتا ہے‘ تین چار گھنٹے ایکسرسائز کرتا ہے‘ گھر کا بنا ہوا کھانا کھاتا ہے‘ دن میں صرف دو بار کھاتا ہے‘ روزانہ ایک کلو دودھ پیتا ہے اور دیسی گھی استعمال کرتا ہے‘ پازیٹو رہتا ہے اور زندگی کے ہر چیلنج کو اپارچیونٹی سمجھ کر فوراً قبول کر لیتا ہے‘ علی رضا ناصر سے مقابلے کے بارے میں اس کا کہنا ہے میں نے اندازہ لگایا میں اس سے لڑ نہیں سکوں گا‘ یہ مجھ سے زیادہ مضبوط اور ٹرینڈ تھا‘ میں نے فیصلہ کیا علی رضا سے جیتنے کا صرف ایک طریقہ ہے‘ میں اسے لڑنے کا موقع نہ دوں چناں چہ میں گیا اور میں نے ڈیڑھ منٹ میں اس کے تیار ہونے اور لڑنے سے پہلے اسے گرا دیا‘ وہ اگر مجھ سے لڑتا تو میں اسے کبھی نہیں ہرا سکتا تھا۔
عامر خان نے 2016ء میں دنگل کے نام سے شان دار فلم بنائی تھی‘ دنگل نے 2000کروڑ روپے کا بزنس کر کے تاریخ میں نام لکھوا دیا‘ عامر خان نے سنگرام سنگھ کو فلم میں کام کرنے کی آفر کی‘ اسے 20 کروڑ روپے معاوضے کی پیش کش ہوئی لیکن سنگرام سنگھ نے انکار کر دیا‘ اس کا کہنا تھا ’’سکرپٹ کے مطابق میں نے فلم میں ہارنا تھا لیکن میں نے فیصلہ کیا ہوا ہے میں نے ہارنا نہیں خواہ وہ فلم ہی کیوں نہ ہو لہٰذا میں نے معذرت کر لی‘‘ سنگرام سنگھ کے بقول ’’مجھے فلموں میں بے شمار مرتبہ آفر ہوئی لیکن میں نے معذرت کر لی‘ کیوں؟ کیوں کہ مجھے منفی کردار آفر کیا جاتا تھا‘ میں نے یہ بھی فیصلہ کیا ہوا ہے میں نے منفی بات اور منفی حرکت نہیں کرنی خواہ یہ سٹیج‘ ٹی وی یا فلم میں ہی کیوں نہ ہو‘ میں اپنی زندگی کا ہیرو ہوں لہٰذا میں جب بھی آئوں گا ہیرو آئوں گا‘‘ اس نے آج تک کولڈ ڈرنک کا اشتہار نہیں کیا‘ اس کے بقول میں کولڈ ڈرنک کو صحت کا دشمن سمجھتا ہوں‘ میں خود پیتا ہوں اور نہ کسی دوسرے کو پینے دیتا ہوں چناں چہ میں نے انکار کر دیا اور میں نے یہ انکار اس وقت کیا تھا جب میری جیب خالی تھی اور مجھے چھوٹے سے اشتہار کے اڑھائی کروڑمل رہے تھے‘ سنگرام کے بقول دنیا میں ہر چیز لیز ہے‘ قدرت ہمیں اپنی نعمتیں لیز پر دیتی ہے لیکن ہم پوری زندگی ان کی رجسٹری کرانے میں ضائع کر دیتے ہیں۔
سنگرام سنگھ کی کہانی کمال ہے‘ اس شخص نے اپنے آپ کو ہیرو سمجھا اور پھر خود کو پوری دنیا کے لیے ہیرو بنا کر دکھایا‘ آپ اس کی اپنے آپ سے کمٹمنٹ دیکھیں‘ اس نے فلم میں بھی ہارنے سے انکار کر دیا ‘ یہ زندگی کی ہر فیلڈ میں جیتا لہٰذا یہ خواب میں بھی ہارنے کے لیے تیار نہیں‘ اس کو کہتے ہیں ہمت‘ اس کو کہتے ہیں جرات چناں چہ یہ شخص اگر 8 اکتوبر 2025ء کو تبلیسی میں علی رضا ناصر کو نہ ہراتا تو مجھے حیرت ہوتی کیوں کہ جس شخص نے آرتھریٹس کو شکست دے دی تھی اس کے سامنے ایم ایم اے کے مقابلے کی کیا حیثیت تھی‘ یہ شخص اپنی زندگی کا ہیرو ہے اور ہیرو ہارا نہیں کرتے‘ فلم میں بھی اور زندگی میں بھی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
Pale Blue Dot
-
سرکاری ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا فیصلہ
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان
-
حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کردیا، نوٹی فکیشن جاری
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے تک کمی کا امکان
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
پاکستان بھر میں طوفانی بارشیں، این ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ جاری
-
اسرائیل نے 8 جون کو ایران پر بڑا فضائی حملہ کیوں روکا؟ اسرائیلی ائیر چیف کا انکشاف
-
بجلی کے بلوں میں بڑی تبدیلی
-
ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب کا مقام تبدیل کردیا گیا
-
بارش کا سسٹم پاکستان میں داخلے کے قریب، موسم بدلنے کا امکان
-
بارشوں کا نیا سلسلہ شروع
-
وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاری
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حیران کن کمی





















































