تلوم اور تلوم سے آگے
ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب کا خوب صورت اور بڑا پورٹ سٹی تھا‘ گلف آف میکسیکو کے ساحل پر آباد تھا‘
ماضی میں ایک بڑی شاہراہ اسے کوبا سے جوڑتی تھی‘ یہ خطے کے باقی شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہموار‘ خوش حال اور مضبوط شہر تھا‘ میکسیکو حکومت نے تلوم اور چیچن اٹزا کو سیاحتی نقطہ نظر سے زیادہ ڈویلپ کیا‘ یہ کین کون کی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے اور ہمارے ریزارٹ سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر تھا‘ اس کے گرد شاپنگ سنٹر‘ ہینڈی کرافٹس کی دکانیں اور وسیع پارکنگ ایریا تھا‘ گیٹ بھی جدید اور خوب صورت تھا‘ سیاحوں کو گیٹ سے الیکٹرک گاڑیوں میں بٹھا کر آثار قدیمہ تک لے جایا جاتا ہے‘ ہم بھی پارکنگ ایریا سے پیدل ٹکٹ گھر تک آئے‘ وہاں سے الیکٹرک کار پر گیٹ تک پہنچے‘ گائیڈ لیا اور تلوم کے قدیم شہر میں داخل ہو گئے‘ مقامی لوگ اکثر سیاحتی مقامات پر حملے کرتے رہتے ہیں لہٰذا وہاں سیکورٹی بہت ٹائیٹ تھی‘ پانی کی بوتلیں تک اندر لے جانے کی اجازت نہیں تھی‘ تلوم شہر دیواروں کے اندر بنایا گیا تھا‘ شہر کی دیواریں پتھر کی تھیں اور بہت موٹی تھیں‘ انہیں پھلانگنا یا توڑنا آسان نہیں تھا‘ شہر کی گلیاں کھلی اور گھر دو اور تین منزلہ تھے اور پتھروں سے بنائے گئے تھے‘ چاکلیٹ مایا لوگوں نے ایجاد کیا تھا‘ وہ لوگ کاکائو(Cacao) درخت کے بیج (بینز) نکال کر انہیں پتھر کی سل پر پیستے تھے‘ اس میں شہد‘ مکھن‘ پانی‘ مرچیں اور مکئی کا آٹا ملاتے تھے‘ سکھاتے تھے اور اس کے پیس کاٹ کر کھاتے تھے یا پھر بطور مشروب اسے پی جاتے تھے‘ چاکلیٹ میکسیکو سے پوری دنیا میں گیا تھا‘ تلوم میں یہ ہر گھر میں بنتا اور پیا جاتا تھا‘ گائیڈ نے ہمیں دھوپ میں پڑی ہوئی وہ سل بھی دکھائی جس پر کاکائو درخت کے بینز کو رگڑ کر پائوڈر بنایا جاتا تھا‘ تلوم بادشاہوں‘ وزیروں‘ تاجروں اور زمین داروں کا شہر تھا‘ عام آدمی اس میں رہائش اختیار نہیں کر سکتا تھا لہٰذا اس کے گھر بڑے‘ صاف ستھرے اور دو تین منزلہ تھے‘ بادشاہ کا گھر درمیان میں تھا اور بلند تھا‘ اس کے برآمدوں سے پورا شہر نظر آتا تھا‘ تین بڑے ٹیمپل تھے‘ ایک کا نام سن ٹیمپل تھا‘ یہ ساحل پر تھا‘ وہاں سے سمندر دور دور تک دکھائی دیتا تھا‘ دوسرا ونڈ ٹیمپل تھا‘ اس میں بارش اور ہوا کی دیوی
کی عبادت ہوتی تھی‘ یہ سن ٹیمپل سے ذرا سے فاصلے پر تھا‘ اس کے قریب غار میں تازہ پانی کا تالاب تھا‘ وہ شہر کی آبی ضرورت پوری کرتا تھا‘ تالاب جب سوکھ جاتا تھا تو تلوم کے لوگ ٹیمپل میں بارش کی دیوی کی عبادت کرتے تھے اور تالاب کے پانی میں اضافہ ہو جاتا تھا‘ شہر کا مرکزی ٹیمپل درمیان میں تھا‘ یہ اہرام تھا اور اس کے آخری سرے تک پہنچنے کے لیے خاصی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی تھیں‘ ٹیمپل کے اوپر سے شہر اور سمندر دونوں نظر آتے تھے‘ اس سے آگے شہر کی پورٹ تھی‘ شہر وہاں پہنچ کر سمندر کے لیول پر آ گیا تھا جس کی وجہ سے چٹانوں کے درمیان قدرتی گودی بن گئی تھی‘ قدیم زمانے میں یہاں کشتیاں رکتی تھیں اور تجارتی سامان لے کر کیریبین جزیروں کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں۔
شہر کی دیوار تین سے پانچ میٹر بلند اور آٹھ میٹر (26 فٹ) چوڑی تھی‘ یہ چٹانوں کے ساتھ ساتھ 1300 فٹ لمبی تھی یوں شہر کو تین قسم کے تحفظ مل گئے تھے‘ چٹانیں‘ سمندر اور تلوم کے لوگوں کی بنائی ہوئی دیوار‘ تلوم شہر کے نیچے سمندری غاروں کا طویل سلسلہ ہے‘ یہ پانی کے اندر ہیں اور ایک دوسرے سے منسلک ہیں‘ 2016 میں محققین کو غاروں کے اس سلسلے میں 30 سال کی عورت کا ڈھانچہ ملا‘ یہ 9900 سال پرانا تھا اور اسے سر پر کوئی بھاری چیز مار کر قتل کیا گیا تھا‘ مایا لوگ بچوں کی پیدائش کے بعد ان کے سر چمڑے اور رسیوں سے باندھ دیتے تھے جس کے بعد ان کے سر پچک کر چمپینزی جیسے ہو جاتے تھے‘ اس خاتون کا سر بھی ویسا تھا جس کا مطلب تھا مایا لوگ 9900 سال قبل بھی یہاں آباد تھے اور یہ اس زمانے میں غاروں میں رہتے تھے‘ تلوم کے بیچز علاقے کے خوب صورت ترین ساحل ہیں‘ سیاح انہیں انجوائے کرنے کے لیے بھی یہاں آتے ہیں‘ ساحلوں کی ریت سفید اور پانی صاف ہے‘ تلوم کے نیچے سے کشتیاں ملتی ہیں جو سیاحوں کو دور بیچز پر لے جاتی ہیں‘ یہ سارا دن ان ساحلوں پر گزار کر شام کے وقت واپس آ جاتے ہیں‘ دنیا کا دوسرا بڑا کورل ریف (Coral Reef) تلوم سے پندرہ منٹ کی کشتی رائیڈ کے فاصلے پر ہے‘ کورل زندہ چٹانیں یا پتھر ہوتے ہیں‘ ان کے اندر زندگی ہوتی ہے اور یہ سائز میں چھوٹے سے بڑے ہوتے رہتے ہیں‘ یہ سمندری کیڑے اور کائی کھاتے ہیں اور سفید ریت جیسا فضلہ خارج کرتے ہیں‘کورلز کو پائلٹ فش جیسی چھوٹی مچھلیاں بھی کھاتی ہیں‘ ان کے فضلے سے بھی سفید ریت نکلتی ہے لہٰذا ساحلوں کی سفید ریت زیادہ تر کورلز اور پائلٹ فش کا فضلہ ہوتی ہے‘ آپ کو جہاں جہاں سفید ریت کے ساحل ملتے ہیں وہاں عموماً کورل کی چٹانیں ہوتی ہیں‘ کورلز کا فضلہ سمندر کی لہروں کے ذریعے ساحل پر آتا رہتا ہے اور یہ برسوں بعد سفید ساحل (وائیٹ سینڈ بیچ) بن جاتا ہے‘ تلوم کے سفید ساحلوں کی وجہ بھی یہی تھی‘ ہم سے تلوم میں ایک بڑی غلطی سرزد ہو گئی‘ ہم نے گائیڈ کو شروع ہی میں طے شدہ رقم دے دی چناں چہ وہ ہمیں پندرہ منٹ میں پورا تلوم دکھا کر رفو چکر ہوگیا یوں ہم قدیم شہر کے اہم ترین حصے دیکھنے سے محروم رہ گئے‘ ہمارا زیادہ وقت کوبا میں صرف ہو گیا تھا‘ تلوم میں ساڑھے تین بجے آخری انٹری ہوتی ہے اور پانچ بجے یہ بند کر دیا جاتا ہے‘ پانچ بج چکے تھے چناں چہ ہم واپس روانہ ہو گئے۔
ہمارا اگلا دن ریوسیکریٹو (Rio Secreto) میں گزرا‘ یہ کمال تجربہ تھا‘ ریو سیکریٹو ہمارے ریزارٹ سے آدھ گھنٹے کی ڈرائیو پر تھا‘ یہ کیا چیز ہے‘ یہ جاننے کے لیے آپ کو ایک کہانی سننا پڑے گی‘ کین کون کے جنگلوں میں ڈان کلیفس (Cleofas) نام کا ایک زمین دار رہتا تھا‘ وہ وسیع جنگل کا مالک تھا‘ اس کے پاس کھیت بھی تھے‘ میکسیکو میں اگوانا (Iguana)نام کا چپکلی نما جانور پایا جاتا ہے‘ یہ درختوں پر بھی چڑھ جاتا ہے اور زمین پر بھی رینگتا ہے‘ اسے دنیا کی تیز ترین چپکلی سمجھا جاتا ہے‘ مقامی لوگ اسے درختوں کی مرغی کہتے ہیں اور اس کا گوشت کھاتے ہیں‘ شاید اس کا گوشت مرغی جیسا ہوتا ہوگا‘ بہرحال اگوانا میکسیکو اور دوسرے کیریبین ملکوں میں مرغن سمجھا جاتا ہے‘ 2004ء میں ڈان کو اپنے جنگل میں بڑے سائز کا اگوانا دکھائی دیا‘ ڈان اس کے پیچھے دوڑا‘ اگوانا نے آگے آگے دوڑ لگا دی‘ وہ جنگل میں دوڑتا ہوا پانی کے ایک چھوٹے سے تالاب کی دیوار پر بیٹھا اور غائب ہو گیا‘ ڈان تالاب میں اترا‘ دیوار کے قریب گیا اور اسے وہاں بڑے سائز کی درز دکھائی دی‘ وہ اگوانا کے پیچھے اس درز میں داخل ہو گیا اور اسے وہاں نئی دنیا مل گئی‘ درز کے اندر غاروں کا ایک ایسا طویل سلسلہ تھا جس میں پینے کے صاف پانی کا دریا بہہ رہا تھا‘ اندر گھپ اندھیرا تھا‘ ڈان واپس چلا گیا‘ وہ دوسرے دن چند لوگوں کے ساتھ دوبارہ غار میں داخل ہوا‘ اس دن ان کے پاس ٹارچ‘ رسے اور ہتھیار بھی تھے‘ غار میں اترنے کے بعد اسے معلوم ہوا یہ غاروں کا طویل سلسلہ ہے‘ ایک غار دوسرے غار سے ملا ہوا ہے اور ان میں باقاعدہ جھیلیں اور دریا ہیں‘ غاروں کی چھتوں سے لائم سٹون کی برچھیاں لٹک رہی ہیں‘ یہ فارمیشن ہیں جو ہزاروں لاکھوں برسوں میں پانی کے قطروں سے کیلشیم کاربونیٹ نے بنائیں‘ مایا لوگ بھی ان غاروں سے واقف تھے‘ وہ ان میں رہائش پذیر بھی رہے تھے‘ جگہ جگہ ان کی عبادت کے مقامات اور رہائش کے آثار تھے‘ پرانے زمانے میں ان غاروں میں جنگلی جانور بھی رہتے تھے‘ چٹانوں پر چیتے کے پنجوں کے نشان تھے‘ یہ ایک حیران کن دریافت تھی‘ یہ خبر پھیلی تو محققین نے اس کا رخ کر لیا اور یوں نئے سے نئے انکشافات ہوتے چلے گئے‘ اب تک 52 کلومیٹر طویل غار دریافت ہو چکے ہیں‘ ریسرچ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے‘ 2010ء میں حکومت نے یہ زمین ڈان سے خریدنے کی کوشش کی لیکن یہ سمجھ دار نکلا‘ اس نے انکار کر دیا اور یوں یہ بلین ڈالرز کا مالک بن گیا‘ آج کل ان غاروں کی سیاحت ہوتی ہے اور دنیا بھر سے لوگ انہیں دیکھنے آتے ہیں‘ ہم بھی ان میں شامل تھے۔
ہم تیسرے دن ٹیکسی پر وہاں پہنچے‘ غاروں کا ٹکٹ مہنگا تھا‘ سو ڈالر فی شخص تھا لیکن جب ہم غار میں داخل ہوئے تو وہ فیس اس تجربے کے سامنے معمولی محسوس ہوئی‘ یہ غار گھنے جنگلوں میں ہیں‘ ٹکٹ گھر بھی درختوں کے درمیان چھپا ہوا تھا‘ ٹکٹ کے بعد ہمیں جنگل میں گھرے ہال میں بٹھا دیا گیا‘ گائیڈ کے بغیر غار میں داخلہ ممکن نہیں تھا‘ ہمارے لیے انگریزی جاننے والا گائیڈ منگوایا گیا تھا‘ ہمیں اس کا انتظار کرنا پڑا‘ راہول ہمارا گائیڈ تھا‘ وہ سپینش تھا اور یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا‘ ہمیں وین میں بٹھا کر گہرے جنگل میں لے جایاگیا‘ وہاں لاکرز روم تھے‘ ہم نے اپنے کپڑے‘ جوتے اور موبائل فون لاکرز میں رکھ دیے‘ اس کے بعد ہمیں تیراکی کے ربڑ کے ٹائیٹ کپڑے اور جوتے پہنائے گئے‘ سر پر بھاری ہیلمٹ فکس کیے گئے جن پر لائیٹس لگی تھیں‘ بٹن دبانے سے لائیٹس آن اور آف ہو جاتی تھیں‘ ہمیں تگڑی سٹکس بھی دی گئیں‘ ہم اس بندوبست کے بعد راہول کی قیادت میں جنگل میں پیدل چل پڑے‘ دس منٹ کی واک کے بعد ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں دھونی دینے کا سامان پڑا تھا‘ مایا لوگ غاروں میں داخل ہونے سے قبل جسم پر مختلف جڑی بوٹیوں کی دھونی لیتے تھے‘ یہ روایت آج بھی قائم ہے‘ آج بھی کوئی شخص دھونی کے بغیر ان غاروں میں نہیں جا سکتا‘ ہم دھوئیں کے پردے سے گزرے اور اس کے بعد چند پتھریلی سیڑھیاں اتر کر چھوٹے سے گڑھے میں آ گئے‘ گڑھا درختوں کے درمیان تھا اور اوپر سے دکھائی نہیں دیتا تھا‘ درختوں کی جڑیں رسیوں کی طرح بل کھا کر گڑھے کی زمین میں گڑی تھیں‘ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ تنوں کے برابر جڑیں دیکھیں‘ ہم ان جڑوں سے گزر کر آگے بڑھے تو سامنے پتھروں کی قدرتی سیڑھیاں تھیں‘ راہول ہمیں لے کر ان سیڑھیوں سے نیچے آیا اور ہم گہرے غاروں میں اتر گئے اور ہمارے سامنے دنیا کا حیران کن منظر تھا‘ چھت سے لائم سٹون کی ہزاروں برچھیاں اور تلواریں لٹک رہی تھیں جب کہ نیچے پیٹ تک صاف شفاف پانی تھا اور اس میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تیری رہی تھیں‘ ہم پر سکتہ طاری ہوگیا۔(جاری ہے)
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
متحدہ عرب امارات نے 3 ممالک کیلیے نئے ویزوں کا اجرا روک دیا؛ سفری پابندیاں عائد
-
پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان
-
سستا پیٹرول سکیم میں ایک ساتھ 4000 روپے، موٹر سائیکل سواروں کے لیے بڑی خوشخبری
-
16 سالہ لڑکی سے گن پوائنٹ پر 8 سے 10 لڑکوں کی مبینہ اجتماعی زیادتی، ویڈیو بھی بنائی
-
دینی راستہ اختیار کرنے کے باوجود طلاق ہونے پر سارہ چوہدری کا ردعمل وائرل
-
موٹروےزیادتی کیس: ’’سزائے موت کے بعد کوئی نہیں کہے گا خاتون رات کو وہاں کیا لینے آئی‘‘
-
18سالہ گھریلوملازمہ اجتماعی زیادتی ، اسقاط حمل کےدوران ہلاکت کیس میں اہم پیشرفت، والد نےمعاملہ مشکو...
-
ایران اور روس کا 25 ارب ڈالر کا بڑا جوہری معاہدہ، دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
-
آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے وقت ان کے دفتر میں موجود تھا: عباس عراقچی کا انکشاف
-
سوریا کمار یادیو کو کپتانی سے ہٹا کر ٹیم سے کیوں نکالا گیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ویرات کوہلی نے بھارت کیوں چھوڑا؟ ساتھی کھلاڑی کا انکشاف
-
اسلام آباد،3بچوں کی ماں کی پلازے کی چھت سے کود کر مبینہ خودکشی
-
پاکستان مخالف سوال پر روسی صدر نے بھارتی صحافی کو لاجواب کردیا
-
این ڈی ایم اے کا موسمی الرٹ جاری، ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، ژالہ باری اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ





















































