منگل‬‮ ، 21 جولائی‬‮ 2026 

سیف علی خان کا چاقو حملے کے ایک سال سے زائد عرصے بعد نیا انکشاف

datetime 29  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے اپنے ممبئی والے گھر میں ہونے والے چاقو حملے کے واقعے پر ایک مرتبہ پھر گفتگو کرتے ہوئے کئی نئے انکشافات کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے نہ صرف انہیں نشانہ بنایا بلکہ ان کے کمسن بیٹے جہانگیر علی خان (جے) کو بھی معمولی زخمی کر دیا تھا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 16 جنوری 2025 کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں پیش آیا، جب ایک شخص مبینہ طور پر چوری کی نیت سے اداکار کے گھر میں داخل ہوا۔ مزاحمت کے دوران ملزم نے سیف علی خان پر متعدد وار کیے، جن میں سے ایک زخم ان کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب لگا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ایک حالیہ انٹرویو میں سیف علی خان نے اس خوفناک رات کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کی وہ گھڑیاں ان کے لیے نہایت تکلیف دہ تھیں اور ان کا اثر اب تک ختم نہیں ہوا۔اداکار کے مطابق رات کے وقت ان کی اہلیہ نے انہیں اطلاع دی کہ جے کے کمرے میں ایک نامعلوم شخص موجود ہے، جس کے ہاتھ میں چاقو ہے اور وہ رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ فوراً اپنے بیٹے کے کمرے کی طرف گئے، جہاں ان کا سامنا حملہ آور سے ہوا۔سیف نے بتایا کہ ملزم نے ان کے بیٹے کو پکڑ رکھا تھا اور اس دوران بچے کو معمولی چوٹ بھی آئی، جبکہ ایک گھریلو ملازمہ بھی زخمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بچے کو بچانے کی کوشش میں وہ خود حملہ آور سے الجھ گئے اور اسی دوران انہیں کئی زخم آئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور ممکنہ طور پر باتھ روم کی کھڑکی کے ذریعے گھر میں داخل ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات مختلف ہوتے تو شاید وہ اس شخص سے بات کرکے صورتحال کو سنبھال سکتے تھے، لیکن اس وقت سب کچھ اچانک ہوا اور فوری ردعمل دینا پڑا۔سیف علی خان نے اعتراف کیا کہ وہ حملہ آور کو معاف کرنے کے بارے میں ضرور سوچتے ہیں، تاہم جب کوئی شخص آپ کے خاندان اور بچوں کی جان کو خطرے میں ڈال دے تو اسے بھلانا یا معاف کرنا آسان نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ حملہ آور کی نیت ابتدا میں قتل کی نہ ہو، لیکن جس طرح ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا، اس کے بعد اس واقعے کو فراموش کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔اداکار نے سماجی عدم مساوات کو بھی ایسے واقعات کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں وسائل کی غیر مساوی تقسیم بعض اوقات لوگوں کو غلط راستوں پر لے جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ وقت کے ساتھ زندگی معمول کی طرف لوٹ آئی ہے، تاہم اس واقعے کے بعد ان کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور اب وہ اپنے خاندان کی سلامتی اور تحفظ کو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…