اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) برطانیہ میں بہتر مستقبل اور مستقل رہائش کے خواہش مند افراد کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک پناہ گزینوں کے لیے محدود مگر محفوظ قانونی راستے متعارف کرائے جائیں گے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ تعلیمی اداروں، کاروباری تنظیموں، آجروں اور مقامی کمیونٹی گروپس کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ مستحق پناہ گزینوں کی کفالت اور اسپانسرشپ کر سکیں۔برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق اس منصوبے کی بنیاد کینیڈا کے کامیاب کمیونٹی اسپانسرشپ ماڈل پر رکھی گئی ہے۔ اس نظام کے تحت منظور شدہ ادارے اقوام متحدہ یا دیگر مستند ذرائع سے منتخب پناہ گزینوں کو برطانیہ منتقل کرنے میں معاونت کریں گے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، خاص طور پر کشتیوں کے ذریعے خطرناک سفر کرنے والے افراد کے رجحان کو کم کرنا اور ضرورت مند افراد کو محفوظ اور قانونی مواقع فراہم کرنا ہے۔اس نئی پالیسی کے تحت تین مختلف پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ پہلا پروگرام کمیونٹی اسپانسرشپ سے متعلق ہے، جس میں رجسٹرڈ فلاحی اور سماجی تنظیمیں پناہ گزینوں کی کفالت کریں گی۔
دوسرا پروگرام یونیورسٹی اسپانسرشپ پر مشتمل ہوگا، جس کے ذریعے برطانوی جامعات مستحق پناہ گزین طلبہ کو تعلیم کے لیے اسپانسر کر سکیں گی اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔تیسرا راستہ روزگار کی بنیاد پر اسپانسرشپ کا ہوگا، جس کے تحت بعض کمپنیاں اور آجر مخصوص شرائط پوری کرنے والے پناہ گزینوں کو ملازمت کی غرض سے برطانیہ منتقل کر سکیں گے۔حکومتی حکام کے مطابق تعلیمی اسپانسرشپ پروگرام کے لیے درخواستیں رواں برس کے اختتام تک طلب کی جائیں گی، جبکہ منتخب افراد کی برطانیہ آمد کا عمل 2027 میں شروع ہونے کا امکان ہے۔اسی طرح ملازمت سے متعلق اسپانسرشپ پروگرام کو بھی اگلے سال مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ان اسکیموں کے تحت محدود تعداد میں افراد کو شامل کیا جائے گا اور ہر درخواست گزار کی مکمل سیکیورٹی جانچ اور اہلیت کے جائزے کے بعد ہی منظوری دی جائے گی۔



















































