بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان

datetime 27  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) برطانیہ میں بہتر مستقبل اور مستقل رہائش کے خواہش مند افراد کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک پناہ گزینوں کے لیے محدود مگر محفوظ قانونی راستے متعارف کرائے جائیں گے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ تعلیمی اداروں، کاروباری تنظیموں، آجروں اور مقامی کمیونٹی گروپس کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ مستحق پناہ گزینوں کی کفالت اور اسپانسرشپ کر سکیں۔برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق اس منصوبے کی بنیاد کینیڈا کے کامیاب کمیونٹی اسپانسرشپ ماڈل پر رکھی گئی ہے۔ اس نظام کے تحت منظور شدہ ادارے اقوام متحدہ یا دیگر مستند ذرائع سے منتخب پناہ گزینوں کو برطانیہ منتقل کرنے میں معاونت کریں گے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، خاص طور پر کشتیوں کے ذریعے خطرناک سفر کرنے والے افراد کے رجحان کو کم کرنا اور ضرورت مند افراد کو محفوظ اور قانونی مواقع فراہم کرنا ہے۔اس نئی پالیسی کے تحت تین مختلف پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ پہلا پروگرام کمیونٹی اسپانسرشپ سے متعلق ہے، جس میں رجسٹرڈ فلاحی اور سماجی تنظیمیں پناہ گزینوں کی کفالت کریں گی۔

دوسرا پروگرام یونیورسٹی اسپانسرشپ پر مشتمل ہوگا، جس کے ذریعے برطانوی جامعات مستحق پناہ گزین طلبہ کو تعلیم کے لیے اسپانسر کر سکیں گی اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔تیسرا راستہ روزگار کی بنیاد پر اسپانسرشپ کا ہوگا، جس کے تحت بعض کمپنیاں اور آجر مخصوص شرائط پوری کرنے والے پناہ گزینوں کو ملازمت کی غرض سے برطانیہ منتقل کر سکیں گے۔حکومتی حکام کے مطابق تعلیمی اسپانسرشپ پروگرام کے لیے درخواستیں رواں برس کے اختتام تک طلب کی جائیں گی، جبکہ منتخب افراد کی برطانیہ آمد کا عمل 2027 میں شروع ہونے کا امکان ہے۔اسی طرح ملازمت سے متعلق اسپانسرشپ پروگرام کو بھی اگلے سال مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ان اسکیموں کے تحت محدود تعداد میں افراد کو شامل کیا جائے گا اور ہر درخواست گزار کی مکمل سیکیورٹی جانچ اور اہلیت کے جائزے کے بعد ہی منظوری دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…