کین کون میں چار دن
کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ میکسیکو کے دارالحکومت سے پندرہ سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے‘ آپ اگر اسے نقشے میں دیکھیں تو آپ کو کین کون خلیج کا حصہ محسوس ہو گا‘ اس کے سامنے سمندرہے اورسمندر کے بعد خشکی کی لمبی پٹی‘ یہ پٹی باجا کیلیفورنیا کہلاتی ہے‘ سمندر کاوہ حصہ گلف آف کیلیفورنیا ہے‘ باجا کیلیفورنیا کی سرحدیں امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ملتی ہیں‘ امریکی شہر سین ڈیگو باجا کیلیفورنیا کی سرحد سے قریب ہے جب کہ لاس اینجلس بھی زیادہ دور نہیں‘ کین کون ماضی میں مایا سولائزیشن کا مرکز ہوتا تھا‘ یہ تہذیب آج کے میکسیکو‘ گوئٹے مالا‘ بلیز ( Belize) ہینڈوراس اور ایل سلوا ڈور تک پھیلی ہوئی تھی‘ اس کی تاریخ دو ہزر قبل مسیح تک جاتی ہے اور وہ سائنس‘ آرکی ٹیکچر‘ ریاضی‘ جیومیٹری‘ آرٹ‘ کلچر اور ٹائون پلاننگ میں ہماری تہذیبوں سے بہت آگے تھی‘ وہ لوگ اہرام (پیرا مڈ) بنانے کے ماہر تھے‘ وہ ریاضی میں صفر کا استعمال بھی جانتے تھے‘ انہوں نے ہم سے پہلے کاغذ ایجاد کیا تھا‘ کتابیں لکھی تھیں‘ مجسمہ سازی اور پتھروں میں نقش گری سیکھی تھی‘ فٹ بال اور باسکٹ بال کھیلنا شروع کیا تھا‘ وہ شہد کے استعمال سے بھی واقف تھے‘ کپڑا بناتے تھے‘ ہتھیار چلانا جانتے تھے‘ ان کا کیلنڈر ہم سے بہتر تھا‘ وہ ہم سے اچھے ستارہ شناس تھے‘ وہ دانتوں میں سوراخ کر کے ان میں سونا اور موتی بھی پرو لیتے تھے اور اندھیرے میں چمکنے والی سڑکیں بھی بنا لیتے تھے‘ وہ لوگ جسمانی لحاظ سے بھی ہم سے بہتر اور توانا تھے‘ مایا لوگ کہاں سے آئے تھے اور انہوں نے یہ علوم کہاں سے سیکھے؟ یہ آج تک مسٹری ہے‘ بہرحال کولمبس کے بعد سپینش جہاز رانوں نے انہیں دریافت کیا اور دو سو سال لگا کر ان کی تہذیب تباہ کر دی لیکن یہ اس کے باوجود ان کے اہراموں اور رہائشی عمارتوں کا جلوہ نہ توڑ سکے‘ یہ ان کی آن‘ بان اور شان کا مقابلہ نہ کر سکے‘ یہ آثار آج بھی قائم ہیں اور ماڈرن ذہن کو روزانہ ورطہ حیرت میں ڈالتے ہیں۔
مجھے مئی کے آخر میں کین کون جانے کا اتفاق ہوا‘ میں 9 مئی کو کینیڈا گیا تھا‘ مانٹریال میں میرے بچپن کے دوست صاحب زادہ غلام مجتبیٰ رہتے ہیں‘ ہم ہائی سکول میں اکٹھے پڑھتے رہے‘ 1984ء میں الگ ہوئے اور پھر زندگی کی آندھیاں ہمیں پیلے پتوں کی طرح اڑاتی
اور بکھیرتی رہیں‘ گزشتہ سال ان سے رابطہ ہوا‘ پرانی محبت دوبارہ جاگی اور ہماری تواتر کے ساتھ ملاقاتیں ہونے لگیں‘ مجھے انہوں نے ائیر پورٹ سے لیا اور میں دو دن مانٹریال اور کیوبک سٹی رہا اور پھر بیٹی کے پاس نیویارک چلا گیا‘اس کی گریجوایشن کا فنکشن (کانووکیشن) تھا‘ مئی میں نیویارک کے تمام تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے گریجوایشن فنکشن ہوتے ہیں چناں چہ شہر میں بے تحاشا رش ہوتا ہے‘ ہوٹل بھی نہیں ملتے‘ مجھے پونے گھنٹے کی ٹرین کے فاصلے پر نیوجرسی کے شہر ایڈیسن میں ہوٹل ملا‘ یہ شہر مشہور سائنس دان اور موجد تھامس ایڈیسن سے منسوب ہے‘ اس کی زندگی کا طویل ترین وقت اسی علاقے میں گزرا تھا‘ ایڈیسن کی لیبارٹری‘ گھر‘ لائبریری اور قبر بھی اسی شہر میں ہے‘ مجھے 2015ء میں یہاں آنے اور ایڈیسن کی لیبارٹری اور گھر دیکھنے کا موقع ملا تھا‘ بہرحال صاحب زادہ اور میرا کین کون جانے کا پلان بن گیا‘ نیوجرسی میں میرے ایک اور دوست رہتے ہیں‘ سید وسیم مہدی‘ یہ بھی حیران کن انسان ہیں‘ ان کی کہانی عزم اور ہمت کی لازوال داستان ہے‘ میں کسی روز تفصیل کے ساتھ یہ بیان کروں گا‘ یہ بھی تیار ہو گئے‘ ان کے ساتھ ان کے دوست سید سبط الحسن بھی شامل ہو گئے اور یوں ہم چار لوگ ہو گئے‘ میں نے 20 مئی کو نیویارک سے فلائٹ لی‘ صاحب زادہ مانٹریال سے آئے جب کہ سید برادران کی فلائیٹس مختلف تھیں‘ ہم بہرحال کین کون میں اکٹھے ہو گئے‘ کین کون ائیرپورٹ پر لینڈنگ کا منظر دل چسپ تھا‘ سمندر کے ساتھ ساتھ ہر طرف گھنا جنگل تھا‘ درخت کے ساتھ درخت اور پتوں کے ساتھ پتے جڑے ہوئے تھے‘ بالکل گھاس کی طرح نیچے دور دور تک سبزہ ہی سبزہ تھا اور اس کے درمیان کسی کسی جگہ سڑکوںکی لکیریں نظر آتی تھیں‘ ائیرپورٹ چھوٹا اور شہر سے دور تھا‘ ہمیں شہر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا‘ اس چھوٹے سے ائیرپورٹ پر اس دن 329 فلائیٹس لینڈ کر رہی تھیں۔ زیادہ تر امریکا‘ کینیڈا اور یورپ سے آ رہی تھیں اور ان میں سیاح بھرے ہو ئے تھے‘ آپ اس سے کین کون کی مقبولیت کا اندازہ کر لیجیے‘ آپ کے پاس اگر امریکا کا ویزا ہو تو آپ کو میکسیکو میں داخلے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم آپ کے لیے ہوٹل کی ریزرویشن ضروری ہوتی ہے‘میں بھی امریکن ویزے پر میکسیکو پہنچا‘ امریکا اور کینیڈا کی ائیرلائینز کین کون کا پورا پیکج بھی بیچتی ہیں‘ اس میں ائیرٹکٹ‘ ہوٹلز اور ائیرپورٹ ٹرانسفر شامل ہوتا ہے‘ ہم نے ائیر کینیڈا سے پیکج لیا تھا‘ ہمیں ہوٹل تک پہنچانا ان کی ذمہ داری تھی‘ائیرپورٹ کے سامنے ائیرکینیڈا کا سٹاف کھڑا تھا‘ اس نے ہمیں وین میں بٹھا دیا‘ کین کون میں بے تحاشا گرمی تھی‘ تیز دھوپ‘ جنگلات کے بخارات اور سمندری ہوائوں نے مل کر فضا کو ناقابل برداشت بنا دیا تھا مگر گورے اس موسم پر قربان ہو رہے تھے‘وہ قہقہے لگاتے ہوئے دھوپ میں کھڑے ہو رہے تھے جب کہ ہم سایہ تلاش کر رہے تھے‘ ہائی وے ہماری جی ٹی روڈ سے ملتی جلتی تھی‘ اس میں کھڈے اور پیوند بھی تھے اور سائیڈز پر کچرا اور گند بھی دکھائی دے رہا تھا‘ ہمیں شہر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا‘ میکسیکو کے حالات ٹھیک نہیں ہیں‘ پورے ملک میں مافیاز کی حکمرانی ہے‘ ڈرگ کارٹلز حکومت اور فوج سے کہیں زیادہ تگڑے ہیں‘ فوج نے فروری (2026ئ) میں مافیا لارڈ ایل مینچو (El Mancho) کے خلاف آپریشن کیا اور وہ فوج کی گولی سے مارا گیا تو ردعمل میں مافیا نے ملک کی اہم ترین عمارتوں‘ دفتروں اور ائیرپورٹس پر ہلہ بول دیا جس سے ملک جام ہو کر رہ گیا تھا‘ دنیا بھر سے میکسیکو کی ائیر ٹریفک بھی رک گئی تھی‘ میکسیکو کے ڈرگ کارٹلز اتنے تگڑے ہیں لیکن ٹورازم اس کے باوجود چل رہی ہے‘ میکسیکو سیاحت میں دنیا میں چھٹے نمبر پرآتا ہے‘اس کی تین وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ سیاحوں کی سیکورٹی اور سیفٹی ہے‘ حکومت نے زیادہ تر ریزارٹس‘ ہوٹلز اور سیاحتی سرگرمیوں کا بندوبست کنٹونمنٹس میں کر رکھا ہے‘ ہمارا ریزارٹ بھی چھائونی میں تھا‘ حکومت نے کین کون کے کنٹونمنٹس میں سمندر کے کنارے دنیا کے بڑے ہوٹلز اور برینڈز کو زمینیں الاٹ کر رکھی ہیں‘ ان کے پاس پرائیویٹ بیچز بھی ہیں‘ تمام ریزارٹس ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں‘ ان کی پشت پر سمندر ہے‘ یہ فل بورڈ اکاموڈیشن ہوتی ہے‘ ریسیپشن کا عملہ گاہک کی کلائی پر پلاسٹک کاربن باندھ دیتا ہے اور یہ اس کے بعد ریزارٹ میں دندناتا پھرتا رہتا ہے‘ ربن کی وجہ سے تمام ریستوران‘ بارز‘ سوئمنگ پولز اور بیچ ایکٹوٹیز فری ہو جاتی ہیں‘ حکومت نے ریزارٹس کے ساتھ جدید اور خوب صورت بازار بھی بنا رکھا ہے‘ یہ تین چار کلومیٹر لمبا ہے جس کی دونوں سائیڈز پر دکانیں‘ سٹورز‘ شاپنگ سنٹرز‘ ریستوران اور ڈسکوز ہیں جب کہ بازار کی پشت پر سمندر ہے‘ ہر روز شام کے وقت وہاں رونق لگ جاتی ہے‘ بازار صاف ستھرا اور محفوظ ہے‘ پولیس 24 گھنٹے اس کی نگرانی کرتی ہے‘ ریزارٹس ایریا بھی محفوظ ہے‘ اس میں مخصوص گاڑیاں داخل ہو سکتی ہیں‘ اجنبی گاڑی اور شخص اس ایریا میں نہیں آ سکتا چناں چہ سیاح ہر قسم کی پریشانی سے محفوظ رہتے ہیں۔
ہمارا ریزارٹ بھی سمندر تک پھیلا ہوا تھا‘جنرل ڈائننگ ایریا کے علاوہ میکسیکن‘ اٹالین اور انٹرنیشنل فوڈز کے الگ الگ ریستوران تھے‘ کافی شاپس اور بارز بھی تھیں اور یہ 24 گھنٹے کھلی رہتی تھیں‘ جگہ جگہ لائیو میوزک کا بندوبست تھا‘ ریزارٹ جنگل کے اندر بنا تھا‘کمرے درختوں کے درمیان تھے اور چھوٹے اور بے ضرر جنگلی جانور سارا دن ہوٹل میں پھرتے رہتے تھے‘ سوئمنگ پولز بیچ کے ساتھ تھے‘ سارا دن وہاں رونق رہتی تھی‘ میں اور صاحب زادہ مجتبیٰ اکھٹے ہوٹل پہنچے تھے جب کہ سید برادران وقفے وقفے سے ہوٹل آئے‘ ہمارا پہلا دن ماحول کو سمجھنے میں لگ گیا‘ شام کے وقت ساحل پر ٹہلتے رہے‘ ریزارٹس گلف آف کیلیفورنیا کے کنارے ہیں‘ سمندر ہلکے سبز رنگ کا ہے‘ شام کی لالی‘ نیلاآسمان اور سبز سمندر یہ تینوں رنگ مل کر عجیب منظر تخلیق کررہے تھے‘ اس منظر نے ہمارے دل کھینچ لیے تھے‘ ہم بڑی دیر تک ساحل پر ٹہلتے رہے اور واپسی پر سوئمنگ پولز میں گھس گئے‘ سید سبط الحسن اور وسیم مہدی کی عمریں 65 برس ہیں‘ انہوں نے انکشاف کیا ہم نے زندگی میں کبھی شارٹ (کچھا) نہیں پہنا اور ہم پول میں بھی نہیں اترے‘ ہم ان کے اس معصوم سے انکشاف پر دیر تک ہنستے رہے‘ ہم پنجاب کے اس علاقے سے تعلق رکھتے تھے جہاں ہنسنا‘ خوش ہونا‘ پتلون پہننا اور سوئمنگ گناہ سمجھی جاتی تھی‘ ہماری پرورش اس ماحول میں ہوئی تھی چناں چہ ہمیں باتھ روم میں بھی کپڑے اتارتے ہوئے شرم آتی ہے‘ سید برادران کی زندگی کا بڑا حصہ امریکا میں گزرا مگر ان کا سٹائل اور زندگی کا فلسفہ گجرات سے باہر نہیں آ سکا‘ یہ شان دار اور کام یاب لوگ ہیں‘ زندگی میں بے انتہا محنت کی مگر یہ اس محنت کے دوران اپنے آپ کو اہمیت اور وقت دینا بھول گئے‘ یہ جائز اور حلال خوشیوں سے بھی محروم رہے‘ ہم نے بڑی مشکل سے سبط الحسن کو شارٹ پہننے اور سوئمنگ پول میں اترنے پر مجبور کیا‘ بہرحال اگلے دن شاہ صاحب نارمل ہو چکے تھے‘ کمروں میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں تھی‘ ہمیں اس کے لیے لابی‘ ریستوران اور صحن میں آنا پڑتا تھا چناں چہ صحن میں ہر وقت رش رہتا تھا‘ لوگ وہاں کھڑے ہو کر موبائل پر بات بھی کرتے تھے‘ گاتے بھی تھے‘ ڈانس بھی کرتے تھے اور ہر قسم کے مشروب سے بھی لطف لیتے تھے‘ ہم کافی اور چائے تک محدود تھے لہٰذا ہم جب کافی یا گرین ٹی لینے کے لیے کائونٹر پر جاتے تھے تو بار ٹینڈر ہمیں حیرت سے دیکھتا تھا بہرحال پوری ہوش میں رہ کر دنیا کو دیکھنا بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور الحمد للہ میں نے کھلی آنکھوں اور بیدار ذہن کے ساتھ اس کابھرپور لطف لیا۔
مجھے اس رات زکام کا خوف ناک اٹیک ہو گیا‘ میں عموماً زکام اور کھانسی سے محفوظ رہتا ہوں لیکن اس سال موسم بہار میں پہلی بار پولن کا نشانہ بنا‘ اسلام آباد میں بھی زکام کے حملے ہوتے رہے‘ کینیڈا میں بھی اور اب میکسیکو میں بھی برا حال ہو گیا‘ میں نے حالات کا تھوڑا سا جائزہ لیا تو پتا چلا ائیر کنڈیشنڈ اس کا ذمہ دار ہے‘ میں جوں ہی ائیرکنڈیشنڈ میں آتا ہوں ناک اور منہ سے پانی نکلنا شروع ہو جاتا ہے‘ رات کے وقت سانس بند ہونے لگا جس کے بعد سخت گرمی میں اے سی بند کرنا پڑ گیا‘ اس سے زکام تو رک گیا لیکن نیند اور سکون جاتا رہا لیکن میرے پاس دو ہی آپشن تھے‘ گرمی میں جاگتا رہوں یا ٹشو پیپر کا انبار لگا دوں‘ مجھے گرمی زکام سے بہتر محسوس ہوئی چناں چہ میں نے خود کو پسینے کے جوہڑ کے حوالے کر دیا‘ ہمارا اگلا دن اہم اور دل چسپ تھا (جاری ہے)۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
نثار خان اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شامل
-
لائٹ ڈیزل 30روپے 61پیسے،مٹی کا تیل 41روپے 44پیسے فی لٹر سستا
-
200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کیلیے اہم خبر
-
پاکستان کو آئی سی سی ورلڈکپ کی میزبانی مل گئی
-
حج کرنے کے بعد گنجے کیوں نہیں ہوئے؟ مصباح الحق نے وجہ بتادی
-
پاکستان میں محرم کے چاند کی رویت سے متعلق پیشگوئی کر دی گئی
-
متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
-
بیہودہ ڈانس کی ویڈیو بنانے والے ٹک ٹاکرز گرفتار
-
تیز رفتار لینڈ کروزر نے 8 افراد کو کچل دیا، 4 جاں بحق
-
موجودہ عہد میں بہت زیادہ جوان افراد کینسر کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟ اہم وجہ دریافت
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
قومی بچت سکیموں کے منافع کی شرح میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
حجاج کرام کے لیے سامان اور آبِ زم زم سے متعلق ایئرلائنز پالیسی جاری





















































