بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

کوبا مایان

datetime 4  جون‬‮  2026
کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون میں ٹیکسی سروس اچھی ہے‘ تمام ٹیکسیاں رجسٹرڈ ہیں‘ ڈرائیور یونیفارم میں ہوتے ہیں‘ گاڑیاں صاف ستھری ہیں اور کرائے فکس ہیں‘ ہوٹل کے گیٹ پر ٹیکسیوں کے کرائے لکھے ہوتے ہیں‘ ٹیکسی کا بندوبست بھی ہوٹل کرتا ہے‘ ہم نے کوبا اور تلوم دو منازل کے لیے ٹیکسی لے لی‘ ڈرائیور سپینش تھا‘ واجبی سی انگریزی جانتا تھا‘ کوبا اڑھائی گھنٹے کی ڈرائیو پر گھنے جنگلوں میں تھا‘ مایا لوگ جنگلوں میں شہر اور قصبے آباد کرتے تھے تاکہ یہ دشمنوں سے محفوظ رہ سکیں‘ دوسرا یہ فطرت پرست تھے‘ پانی اور درختوں کی پوجا کرتے تھے‘ جنگلوں میں پانی کے تالابوں کے قریب رہتے تھے‘ کوبا کا مطلب ہی پانی کی زمین یا جھیل کے قریب تھا‘ کوبا مایا لوگوں کی بڑی بستی یا شہر تھا‘ شہر 50 قبل مسیح میں آباد ہوا‘ دائیں بائیں گھنے جنگل تھے‘ آپ اگر فضا سے شہر کو تلاش کرنا چاہیں تو یہ آپ کو نظر نہیں آئے گا‘ اس کی آبادی 50 ہزار نفوس تک تھی‘ یہ تباہی کے بعد جنگلوں کا حصہ بن گیا اور اسے درختوں‘ جھاڑیوں اور بیلوں نے ڈھانپ لیا‘ اسے سب سے پہلے 1842ء میں جان لائیڈ سیفنز نام کے سیاح اور محقق نے تلاش کیا‘ 1920ء میں اسے باقاعدہ آثار قدیمہ سمجھا گیا اور 1970ء میں اسے سیاحت کے لیے کھول دیا گیا‘ شہر 27 مربع میل پر مشتمل تھا‘ سردست اس کا صرف دو کلومیٹر کا علاقہ کھلاتھا‘ اس میں چھ ہزار عمارتوں کے آثار ہیں‘ کوبا کے وزٹ کے لیے مرکزی شاہراہ سے اتر کر گھنے جنگل میں جانا پڑتا ہے‘ گیٹ پر دو قسم کے ٹکٹ ملتے ہیں‘ پہلا ٹکٹ پارکنگ اور ٹکٹ گھر تک جانے کے لیے ہوتا ہے جب کہ دوسرے ٹکٹ کے ذریعے سیاح آثار دیکھ سکتے ہیں‘ آثار کو سمجھنے کے لیے گائیڈ ضروری ہیں‘ ہمیں ٹکٹ گھر کے سامنے گائیڈ مل گیا‘ اس نے ہم سے سو ڈالر وصول کیے اور ہمیں ساتھ لے کر جنگل میں داخل ہوگیا‘ گھنے جنگل کے درمیان خشک پتھریلی پگڈنڈی تھی‘ گورے پورا دن گزارنے کے لیے یہاں آتے ہیں‘ یہ پیدل پھرتے ہیں یا سائیکل چلا کر تمام آثاروں کا طواف کرتے ہیں‘ ٹکٹ گھر سے چند منٹ کے فاصلے پر سائیکل سٹینڈ موجود تھا جہاں سے سائیکلیں کرائے پر مل سکتی تھیں۔ گائیڈ ہمیں سب سے پہلے شہر کے نقشے کے پاس لے کر گیا‘ اس کا کہنا تھا یہ شہر سینکڑوں
میل تک پھیلا ہوا تھا‘ اس کے گرد پانچ جھیلیں تھیں‘یہ آ ج بھی موجود ہیں‘ مایا لوگ پتھروں کی عمارتیں بناتے تھے‘ اہرام بنانے کے ماہر تھے‘ اہرام بنانے کی دو وجوہات تھیں‘ وہ ستارہ شناس تھے‘ وہ بلندی سے ستاروں کی چال کو سمجھنا چاہتے تھے اور دوسرا وہ دور سے دشمن کو بھانپنے کے لیے بھی اونچی عمارتیں بناتے تھے‘ علاقے میں خاص قسم کے درخت پائے جاتے تھے‘ ایک درخت سے اخروٹ جتنا پھل اترتا تھا‘ اس کے اندر سے گوند نکلتی تھی‘ مایا لوگ اس سے چیونگم بناتے تھے‘ یہ دانتوں اور منہ کی صفائی کے لیے اچھی ہوتی تھی‘ وہ لوگ پورا دن اسے چباتے رہتے تھے‘ یہ آج بھی بنتی ہے ‘ سیاح اسے خرید کر لے جاتے ہیں‘ یہ بے ذائقہ اور بے بو ہوتی ہے لیکن دانتوں کے لیے بہت اچھی ہوتی ہے‘ ہم نے آخر میں وہ چیونگم خریدی لیکن سچی بات ہے مزہ نہیں آیا‘دوسرے درخت سے اُون نکلتی تھی جس سے وہ کپڑا بناتے تھے یا اسے سرہانوں اور گدوں میں بھر کر استعمال کرتے تھے‘ گائیڈ نے بتایا کوبا میں باقی دنیا سے قبل کاغذ ایجاد ہو گیا تھا‘ مصریوں نے پیپرس درخت سے پیپر بنایا تھا اور چینیوں نے چاول کے پودوں سے جب کہ مایا لوگ جنگلی انجیر کے درخت سے کاغذ بناتے تھے‘ یہ درخت کی چھال کو اُبالتے تھے‘ اسے پتھر کی سل پر پھیلا کر کوٹتے تھے اور آخر میں اس پر چونے کی تہہ جما کر اسے کاغذ کی شکل دے دیتے تھے‘ وہ سیاہی بھی بنانا جانتے تھے اور لکھنا بھی‘ مایا لوگوں نے سینکڑوں کتابیں لکھیں اور وہ باقاعدہ لائبریریوں کے مالک تھے‘ وہ لوگ چونے کی چٹانوں پر کھدائی کر کے فرمان بھی لکھتے تھے‘ گائیڈ نے اس کے بعد ہمیں تین ایسی چٹانیں دکھائیں جن پر باریک اوزاروں سے باقاعدہ کھدائی کر کے پیغامات لکھے گئے تھے‘ مایا لوگوں کا رسم الخط تصویری تھا اور چینی زبان کی طرح اس کے حروف کی تعداد زیادہ تھی‘ گائیڈ نے بتایا ان کا ڈی این اے منگول تھا‘ یہ لوگ برف کے زمانے میں منگولیا سے آ کر لاطینی امریکا میں آباد ہوئے تھے‘ برف پگھلنے کے بعد ان کا باقی دنیا سے رابطہ ختم ہو گیا‘ یہ رابطہ کولمبس کے بعد دوبارہ استوار ہوا‘ سپینش لوگ یہاں آئے‘ ان پر حملہ کیا‘ ان کی تہذیب برباد کی‘ کتابیں جلا دیں اور ان کا مذہب اور روایات کچل دیں‘ گائیڈ نے بتایا مایا لوگوں کی پشت پر ہاتھ کے پنجے کا نشان ہوتا تھا‘ اس قسم کا نشان منگولوں کی پیٹھ پر بھی تھا‘ گائیڈ کے بقول عیسائی مشنریوں نے مایا لوگوں کی سینکڑوں کتابیں جلا دیں‘ صرف چار بچی ہیں‘ یہ اس وقت جرمنی‘ سپین‘ فرانس اور میکسیکو سٹی کے میوزیم میں رکھی ہیں‘ یہ زراعت کے علم سے واقف تھے‘ مختلف قسم کی فصلیں کاشت کرتے تھے‘ کوبا میں انسانی قربانی نہیں ہو تی تھی‘ انسان کی قربانی صرف چیچنزا (Chichen Itza) میں ہوتی تھی‘ کوبن صرف انسانی خون کی قربانی دیتے تھے۔ گائیڈ ہمیں پہلے اہرام پر لے گیا‘ یہ پتھروں کے اوپر پتھر جوڑ کر بنایا گیا تھا (تصویریں اور ویڈیو کالم کے نیچے ملاحظہ کریں) یہ سامنے سے اہرام دکھائی دیتا تھا جب کہ پشت سے سپاٹ تھا‘ اس کے اوپر پرانے زمانے میں مایا لوگوں کا مندر ہوتا تھا‘ لوگ عبادت کے لیے اوپر جاتے تھے‘ اس کے ساتھ سٹیڈیم تھا‘ گائیڈ نے بتایا مایا لوگ فٹ بال اور باسکٹ بال کھیلتے تھے‘ ان کا فٹ بال تین کلو گرام کا ہوتا تھا‘ وہ لوگ کھیل کے دوران پائوں‘ ہاتھ اور سر استعمال نہیں کر سکتے تھے‘ صرف پنڈلی‘ کندھے اور پیٹھ سے گیند کو ہٹ کرتے تھے‘ سٹیڈیم کے درمیان میں کھیل کا میدان تھا جب کہ دونوں سائیڈز پر اوپر سے نیچے کی طرف پتھر کی نشستیں بنی تھیں‘فٹ بال کے گول نشستوں کے اوپر تھے اور چابی کی طرح تھے‘ ان میں سے گیند گزارنا واقعی مشکل تھا اور اس کے لیے خاصی مہارت درکار تھی (تصویریں آخر میں ملاحظہ کریں) آج کا فٹ بال اور باسکٹ بال اس کے مقابلے میں بہت آسان ہے‘ گائیڈ کے مطابق یہ کھیل مقدس تھا اور منت مانگنے اور دعا قبول کرانے کے لیے کھیلا جاتا تھا‘ کھیل میں جیتنے والا قربانی دیتا تھا‘ اس کی زبان اور مردانہ اعضاء چھید کر خون نکالا جاتا تھا‘ اسے ٹمپل کے اوپر جلایا جاتا تھا اور خون کے دھوئیں کی وجہ سے بارش ہوتی تھی‘ یہ لوگ دانتوں میں سوراخ کر کے ان میں موتی اور سونے کی تاریں پروتے تھے‘ وہ دانت میں سوراخ کرنے کی تکنیک جانتے تھے‘ گائیڈ اس کے بعد ہمیں ایک ایسی سڑک پر بھی لے کر گیا جو مایا لوگوں نے پندرہ سو سال قبل بنائی تھی‘ سڑک زمین سے بلند تھی‘ پتھروں سے بنی تھی اور یہ چاند کی روشنی میں چمکتی تھی جس کی وجہ سے رات کے وقت بھی اس پر سفر ممکن تھا‘کوبن لوگ سڑک کو رات کے وقت چمکانے کے لیے اس پر خاص قسم کا پائوڈر ملتے تھے‘ وہ سڑک 60 میل لمبی تھی اور کوبا کو ساحلی شہر تلوم سے ملاتی تھی‘ وہ لوگ درختوں کے ریشوں سے اُون بناتے تھے‘ اس اُون اور شہد کی تجارت کرتے تھے‘ شہد کی مکھیاں باقی دنیا سے مختلف تھیں‘ وہ سائز میں چھوٹی تھیں‘ ربڑ کے درختوں کے اندر پرورش پاتی تھیں اور ان کا شہد باقی دنیا سے مختلف ہوتا تھا‘ سڑک کے ساتھ ٹیکس وصولی کا دفتر بھی تھا‘گائیڈ ہمیں ماضی کی چیک پوسٹ پر بھی لے کر گیا‘ وہاں کوبا آنے اور جانے والوں کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا‘ شہر پر عورتوں کی حکومت بھی رہی‘ قدیم کتابوں اور پتھر پر درج عبارت سے اس کا ثبوت ملتا ہے‘ ہم بے نظیر بھٹو کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ڈکلیئر کر کے بہت خوشیاں مناتے ہیں جب کہ کوبا میں ڈیڑھ ہزار سال قبل خواتین حکمران رہی تھیں اور مرد ان کے ماتحت تھے‘ وہ لوگ درختوں کے کیڑے بھی کھاتے تھے‘ درختوں میں ’’گنڈویا‘‘ ٹائپ کے کیڑے پیدا ہوتے تھے‘ وہ انہیں چن کر زندہ یا پکا کر کھا جاتے تھے‘ یہ کیڑے آج بھی پیدا ہوتے ہیں‘ ہم نے بھی دیکھے لیکن وہ بہت بدصورت اور بدبودار تھے‘ وہ لوگ ارینج میرج کرتے تھے‘ مرضی کی شادی یا بھاگ کر شادی کا کوئی رواج نہیں تھا‘ دونوں خاندانوں کی مرضی سے شادی ہوتی تھی اور عورتیں ہر قسم کا کام کرتی تھیں۔ کوبا کا آخری پورشن زیادہ یاد گار تھا‘ ہمیں جنگل کے درمیان لایا گیا‘ وہاں سائیکل رکشے اور سائیکلیں کھڑی تھیں‘ سیاح کرائے پر سائیکل حاصل کر سکتے تھے یا پھر سائیکل رکشہ لے سکتے تھے‘ گائیڈ کے بقول اگلا سفر دو کلومیٹر طویل ہے لہٰذا یہ پیدل مشکل ہو جائے گا‘ ہم نے سائیکل رکشہ لے لیا‘ سائیکل رکشہ ہمارے رکشے سے مختلف تھا‘ ہمارے رکشوں میں ڈرائیور آگے اور سواریاں پیچھے بیٹھتی ہیں جب کہ کوبا کے رکشے میں دونوں سواریاں سامنے ہوتی ہیں اور ڈرائیور پیچھے چناں چہ سواریاں سفر کو زیادہ انجوائے کرتی ہیں‘ یہ لوگ ان رکشوں کو ’’لیموزین‘‘ کہتے ہیں۔ اگر لیموزین کمپنی کو اپنے برینڈ کی اس بے عزتی کا علم ہو جائے تو شاید کمپنی خود کشی کر لے‘ ہم بہرحال دو لیموزین پر بیٹھ کر کوبا کے آخری پوائنٹ پر آ گئے‘ یہ نوچ مل (Nohoch Mul) کا اہرام تھا‘ یہ اس شہر کی بلند ترین عمارت اور سب سے بڑا اہرام تھا‘ اس سے پورا علاقہ دکھائی دیتا تھا‘ وہ 142 فٹ بلند تھا‘ اس کی تعمیر میں لاکھوں پتھر استعمال ہوئے تھے‘ اہرام کی چوٹی پر سب سے بڑا ٹیمپل تھا‘ ماضی میں پتھروں کی سیڑھیوں کے ذریعے چوٹی پر پہنچا جاتا تھا لیکن اب حکومت نے سیاحوں کی سہولت کے لیے لکڑی کی سیڑھیاں بنا دی ہیں اور دونوں سائیڈز پر سہارے کے لیے رسے بھی باندھ دیے ہیں‘ سیڑھیاں ڈبل تھیں یعنی سیڑھی کا ایک سٹیپ دو تین سٹیپس کے برابر تھا‘ یہ ٹوٹل 120 سیڑھیاں تھیں اور خاصی مشکل تھیں‘ میں یہ سوچ کر یہ مشکل سیڑھیاں چڑھ گیا کہ شاید کل میں ان سے بھی چھوٹی سیڑھیاں چڑھنے کے قابل نہ رہوں‘ اللہ کا خاص کرم تھا میں ایک ہی سانس میں ساری سیڑھیاں چڑھ گیا‘ اوپر کا منظر واقعی لاجواب تھا‘ دور دور تک تاحد نظر گھنا جنگل تھا‘ جہاں تک بینائی جاتی تھی وہاں تک سبزہ بچھا ہوا تھا‘ اس سبزے میں کوبا شہر کہاں کہاں تھا؟یہ تلاش کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی تھا‘ جنگل چاروں طرف دکھائی دیتاتھا‘ اہرام کے اوپر ٹیمپل تھا‘ یہ کوبنز کی مقدس ترین دیوی کا مندر تھا‘ نیچے سیڑھیوں کے ساتھ ٹمپل کی دیوی کا بت لگا تھا‘ وہ عورت کا دھڑ تھا جس نے اپنی دونوں ٹانگیں پشت سے اوپر آسمان کی طرف اٹھائی ہوئی تھیں‘ اہرام کے اوپر ٹیمپل کی چھت پر بھی دیوی کا اس نوعیت کا بت تھا تاہم وہ بت زمانہ برد ہو چکا تھا‘ صرف نشان باقی تھا‘ اہرام کی چھت سے وادی کو دیکھنا واقعی حیران کن تجربہ تھا‘ وہاں تقدس کا احساس بھی ہوتا تھا‘ یہ شان دار شہر چیچنزا (Chichen Itza) سے جنگ کے دوران تباہ ہو گیا تھا‘ وہ جنگ 850ء سے 900ء کے درمیان لڑی گئی تھی‘ جنگ سے قبل کوبا مایا سولائزیشن کا سب سے بڑا شہر اور ریاست ہوتی تھی لیکن پھر چیچنزا کے لوگوں نے اسے فتح کر لیا جس کے بعد یہ شہر آباد رہا مگر اس کی حیثیت سیکنڈری ہو گئی اور مرکز چیچنزا میں شفٹ ہو گیا‘ گائیڈ نے بتایا کوبا اور چیچنزا کے لوگ آج گیارہ سو سال بعد بھی ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے‘ ہم ان کے بارے میں برا کہتے ہیں اور وہ سارا دن ہمیں گالیاں دیتے رہتے ہیں‘ وہ انسانوں کی قربانی کرنے والے درندہ صفت لوگ تھے جب کہ ہم امن پسند ہیں‘ یہ کہتے وقت گائیڈ کے لہجے میں نفرت سی پیدا ہو گئی‘ میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ لوگ مایا ہیں؟‘‘ اس کا جواب تھا ’’ہم یہاں کام کرنے والے زیادہ تر لوگ مایا ہیں‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’کیا تمہاری پیٹھ پر بھی پنجے کا نشان موجود ہے؟‘‘ اس نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ میں نے کہا ’’کیا تم ہمیں اس نشان کی زیارت کرا سکتے ہو؟‘‘ وہ مسکرایا اور پھر شرما کر انکار کر دیا۔    

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…