منگل‬‮ ، 21 جولائی‬‮ 2026 

سعودی عرب میں روزگار کیلیے مقیم غیرملکی ملازمین کو آخری ڈیڈ لائن دے دی گئی

datetime 29  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ 30 جون کے بعد زائد المیعاد ورک پرمٹ رکھنے والے کارکنان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کے ماتحت کام کرنے والے ’’قویٰ‘‘ پلیٹ فارم نے اعلان کیا ہے کہ ایسے غیر ملکی ملازمین جن کے ورک پرمٹ کی مدت ختم ہوئے تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، ان کے نام یکم جولائی سے اداروں کے ریکارڈ سے خودکار طور پر حذف کیے جانے لگیں گے۔قویٰ پلیٹ فارم نے تمام کمپنیوں اور آجرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 جون سے قبل اپنے ملازمین کے ورک پرمٹ کی تجدید مکمل کریں یا ضرورت پڑنے پر ان کی ملازمت کسی دوسرے ادارے کو منتقل کرنے کے اقدامات کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ملازم کا ورک پرمٹ تین ماہ سے زیادہ عرصے تک غیر فعال یا زائد المیعاد رہے تو اسے خودکار نظام کے تحت ادارے کے ریکارڈ سے خارج کر دیا جائے گا۔ تاہم اس دوران تمام مالی ذمہ داریاں اور واجبات متعلقہ آجر کے ذمے رہیں گے۔

قویٰ کے مطابق بعض حالات میں کارکن کا ریکارڈ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اگر کسی ملازم کا اقامہ کم از کم 180 دن کے لیے مؤثر اور کارآمد ہو تو ادارہ وقتی طور پر اس کا اندراج برقرار رکھ سکتا ہے، چاہے ورک پرمٹ کی تجدید نہ بھی ہوئی ہو۔دوسری جانب اگر اقامے کی باقی مدت 180 دن سے کم رہ جائے تو آجر کے لیے اقامہ اور ورک پرمٹ دونوں کی بروقت تجدید لازمی ہوگی، بصورت دیگر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔حکام نے مزید خبردار کیا ہے کہ ایسے غیر ملکی کارکنان جو طویل عرصے سے غیر مؤثر یا ایکسپائر ورک پرمٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ان کا اندراج خودکار طریقے سے ختم کر دیا جائے گا۔قویٰ پلیٹ فارم نے آجرین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بقایا فیسوں کی فوری ادائیگی کریں اور متاثرہ ملازمین کی قانونی حیثیت بحال کرنے کے لیے بروقت اقدامات کریں، تاکہ جرمانوں اور دیگر قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…