جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا

datetime 12  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(نوز ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی کی درخواست 13 سال بعد خارج کردی۔

عدالت نے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئین کے تحت کسی رکن پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کا اختیار ہائی کورٹ کے پاس نہیں ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شازیہ مری نے 2002 میں ایک ہم نام طالبہ کے نام پر جاری ہونے والی ڈگری مبینہ طور پر اپنے استعمال میں لائی۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اسی نوعیت کا اعتراض 2018 کے عام انتخابات کے دوران الیکشن ٹربیونل میں بھی اٹھایا جا چکا ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے 2022 میں شازیہ مری کی ڈگری سے متعلق اعتراض مسترد کردیا تھا، جبکہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل 2023 میں واپس لیے جانے کے باعث خارج ہوگئی تھی۔

شازیہ مری کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈگری کا معاملہ پہلے ہی الیکشن کمیشن کے سامنے مکمل شواہد کے ساتھ زیرِ بحث آچکا ہے اور کمیشن اس حوالے سے درخواست مسترد کرچکا ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آئین کے تحت کسی فرد کو ’’صادق و امین‘‘ قرار دینے یا نااہلی کا فیصلہ کرنے کا اختیار متعلقہ عدالتی ٹربیونلز کو حاصل ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ صرف آئینی درخواست کی بنیاد پر کسی رکن پارلیمنٹ کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا، جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں موجودہ درخواست قابلِ سماعت نہیں بنتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…