اسلام آباد (نیوز ڈیسک)لاہور کے علاقے دروغہ والا انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم ایک ٹیکسٹائل فیکٹری کے مالک مسعود اختر نے الزام عائد کیا ہے کہ انسپکشن کے لیے آنے والے اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے ہمراہ موجود اہلکاروں نے ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا،
انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی، جبکہ مداخلت کرنے والے فیکٹری ملازمین کو گرفتار کرکے ان پر مقدمات درج کر دیے گئے۔مسعود اختر کے مطابق چند افراد فیکٹری کے مرکزی دروازے پر پہنچے اور بتایا کہ وہ ڈینگی سے متعلق انسپکشن کے لیے آئے ہیں۔ گیٹ پر موجود عملے نے انتظامیہ کو اطلاع دی، جس پر انہیں کچھ دیر انتظار کرنے کی درخواست کی گئی کیونکہ اس وقت فیکٹری میں دیگر سرکاری افسران کی انسپکشن جاری تھی۔ان کا کہنا تھا کہ تقریباً دس منٹ بعد اسسٹنٹ کمشنر خود موقع پر پہنچے اور عملے سے سخت لہجے میں فوری طور پر دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں جب وہ فیکٹری کے اندر آئے تو انہوں نے اپنا تعارف جاننے کی کوشش کی تاکہ انسپکشن کے دوران مکمل تعاون کیا جا سکے، تاہم اس سوال پر مبینہ طور پر افسر اور ان کے گارڈز برہم ہوگئے۔فیکٹری مالک کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ وہ اسسٹنٹ کمشنر کو نہیں پہچانتے، جس پر انہوں نے وضاحت کی کہ ماضی میں ایک جعلی شخص ایف بی آر کا اہلکار بن کر فیکٹری آیا تھا، جس نے ریکارڈ حاصل کرنے اور رقم طلب کرنے کی کوشش کی تھی، اسی واقعے کے بعد وہ ہر سرکاری اہلکار سے شناخت کی تصدیق کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔مسعود اختر نے مزید دعویٰ کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی پر سرکاری نمبر پلیٹ بھی موجود نہیں تھی بلکہ صرف “Applied For 2024” درج تھا، جس کی وجہ سے ان کے شکوک مزید بڑھ گئے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گفتگو کے دوران انہیں دھکے دیے گئے، گریبان سے پکڑا گیا اور زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی گئی۔ شور شرابہ سن کر فیکٹری کے کارکن موقع پر پہنچے اور اپنے مالک کے ساتھ بدسلوکی پر احتجاج کیا۔فیکٹری مالک کے مطابق اہلکاروں نے کارکنوں کو دھمکیاں دیں، جبکہ ملازمین کا مؤقف تھا کہ انہوں نے صرف اپنے مالک کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران انسپکشن کا عمل سرے سے انجام ہی نہیں دیا گیا۔مسعود اختر نے مزید دعویٰ کیا کہ کارکنوں نے انہیں گاڑی میں لے جانے سے روک دیا، جس کے بعد اہلکار چند ملازمین کو حراست میں لے گئے۔ ان کے مطابق ان ملازمین کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور بعد میں ان کے خلاف مختلف مقدمات درج کر دیے گئے، جبکہ ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔



















































