اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

فیصل آباد میں شوہر نے مبینہ طور پر قرض کی رقم کے بدلے اپنی بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا

datetime 15  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) فیصل آباد کے علاقے کوکیاں والا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے شوہر نے قرض کے تنازع کے بعد اسے اپنے ایک دوست کے حوالے کر دیا، جہاں اسے مبینہ طور پر جبری نکاح، تشدد اور دیگر سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

متاثرہ خاتون نادیہ، جو اس وقت مدن پورہ میں اپنی والدہ کے گھر مقیم ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی شادی تقریباً بارہ برس قبل عثمان نامی شخص سے ہوئی تھی اور ان کے تین بچے ہیں۔ ان کے مطابق شادی کے بعد خاندان کرائے کے مکان میں منتقل ہوا، جہاں شوہر نے اپنے ایک دوست شہزاد، جو پیشے کے اعتبار سے پراپرٹی ڈیلر ہے، سے قرض حاصل کیا۔خاتون کے مطابق قرض کی واپسی کے معاملے پر شوہر نے انہیں مبینہ طور پر اپنے دوست کے حوالے کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں شوہر دو بچوں کو ساتھ لے کر چلا گیا، جبکہ انہیں اور ان کے کم عمر بیٹے کو اسلحے کے زور پر ایک دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا اور اہل خانہ سے رابطہ بھی منقطع کر دیا گیا۔متاثرہ خاتون نے مزید دعویٰ کیا کہ بعد میں ان کے نام پر مبینہ طور پر جعلی طلاق نامہ تیار کیا گیا، شناختی دستاویزات پر زبردستی دستخط اور انگوٹھے لگوائے گئے، اور بعد ازاں دھمکیاں دے کر ان سے جبری نکاح کرایا گیا۔ ان کے بقول اس دوران انہیں مسلسل ہراساں کیا گیا اور ایک سال تک مختلف نوعیت کے ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔نادیہ کا کہنا ہے کہ ان کے بھائیوں نے طویل تلاش کے بعد انہیں واپس گھر پہنچایا، تاہم ان کا ایک کم عمر بیٹا اب بھی مبینہ طور پر ملزم کے پاس ہے، جبکہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

متاثرہ خاتون کے مطابق انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے سی پی او فیصل آباد کو درخواست دے رکھی ہے، لیکن اب تک نہ تو ملزمان گرفتار ہو سکے ہیں اور نہ ہی ان کے بچوں کی مکمل بازیابی ممکن ہو سکی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ان کے تینوں بچوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…