آئی سٹل لو یو
یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ اور کیتھی کی محبت کی کہانی۔ یہ پچھلی دہائی کی سب سے بڑی کہانی تھی اور یہ ہمیشہ پڑھنے اور سننے والوں کے گرم خون میں ٹھنڈک بن کر اتر جاتی ہے۔ جارج سمتھ ’’ہاف کاسٹ‘‘ امریکن تھا‘ اس کے آبائو اجداد چار سو سال پہلے ایتھوپیا سے غلام بنا کر امریکا لائے گئے تھے اور یہ لوگ صدیوں تک گوروں کے کھیتوں میں کام کرتے رہے‘ ان کے جانور پالتے رہے‘ ان کے لیے بیئر اور وائین بناتے رہے اور ان کے گھروں کے لیے جنگل کاٹتے رہے‘غلامی کے اس دور میں کسی وقت ان کی سیاہ رنگت میں کسی سفید گورے کی ’’جاگ‘‘ لگ گئی اوریوں ان کی نسل گندمی ہونا شروع ہو گئی یہاں تک کہ جارج سمتھ تک پہنچ کر یہ لوگ سفید فام ہو گئے۔ بس جارج کے موٹے ہونٹ اور گھنگریالے بال اس کے آبائو اجداد کی آخری نشانیاں رہ گئے۔ جارج ہارورڈ یونیورسٹی کا گریجوایٹ تھا‘ وہ سیاٹل میں کمپیوٹر سافٹ وئیر کا بزنس کرتا تھا اور خوش حال اور مطمئن زندگی گزار رہا تھا جب کہ کیتھی کے آبائو اجداد کا تعلق میکسیکو کے ساتھ تھا‘ یہ لوگ دو نسل پہلے الپاسو سے نیویارک شفٹ ہوئے تھے اوریہ بھی یورپین امریکن خاندانوں میں ’’مکس‘‘ ہوتے ہوتے اپنا رنگ روپ تبدیل کر بیٹھے۔
جارج اور کیتھی کی ملاقات واشنگٹن میں ہوئی‘ یہ دونوں سافٹ وئیر کی کسی نمائش میں ملے‘ دوستی ہوئی‘ محبت ہوئی‘ دونوں نے شادی کی اور سیاٹل میں خوب صورت‘ خوش گوار‘ خوش حال اور گرم جوش زندگی گزارنے لگے‘ شادی کے دو سال بعد معلوم ہوا جارج سمتھ کے خون میں کوئی کیمیائی خرابی ہے جس کے باعث ’’سپرم‘‘ پیدا نہیں ہوتے چناںچہ جارج اولاد کی نعمت سے محروم رہے گا۔یہ دونوں کے لیے بری خبر تھی کیوںکہ دونوں صاحب اولاد ہونا چاہتے تھے‘ جارج نے ڈاکٹروں‘ سائنس دانوں اور ماہرین سے رابطے شروع کر دیے‘ ان رابطوں کے دوران معلوم ہوا میڈیکل سائنس نے ایسا طریقہ ایجاد کر لیا ہے جس کے ذریعے زندگی میں ایک بار چند سپرم پیدا کیے جا سکتے ہیں لیکن یہ طریقہ بہت مہنگا تھا لیکن جارج اور کیتھی نے چند دن سوچا اور اپنا ساراسرمایہ اولاد پر خرچ کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ جارج نے اپنی کمپنی‘ اپنا گھر اور اپنی گاڑی بیچ دی‘ یہ رقم شکاگو کے میڈیکل سنٹر میں جمع کرائی اور اپنا علاج شروع کرا دیا‘ علاج کام یاب ہوا‘ سپرم
پیدا ہوئے‘ یہ سپرم مصنوعی طریقے سے کیتھی کے جسم میں داخل کیے گئے اور فطرتی عمل شروع ہو گیا یوں اللہ تعالیٰ نے دونوں کو چاند جیسا بیٹا عطا کیا۔
جارج سمتھ اور کیتھی سمتھ کی کہانی یہاں تک ایک عام داستان تھی‘ ہم میں سے کون سا شخص ہے جس کی زندگی میں اس نوعیت کے غم نہیں ہیں۔قدرت انسان کی زندگی کوغموں‘ دکھوں اور تکلیفوں کے دھاگوں سے کات کر بنتی ہے‘ آپ نے اگر کبھی جولاہے کو کپڑا بُنتے دیکھا ہو تو آپ جانتے ہیں جولاہے کی کھڈی میں مختلف رنگوں کے سینکڑوں ہزاروں دھاگے ہوتے ہیں‘ دھاگوں کی ایک آبشار اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے اور دھاگوں کا دوسرا سلسلہ دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں چلتا ہے اور جولاہا درمیان میںبیٹھ کر کھڈی چلاتا جاتاہے اور مختلف رنگوں کے دھاگے کپڑے کی شکل اختیار کرتے جاتے ہیں‘دھاگوں کا یہ سلسلہ تانا اور بانا کہلاتا ہے۔ زندگی بھی ایک ایسی ہی کھڈی ہے جس کا تانا بھی دکھ ہیں اور بانا بھی دکھ لہٰذا ہم سب دکھ کی کھڈی پر مصیبتوں کے تانے بانے سے بنے ہوئے لوگ ہیں اورہماری سانس جب تک چلتی رہتی ہے ہم دکھوں سے آزادی نہیں پا سکتے۔ جارج اور کیتھی کی کہانی بھی یہاں تک ایک عام داستان تھی‘ ہم جیسی کہانی جس میں دکھ کا ایک سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوتا اوردوسرا شروع ہو جاتا ہے لیکن پھر اچانک جارج اور کیتھی کی زندگی میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا اور یہ دہائی کی سب سے بڑی کہانی بن گئی۔ کیتھی ایک دن اپنے چھ ماہ کے بیٹے کو باتھ ٹب میں نہلارہی تھی ‘ اس دوران فون بجا اور کیتھی بیٹے کو ٹب میں چھوڑ کر فون سننے چلی گئی ‘ کیتھی نے ماڈلنگ کا آڈیشن دیا تھا‘ فون پر اسے خوش خبری سنائی گئی وہ کام یاب ہوگئی ہے اور وہ کل دفتر آ کر ماڈلنگ کا کانٹریکٹ سائن کر دے‘ کیتھی کمپنی سے تفصیلات معلوم کرنا شروع کر دیتی ہے یوں فون لمبا ہو جاتا ہے‘ وہ فون رکھ کر واپس باتھ روم جاتی ہے تو وہاں زندگی کا سب سے بڑا حادثہ اس کا منتظر ہوتا ہے‘ اس کا بیٹا باتھ ٹب میں ڈوب کر مر جاتا ہے‘ کیتھی ہسپتال فون کرتی ہے‘ ایمبولینس آتی ہے‘ وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہسپتال پہنچتی ہے‘ ڈاکٹر کوشش کرتے ہیں لیکن گئی ہوئی سانس کبھی واپس نہیں آتی‘ کیتھی دکھ کی اس کیفیت میں ڈوب جاتی ہے جس میں آنکھیں آنسو پیدا کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور حلق سسکیوں اور آہوں سے خالی ہو جاتا ہے‘ کیتھی موم کا مجسمہ بن کر دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتی ہے‘ اس دوران جارج ہسپتال آتا ہے اور چپ چاپ کیتھی کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتا ہے‘ دونوں کے درمیان خاموشی کے ہزاروں برس گزر جاتے ہیں‘ کیتھی آخر میںجارج کی طرف دیکھتی ہے‘ اس کی آنکھوں میں ہزاروں لاکھوں سال کی اداسی بچھی تھی‘ جارج اس کی طرف دیکھتا‘ اس کا کندھا دباتا ہے اور نرم آواز میں بولتا ہے ’’آئی سٹل لو یو‘‘ چار لفظوں کا یہ فقرہ تیزاب میں الکلی کی بوند ثابت ہوتا ہے‘ کیتھی کے منہ سے چیخ نکلتی ہے اور وہ جارج کے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیتی ہے۔
جارج نے برسوں بعد اپنے دوست کو بتایا ’’مجھے جب سانحے کے بارے میں معلوم ہواتو میرے دل کی دھڑکن رک سی گئی‘ میں افراتفری کے عالم میں ہسپتال پہنچااور میں نے کیتھی کو ہسپتال کے فرش پر بیٹھے دیکھا تومیرا دل چاہا میں اس کو اس وقت تک تھپڑ اور ٹھڈے مارتا رہوں جب تک میں مار سکتا ہوں لیکن پھر مجھے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں خیال آیا‘ کیا کیتھی کو مارنے سے میرا بلکہ ہمارا بیٹا واپس آ جائے گا؟ کیا میرے رونے‘ چیخنے‘ چلانے اور شور کرنے سے ہمارا بیٹا زندہ ہو جائے گا‘مجھے محسوس ہوا نہیں کیوںکہ ہمارا بیٹا گیا وقت ہو چکا تھا اور گیا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا‘ ماضی دنیا کی واحد چیز ہے جسے قدرت بھی نہیں بدل سکتی‘میں نے محسوس کیا کیتھی کو اس وقت میری سب سے زیادہ ضرورت ہے چناںچہ میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کے کان میں کہا ’’آئی سٹل لو یو‘‘۔ جارج کا کہنا تھا ہم میں سے زیادہ تر لوگ برے واقعات‘ برے سانحوں کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہراتے رہتے ہیں‘ بیوی خاوند سے شکوہ کرتی ہے ’’یہ تمہاری وجہ سے ہوا‘‘ اور خاوند بیوی سے مخاطب ہوتا ہے ’’تم اگر یہ نہ کرتی تو ایسا نہ ہوتا‘‘ ہم اس وقت شکوہ کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں ہماری زندگی کا ساتھی بھی اس وقت اس سانحے سے اتنا ہی متاثر ہے جتنا ہم ہیں‘ میرا بیٹا میری بیوی کا بھی بیٹا تھااور کوئی ماں جان بوجھ کر اپنے بیٹے کی جان نہیں لیتی چناںچہ میں اگر اس وقت اسے ملزم ٹھہرانے لگتا تو یہ غم اس کی جان لے لیتالہٰذا میں نے عام خاوند بننے کی بجائے اس کے غم کا بوجھ ہٹانے کا فیصلہ کرلیا‘ میں نے اپنی محبت کا کندھا اس کے حوالے کر دیا۔ جارج کا کہنا تھا میں نے زندگی میںاسے کبھی بیٹے کی موت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا‘ وہ جب بھی بیٹے کا ذکر کرتی ہے‘ میں اس سے کہتا ہوں ’’کیتھی اولاد ہمارے نصیب میں نہیں تھی‘ ہم نے میڈیکل سائنس کے ذریعے زبردستی اولاد حاصل کرنے کی کوشش کی‘ ہم کام یاب ہو گئے لیکن قدرت نے یہ واپس لے کر ثابت کر دیا انسان اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا‘ تم دل چھوٹا نہ کرو بس یہ دیکھو میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں‘‘۔جارج کا کہنا تھا ’’ہم حادثے سے نہیں بچ سکتے لیکن حادثے کے بعد ہمارے الزامات اور ہماری نفرت ہمارے دکھ اور ہماری چوٹ کی شدت میں اضافہ کر دیتی ہے جب کہ ہماری محبت ہماری چوٹ کی شدت اور ہمارے دکھ میں کمی کا باعث بن جاتی ہے چناںچہ آپ کے چاہنے والے بھی جب بھی کوئی غلطی کریں ان سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو آپ ڈانٹنے کی بجائے انہیں صرف اتنا کہہ دیں ’’آئی سٹل لو یو‘‘ اور اس کے بعد دیکھیں وہ بھی خوش ہو جائے گا اور آپ بھی‘‘۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نجی سکولز کے اعتراضات، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
سرکاری ملازمین کیلئے بری خبر، تحقیقات کا اعلان
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا
-
انمول پنکی کا ذاتی فلیٹ کہاں اور اس کی مالیت کتنی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
-
لاہورمیں 2 سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے
-
ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کے معاملے پر مریم نواز کا ایکشن





















































