مذاکرات کی اندرونی کہانی
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘ یہ ایران کے صوبے لرستان سے تعلق رکھتے ہیں‘ لرستان کے لوگ بہادر‘ جری اور خوددار ہوتے ہیں‘ میں نے اس خطے کا ذکر امیر تیمور کی بائیوگرافی میں پڑھا تھا‘ تیمور نے جب لرستان پر حملہ کیا تو لر لوگوں نے اس کے دانتوں سے پسینہ نکال دیاتھا‘ امیر تیمور کو وہاں بہت مار پڑی۔ ایکس لینسی رضا امیری مقدم سے میری متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں‘ ہم دسمبر 2025ء میں گروپ لے کر بھی ایران گئے تھے‘ یہ وہ وقت تھا جب ایران میں احتجاج ہو رہا تھا تاہم ہمیں پورے ایران میں کسی جگہ احتجاج یا شور شرابہ دکھائی نہیں دیا‘ ایران پر 28 فروری کے حملوںکے بعد میری ایرانی سفیرسے کئی بار ملاقات طے ہوئی لیکن افراتفری اور اچانک مصروفیات کی وجہ سے ملاقاتیں معطل ہوتی رہیں تاہم جمعہ 24 اپریل کو یہ ملاقات ہو گئی‘ مجھے ڈیڑھ گھنٹہ محترم سفیر اور ان کے معاون سفارت کار کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا‘ میں اس ملاقات کے دوران مختلف سوال کرتا رہا اور یہ جواب دیتے رہے‘ میں ان کی میٹنگ روم سے رخصتی کے بعد بھی معاون سفارت کار کے ساتھ بیٹھا رہا اور وہ مجھے صورت حال کے بارے میں بریف کرتے رہے۔
میں نے معاون سفارت کار سے پوچھا ’’ کسی میٹنگ میں سفیر محترم نے سو کالڈ فیلڈ مارشل کیوں کہا تھا؟‘‘وہ فوراً ہنس کر بولے ’’یہ مترجم کی غلطی تھی‘ فارسی زبان میں لفظ ’’بہ اصطلاح‘‘ کے دو معانی ہوتے ہیں (Actually) اور (So called) ہمارے مترجم نےActually کا ترجمہ (So called) کر دیا تھا جس پر ہم نے فوراً معذرت کر لی تھی‘ پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ہمارے دوست اور محسن ہیں‘ ہم ان کے بارے میں یہ سوچ بھی نہیں سکتے‘‘ میں نے معاون سے پوچھا ’’کیا آپ مذاکرات کے وقت سرینا ہوٹل میں تھے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’ میں تھا لیکن میٹنگ روم میں ہماری طرف سے صرف محمد باقر قالیباف‘ عباس عراقچی اور سفیر محترم رضا امیری مقدم تھے‘ امریکا کی طرف سے جے ڈی ڈینس‘ سٹیو وٹکوف اور جیراڈکشنر تھے جب کہ پاکستان کی طرف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف شریک تھے‘ وزیر خارجہ اسحاق ڈار آتے اور جاتے رہے تھے‘ میری ذمہ داری ایرانی وفد کی معاونت تھی‘ مذاکرات کے دوران جب نیوکلیئر ایشو ڈسکس ہوتے تھے تو ہمارے جوہری ایکسپرٹ اندر چلے جاتے تھے‘ جب منجمد اثاثوں کی بات ہوتی تھی
تو ایران کے سٹیٹ بینک کے صدر اور وزارت خزانہ کے لوگ اندر جاتے تھے‘ جب آبنائے ہرمز کا معاملہ آتا تھا تو بحری امور کے لوگ اندر چلے جاتے تھے اور جب جنگ سے متعلق بات ہوتی تھی تو فوج اور پاس داران انقلاب کے لوگ میٹنگ روم میں چلے جاتے تھے‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ کے لوگوں نے امریکی وفد کے رویے کے بارے میں کیا بتایا؟‘‘معاون نے ابھی جواب دینا شروع کیا تھا کہ سفیر تشریف لے آئے اور ان سے گفتگو شروع ہوگئی۔
میں نے سفیر محترم سے پوچھا ’’آپ ایران امریکا جنگ کے دوران پاکستان کی حمایت اور تعاون کو100 میں سے کتنے نمبر دیتے ہیں؟‘‘ سفیر کا جواب تھا ’’میں سو میں سے سو نمبر دوں گا‘ پاکستان نے مسلم برادر ہڈ اور ہمسائے کا حق ادا کر دیا‘ ہم پاکستانی کردار کے بہت مشکور ہیں‘‘ سفیر محترم کا کہنا تھا پاکستانی قیادت نے دن رات کام کیا‘ مجھے صبح تین‘ تین بجے فیلڈ مارشل کا فون آتا تھا اور میں حیران ہوتا تھا کہ جنرل عاصم منیر سوتے کب ہیں؟ میں نے سفیر محترم سے پوچھا ’’مذاکرات کے دوران امریکی وفد کا رویہ کیسا تھا‘ یہ نائیس(نرم) تھے یا بلی (Bully) کر رہے تھے؟‘‘ سفیر محترم کا جواب تھا ’’جے ڈی ڈینس کا رویہ اچھا تھا‘ وہ نائیس تھے اور بات کو سمجھتے بھی تھے‘ مذاکرات میں زیادہ بات چیت جے ڈی وینس نے کی جب کہ جیراڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف زیادہ وقت خاموش رہے‘ ہمیں ان دونوں پراعتماد بھی نہیں‘ یہ یہودی ہیں‘ ان کا جھکائو اسرائیل کی طرف ہے‘ دوسرا ہم جب جنوری اور فروری میں ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے تو ہم پر حملہ ہو گیا تھا‘ یہ ہمارا اعتبار کھو چکے ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’ایران مذاکرات کے دوسرے رائونڈ سے کیوں پرہیز کر رہا ہے؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتبار نہیں ہے‘ یہ صبح کچھ کہتا ہے‘ دوپہر کو کچھ اور شام کے وقت دن کے تمام خیالات کی نفی کر دیتا ہے‘ یہ دماغی لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے چناں چہ ہم ایسے شخص کے ساتھ مذاکرات کیسے کر لیں؟‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا ایران مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہو گا؟‘‘ سفیر کا جواب تھا ’’ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ہم اپنی عزت‘ غیرت اور حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے‘ ہمیں اگر کوئی باعزت اور فیئر ڈیل ملے گی تو ہم مذاکرات ضرور کریں گے ورنہ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’مذاکرات کے پہلے فیز میں نیوکلیئر پر آپ کا کیا موقف تھا؟‘‘ سفیر کا جواب تھا ’’ہم نے صاف بتا دیا تھا ہم ایٹم بم نہیں بنائیں گے‘ ہم اس پر معاہدے اور سمجھوتے کے لیے تیار ہیں لیکن جہاں تک افزودہ یورینیم اور جوہری توانائی کا تعلق ہے یہ ہمارا حق ہے‘ جب قطر‘ بحرین اور یو اے ای جیسے چھوٹے چھوٹے ملک نیوکلیئر پلانٹ بنا رہے ہیں اور یورینیم افزودہ کر رہے ہیں تو آپ ہمیں اس سے کیسے محروم رکھ سکتے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں کے بارے میں بات ہوئی ؟‘‘ سفیر کا جواب تھا ’’بالکل ہوئی تھی اور جے ڈی وینس نے اس پر اتفاق بھی کیا تھا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا یہ 20 بلین ڈالر تھے؟‘‘ سفیر کا جواب تھا بالکل 20 بلین ڈالر کی بات ہوئی تھی اور امریکی وفد نے یہ غیر منجمد کرنے کی حامی بھر لی تھی لیکن پھر ڈائیلاگ رک گئے‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ کو مذاکرات کے دوسرے دور پر کیا تحفظات ہیں؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’پاکستان ہم پر معاہدے کے لیے زیادہ زور دے رہا ہے‘ یہ امریکا پر دبائو نہیں ڈال رہا جب کہ پاکستان کو امریکا کو منانا چاہیے‘ ہم ڈونلڈ ٹرمپ کی گارنٹی بھی چاہتے ہیں لیکن پاکستان سمیت کوئی ٹرمپ کی گارنٹی دینے کے لیے تیار نہیں‘ ہمیں کہا جاتا ہے آپ بس معاہدہ کر لیں کل کی بات کل پر چھوڑ دیں لیکن ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں‘ جب تک چیزیں کلیئر نہیں ہوں گی‘ ہم اس وقت تک معاہدہ نہیں کریں گے‘ اس وقت تک مذاکرات کا کوئی فائدہ بھی نہیں‘ ہم جانتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ بری طرح پھنس چکا ہے‘ امریکا کے مڈٹرم الیکشن آ رہے ہیں‘ ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی باتیں بھی شروع ہو چکی ہیں چناں چہ ہم اپنی کاسٹ پر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیس سیونگ نہیں دیں گے‘‘۔
میں نے پوچھا ’’مجھے محسوس ہوتا ہے آپ اس نقطے پر پاکستان کے کردار سے مطمئن نہیں ہیں‘‘ سفیر محترم نے فوراً جواب دیا‘ ہرگز نہیں‘ ہم پاکستان کے کردار سے سو فیصد مطمئن ہیں لیکن دنیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی گارنٹی دینے کے لیے کوئی تیار نہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ نے یہ گارنٹی پاکستان سے بھی مانگی تھی؟‘‘ سفیر اس سوال پر خاموش رہے‘ میں ان کا جواب سمجھ گیا‘ میں نے پوچھا ’’امریکا کی اصل لڑائی روس اور چین کے ساتھ ہے‘ ایران نے درمیان میں آ کر روس اور چین کو ریلیف دے دیا‘ آپ درمیان سے ہٹ جائیں تاکہ امریکا جا کر روس اور چین سے لڑے‘‘ سفیر محترم کا جواب تھا ’’ہم یہ حقیقت جانتے ہیں لیکن امریکا ایران کو روند کر روس اور چین تک جانا چاہتا ہے اور یہ ہمیں منظور نہیں‘‘ میں نے سفیر سے پوچھا ’’کیا مذاکرات کا دوسرا رائونڈ ہو سکتا ہے؟‘‘ سفیر کا جواب تھا ’’میرا نہیں خیال کیوں کہ اب درمیان میں بداعتمادی کی بے شمار دیواریں کھڑی ہو چکی ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ کے قائدین ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں؟‘‘ سفیر کا جواب تھا ’’وہ شخص جس نے ہماری صف اول کی قیادت کو شہید کر دیاہو ہم اس کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟‘‘ سفیر نے اس کے بعد اجازت چاہی اور وہ کمرے سے رخصت ہو گئے۔
میں نے ان کے بعد ان کے ایرانی معاون (یہ بھی سینئر سفارت کار ہیں) سے ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست ملاقات نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو ان کا جواب تھا ’’ہمارے لوگ امریکا اور ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ ہم نے 12اپریل کی رات جے ڈی ڈینس کے ساتھ 17 گھنٹے مذاکرات کر کے معاملات سیٹل کر لیے تھے‘ یہ امریکا کے لیے جنگ سے نکلنے کا گولڈن چانس تھا‘ معاہدہ تیار تھا بس دستخط باقی تھے لیکن پھر اچانک جے ڈی وینس میٹنگ روم سے نکلا‘ نیچے گیا‘ پریس کانفرنس کی اور ائیرپورٹ چلا گیاجب کہ ہم اوپر اس کا انتظار کر رہے تھے‘ ہمیں اچانک پتا چلا مذاکراتی ٹیم واپس جا چکی ہے‘ اس وقت ہمارے لوگوں نے کہا‘ امریکا نے بہت بڑی غلطی کر دی‘ باقر قالیباف مکمل اتھارٹی کے ساتھ اسلام آباد آئے تھے‘ یہ تہران سے پوچھے بغیر ہر قسم کا معاہدہ کر سکتے تھے لیکن امریکا نے اپنی بے وقوفی سے یہ چانس ضائع کر دیا‘ ہم جانتے تھے ہمارا وفد جب تہران واپس جائے گا اور ہماری قیادت کو شرائط اور مذاکرات کی تفصیل معلوم ہو گی تو یہ دوسری میٹنگ کی اجازت نہیں دیں گے اور پھر وہی ہوا‘ ہماری مذاکراتی ٹیم کو واپسی پر تہران میں بہت ٹف ٹائم دیکھناپڑا لہٰذا مجھے نہیں لگتا اب باقر قالیباف دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے‘‘ میں نے پوچھا ’’اور آپ کو امریکا اور ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتبار کیوں نہیں ہے؟‘‘ معاون نے ہنس کر جواب دیا ’’امریکا اپنی بات پر قائم نہیں رہتا مثلاً 2023ء میں قطر اور عمان نے ہمارے امریکا سے مذاکرات کرائے تھے جن میں یہ فیصلہ ہوا ہم اپنی 90فیصد افزودہ یورینیم کو 60 فیصد پر ڈی گریڈ کر دیں گے اور امریکا اس کے بعد ہمارے سائوتھ کوریا میں منجمد سات بلین ڈالرریلیز کر دے گا‘ ہمارے پاس امریکا کے پانچ قیدی تھے‘ ان کی رہائی بھی اس معاہدے کا حصہ تھی‘ ہماری رقم سائوتھ کوریا سے قطر منتقل کی کرا دی گئی‘ ہم مطمئن ہو گئے کیوں کہ‘ قطر ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور یہ اس معاہدے کا ضامن بھی تھا لہٰذا ہم نے پانچ امریکی قیدی بھی چھوڑ دیے اور یورینیم بھی 60 فیصد تک ڈی گریڈ کر دی لیکن اس کے باوجود امریکا نے ہماری رقم ڈی فریز نہیں کی‘ الٹا دو ملکوں اور دو بینکوں کے درمیان ٹرانسفر کے دوران ہمارے 7 بلین ڈالر 6 بلین ڈالر ہو گئے‘ ہمارا ایک بلین ڈالر ضائع ہو گیا‘
اس کھیل میں امریکا کا اعتبار بھی ٹوٹ گیا اور قطرکا بھی‘قطر اس ڈیل کا ضامن تھا یہ بھی ڈس کریڈٹ ہو گیا‘12اپریل کے مذاکرات کے دوران جے ڈی وینس نے کہا‘ ہم آپ کے قطر میں پڑے چھ بلین ڈالر ریلیز کر دیتے ہیں لیکن آپ کو اس کے بدلے میںیہ یہ یہ۔کرنا ہوگا‘ ہم نے فوراً جواب دیا آپ ہمیں ہماری ہی چیز دوسری بار کیسے بیچ سکتے ہیں؟ اس ڈیل کا اس ڈیل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘ آپ کو اخلاقاً یہ رقم فوراً غیر منجمد کر دینی چاہیے‘ اسی طرح اسرائیل نے ستمبر 2025ء میں قطر میں مذاکرات کے لیے آنے والی حماس کی ٹیم پر حملہ کر دیا جس کے بعد قطر مکمل طور پر ڈس کریڈٹ ہوگیا‘ 28 فروری کو بھی ہمارے جیراڈ کشنر اور سٹیووٹکوف کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے اور ہمارے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو خاندان اور اہم ترین قائدین کے ساتھ شہید کر دیا گیاجس سے مذاکرات کرانے والا برادر ملک عمان اور امریکی مذاکراتی ٹیم دونوں ڈس کریڈٹ ہو گئے‘11اور 12اپریل کو بھی یہی ہوا‘ محترم باقر قالیباف مکمل وفد کے ساتھ پاکستان آئے لیکن جب مذاکرات مکمل ہو گئے تو جے ڈی وینس بتائے بغیرامریکا واپس چلے گئے یوں ٹرمپ نے اپنے نائب صدر کو بھی ڈس کریڈٹ کر دیا‘ 15 اپریل کو فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران تشریف لے گئے‘ انہوں نے وہاں امریکا سے براہ راست بات کی‘ فیصلہ ہوا ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا اور امریکا ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دے گا جس کے بعد 17 اپریل کو عباس عراقچی نے ٹویٹ کر کے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا لیکن تھوڑی دیر بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کر دیا یوں عباس عراقچی اور پاکستان دونوں ڈس کریڈٹ ہو گئے لہٰذا ہمارے لوگ اب کسی بات پر یقین کے لیے تیار نہیں ہیں‘‘۔
میں نے پوچھا ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے جے ڈی وینس کو اچانک کیوں بلا لیا تھا؟‘‘ سفارت کار کا جواب تھا ’’ہمارا خیال ہے ڈونلڈ ٹرمپ اتنی بڑی ڈیل کا کریڈٹ جے ڈی وینس کو نہیں دینا چاہتا تھا‘ وہ یہ ٹرافی خود لینا چاہتا تھا لیکن یہ اسے اب نہیں ملے گی‘‘ میں نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ اس کا جواب تھا ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمارے قائدین کو قتل کیا‘ میناب سکول کی 161 بچیوں کا خون بھی اس کے ہاتھ پر ہے لہٰذا ایرانی ٹرمپ کو سخت ناپسند کر تے ہیں لہٰذا ہمارا خیال ہے جو بھی شخص ڈونلڈ ٹرمپ سے ہاتھ ملائے گا یا اس کے ساتھ بیٹھے گا وہ اس کے بعد ایران واپس نہیں جا سکے گا‘ اسے پھر دنیا کے کسی اور ملک میں اپنا ٹھکانہ بنانا پڑے گا اور ایران کا کوئی لیڈر یہ غلطی نہیں کرے گا‘‘ میں نے پوچھا ’’ڈیل اب کس نقطے پر پھنسی ہوئی ہے‘‘ ان کا جواب تھا ’’امریکا کہہ رہا ہے آپ یورینیم کو 60فیصد سے ڈی گریڈ کر دیں‘ ہم آپ کے 20 بلین ڈالر کے اثاثے غیر منجمد کر دیتے ہیں‘ ہم کہتے ہیں آپ پہلے ہمارے 20 بلین ڈالر کے اثاثے غیرمنجمد کریں ہم پھر یورینیم ڈی گریڈ کریں گے‘ امریکا یہ نہیں مان رہاچناں چہ ڈائیلاگ معطل ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’ کیا آپ جنگ کے لیے تیار ہیں؟‘‘ اس کا جواب تھا ’’ہم جانتے ہیں جنگ ہر صورت ہو گی‘ اب ہو یا معاہدے کے بعد ہو اس نے ہو کر رہنا ہے چناں چہ ہم تیار ہیں‘ ہمارا جتنا نقصان ہونا تھاوہ ہو چکا‘ ہمارے سپریم لیڈر تک شہید ہو گئے‘ اب امریکا کی باری ہے‘اب امریکا کو نقصان اٹھانا ہو گا‘‘ اس کے ساتھ ہی سفارت خانے میں افراتفری سی مچ گئی‘ معاون سفارت کار کو بار بار بلایا جانے لگا‘ پتا چلا عباس عراقچی دوسری بار پاکستان آ رہے ہیں‘ میں نے اجازت لی اور واپس آ گیا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ڈاکٹر فیصل کی سبکدوشی, عہدہ چھوڑ کر اسلام آباد روانہ، کمیونٹی میں تذبذب اور تشویش
-
نسوار سے متعلق نیا قانون؟ سزائیں اور جرمانے
-
اسکولوں میں جمعہ کی چھٹی ، وزیر تعلیم کا اہم بیان آگیا
-
’نوکری سے نکالنے پر ملزم لیڈی ڈاکٹر کی ویڈیو بنا کر بیلک میل کرتا رہا‘
-
پاکستانی عازمینِ حج کے لیے قربانی کی رقم مقرر؟ کتنے ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے؟
-
مذاکرات کی اندرونی کہانی
-
راولپنڈی،13سالہ بچی کے ساتھ ملزمان کی گھر میں گھس کر زیادتی، ویڈیو بھی بناتے رہے
-
نیشنل بینک آف پاکستان مین برانچ میانوالی میں سونا چوری ہونے کا انکشاف
-
خسرہ کی وبا نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی، اب تک 40 بچے جاں بحق
-
پاکستان بھر میں سونے کی قیمتوں میں پھر اضافہ
-
ایران نے امریکہ کو پاکستان کے ذریعے نئی تجاویز پیش کردیں
-
محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کردیا
-
آج کچھ گولیاں چلیں گی، ترجمان وائٹ ہاس کا مذاق سچ ثابت ہوگیا
-
اسلام آباد سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں زلزلے کے جھٹکے





















































