جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

نسوار سے متعلق نیا قانون؟ سزائیں اور جرمانے

datetime 27  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے نسوار کی تیاری اور فروخت کو ضابطے میں لانے سے متعلق نجی بل پر ابتدائی اعتراضات عائد کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی آمنہ سردار نے “نسوار ایکٹ 2026” کا مسودہ اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا، جس پر قانونی نوعیت کے سوالات سامنے آئے ہیں۔
سیکرٹریٹ کی جانب سے استفسار کیا گیا ہے کہ یہ بل کس سرکاری محکمے کو بھجوایا جائے گا۔ متعلقہ ادارے کے تعین کے بعد ہی اس بل پر مزید کارروائی اور غور کیا جائے گا، جبکہ محکمہ قانون بعد ازاں حتمی رائے دے گا۔
مجوزہ قانون میں تجویز دی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا میں بغیر لائسنس نسوار تیار کرنا یا فروخت کرنا قابل سزا جرم تصور ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں 30 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ نسوار کی فروخت صرف سیل بند پیکنگ میں کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔
بل میں یہ بھی شامل ہے کہ اسکولوں، مدارس اور اسپتالوں کے 100 میٹر کے دائرے میں نسوار کی فروخت ممنوع ہوگی۔ کم عمر بچوں کو نسوار فروخت کرنے پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
مزید برآں آن لائن، سوشل میڈیا اور ڈیلیوری سروس کے ذریعے نسوار فروخت کرنے پر مکمل پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اشتہارات، تشہیری مہم اور مفت نمونے تقسیم کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
عوامی مقامات پر نسوار تھوکنے والوں پر ایک ہزار روپے موقع پر جرمانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور ہیلتھ افسران کو چھاپے مارنے اور دکانیں سیل کرنے کے اختیارات دینے کی سفارش بھی شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…