اسلا م آباد (نیوز ڈ یسک) ملتان کے رہائشی سید کاشف علی کے لیے اہلِ خانہ کی مری سیر کی خواہش ایک ایسا دردناک المیہ بن گئی
جس نے ان کی پوری دنیا اجاڑ دی۔ مری ایکسپریس وے پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں ان کی والدہ، اہلیہ اور پانچ بچے جان کی بازی ہار گئے۔کاشف علی نے بتایا کہ ان کے بچے کافی عرصے سے مری جانے کی خواہش ظاہر کر رہے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے معاشی حالات اور سفر کی دشواریوں کے باعث اس منصوبے کی مخالفت کی، تاہم بچوں اور اہلیہ کے اصرار پر بالآخر اجازت دے دی۔ ان کے مطابق اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ رشتہ دار بھی سیر کے لیے جا رہے ہیں، اس لیے بچوں کی خواہش پوری کی جانی چاہیے۔متاثرہ خاندان ملتان سے تین گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں روانہ ہوا تھا۔ دو گاڑیاں خاندان کی اپنی تھیں جبکہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک ہائی روف وین کرائے پر حاصل کی گئی تھی۔ حادثے کا شکار ہونے والی یہی وین تھی جس میں زیادہ تر خواتین اور کم سن بچے سوار تھے۔موٹر وے پولیس کے مطابق مری ایکسپریس وے پر کھجوٹ کے قریب وین ایک موڑ پر بے قابو ہو کر سڑک کنارے نالے میں جا گری اور الٹ گئی۔
حادثے کے فوراً بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ وین اس انداز میں گری کہ اس کا دروازہ کھولنا ممکن نہ رہا، جس کے باعث کئی مسافر اندر ہی پھنس گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ شدید آگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق ہوئے جن میں بچوں کی تعداد زیادہ تھی، جبکہ 13 افراد زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں میں متعدد بچے شامل ہیں جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔کاشف علی نے بتایا کہ انہیں ابتدا ہی سے اس سفر کے حوالے سے تشویش تھی۔ انہوں نے روانگی سے قبل بچوں اور اہلیہ کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی تھی اور مسلسل رابطے میں رہنے کا کہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ دل میں موجود انجانا خوف آخرکار ایک ہولناک حقیقت بن گیا۔انہوں نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ان کے ہوش اڑ گئے۔ جب رشتہ داروں سے تفصیلات معلوم ہوئیں تو انہیں اندازہ ہوا کہ سانحہ اسی گاڑی کے ساتھ پیش آیا ہے جس میں ان کے اہلِ خانہ موجود تھے۔کاشف علی نے غمزدہ لہجے میں کہا کہ ان کی والدہ، بیوی اور پانچ بچے ان کی پوری زندگی تھے، جنہیں کھونے کا صدمہ ناقابلِ بیان ہے۔ ان کے بقول یہ سانحہ ان کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں۔دوسری جانب متاثرہ خاندان کے قریبی عزیزوں نے حادثے کی ذمہ داری گاڑی اور اس کی فٹنس پر عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مسافر گاڑیوں کی جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔واضح رہے کہ سٹی ٹریفک پولیس مری کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی ایک ممکنہ وجہ ڈرائیور کی غنودگی یا نیند کو قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔



















































