بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سولر صارفین کیلئے بری خبر، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

datetime 10  جون‬‮  2026 |
سولر پینلز کی قیمتیں
سولر پینلز کی قیمتیں

مکو آ نہ (این این آئی)پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں مہنگی بجلی سے بچنے اور متبادل توانائی کے حصول کے لیے سولر سسٹمز کی جانب بڑھتے رجحان کے دوران صارفین کو ایک اور بڑا جھٹکا لگ گیا ہے

مارکیٹ میں سولر پینلز اور آن گرڈ سولر سسٹمز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث نئے صارفین اور سولر لگوانے کا ارادہ رکھنے والے شہری شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق 5 کلوواٹ سے 15 کلوواٹ تک کے مختلف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں ڈیڑھ لاکھ روپے سے لے کر 2 لاکھ روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ اضافے نے سولر توانائی کو اپنانے کے خواہشمند افراد کے منصوبوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ کئی صارفین نے خریداری کا فیصلہ مؤخر کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے قیمتوں میں اضافے کے بعد 5 کلوواٹ آن گرڈ سولر سسٹم کی قیمت 6 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس سسٹم کی قیمت میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اسی طرح 7 کلوواٹ سولر سسٹم کی قیمت 2 لاکھ روپے اضافے کے بعد 8 لاکھ 25 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جو چند ہفتے قبل اس سے کہیں کم تھی10 کلوواٹ سولر سسٹم بھی مہنگا ہو گیا ہے، اس کی قیمت 9 لاکھ روپے سے بڑھ کر 11 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، جس سے متوسط اور بڑے گھریلو صارفین کے لیے سولر کی تنصیب مزید مہنگی ہو گئی ہے۔دوسری جانب 12 کلوواٹ سولر سسٹم کی قیمت بھی 2 لاکھ روپے اضافے کے بعد 12 لاکھ 50 ہزار روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ 15 کلوواٹ آن گرڈ سولر سسٹم کی قیمت بڑھ کر 14 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے،

جو اس سے قبل تقریباً 13 لاکھ روپے تھی۔واضح رہے کہ مارکیٹ میں جاری یہ قیمتیں آن گرڈ سولر سسٹمز کے لیے ہیں، آف گرڈ سسٹم نصب کروانے والے صارفین کو بیٹریوں کی قیمت الگ سے ادا کرنا ہوگی، جس کے باعث مجموعی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ سولر توانائی کی طرف بڑھتے رجحان کو متاثر کر سکتا ہے، دوسری جانب شہریوں کا مؤقف ہے کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے بچنے کے لیے سولر ایک مؤثر حل تھا، تاہم قیمتوں میں اچانک اضافے نے ان کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…