بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

یکم جولائی سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام صارفین کو کتنی رقم ملے گی؟ بڑی خوشخبری آگئی

datetime 11  جون‬‮  2026 |

اسلا م آباد (نیوز ڈ یسک) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت تھیلیسیمیا سمیت موروثی بیماریوں کی روک تھام کے لیے شادی سے قبل طبی اسکریننگ کو لازمی بنانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ بھی ضروری قرار دیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا شعبہ اب صرف علاج معالجے تک محدود مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی اہمیت اور سلامتی سے جڑا معاملہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی پہلی جامع جینیوم پالیسی آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جس کا بنیادی مقصد بیماریوں کی بروقت تشخیص اور ان کی پیشگی روک تھام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی شہری جینیوم ٹیسٹنگ کے لیے بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں، جس سے انہیں بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی جدید لیبارٹریز اور سائنسی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی سطح پر عالمی معیار کی جینیوم ٹیسٹنگ سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ حکومت موروثی اور جان لیوا بیماریوں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو قانونی تقاضا بنانے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس بیماری کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے بڑھتی ہوئی آبادی اور صحت کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2030 تک آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہو جائے گا، جبکہ بیماریوں میں مسلسل اضافہ ملکی صحت کے نظام پر اضافی دباؤ ڈال رہا ہے۔

وزیرِ صحت کے مطابق اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویشناک ہے اور موجودہ نظام زیادہ تر بیماریوں کے علاج پر انحصار کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید تحقیق، جینیوم پروفائلنگ اور احتیاطی اقدامات کے ذریعے بیماریوں کو پیدا ہونے سے پہلے روکنے کی حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ہر سال سنگین بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جبکہ صحت کے شعبے کو مالی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ اس کے باوجود حکومت صحت کے نظام میں اصلاحات اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…