میانوالی(این این آئی)نیشنل بینک آف پاکستان مین برانچ میانوالی میں سونا چوری ہونے کا انکشاف منظر عام پر آگیا
50 لاکھ مالیت کا سونا چوری قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت سونا چوری ہوا تو اس وقت بینک کے تمام کیمرے بند تھے کیمروں کے بند اور آن کرنے کا کنٹرول برانچ منیجر آپریشنل کے پاس ہوتا ہے اور چوری کی سنگین واردات کے وقت بینک کے تمام کیمروں کا 2 گھنٹے تک بند رہنا ایک سوالیہ نشان ہے اور سونا چوری کرانے میں مبینہ طور پر بینک منیجر آپریشنل محمد وقاص ملوث نظر اتا ہے بینک کے کسی ملازم کو پتہ نہیں ہیکہ سونا آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی ہے اور یہ کام انتہائی رازداری سے کیا گیا ہے بینک سے سونا چوری ہو نے کے وقت کا تعین بھی ابھی تک نہ ہو سکا ہے اس کے بارے بھی بینک منیجر اپریشن محمد وقاص اور ریجنل آپریشنل چیف سرفراز بٹ بھتر جانتے ہیں یہ تیسرا بڑا اسکینڈل ہے بینک افسران نے سونے کے مالک غلام عباس سکنہ شادیہ(واں بھچراں)میانوالی کو بینک بلوا کر دستخط کروائے گئے کہ اپ کے یہ دستخط رہ گئے تھے کیونکہ غلام عباس نے سونے کے عوض نیشنل بینک آف پاکستان مین برانچ میانوالی سے قرض لے رکھا تھا بینک افسران نے سونے کے مالک غلام عباس کو کہاکہ اپ کوئی قانونی کارروائی نہ کریں ہم آپکے پیسے پورے کر دیں گے جس پر وہ خاموش ہو گیا
لہذا بینک کے اعلی افسران نے بینک سٹاف میانوالی، بھکر اور جوہر آباد کے سٹاف کو ہراساں کیا ہے کہ وہ پیسے جمع کرکے دیں تاکہ متاثرہ شخص کو ادائیگی کی جا سکے، پیسے جمع نہ کرانے والے بینک ملازمین کے دور دراز علاقوں میں تبادلے کر دیئے جائیں گے جس سے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گء ہے اطلاعات کے مطابق تقریبا 10 لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں جبکہ 40 لاکھ مزید جمع ہونے ہیں واضح رہے کہ اس سے قبل عیدالفطر کے موقع پر لاکھوں روپے مالیت کے نئے نوٹ مزکورہ برانچز سے نکلوا کر سرگودھا کی مارکیٹوں میں بلیک پر فروخت کئے گئے تھے اس کے علاوہ بینک کے سیکورٹی گارڈز بینک افسران کے گھروں میں کام کاج کرتے تھے اور انکو ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی بینک کرتا رہا ہے اور نیشنل بینک اف پاکستان دائودخیل (میانوالی)کے گریڈ تھری کے افیسر رحمت اللہ خان سوانسی نے عمر رسیدہ بیوہ پنشنر مریم بی بی کی چیک بک سے چند چیک چوری کرکے ایک چیک نیشنل بینک آف پاکستان مین برانچ میانوالی سے 5 لاکھ روپے کیش کروا کر ہڑپ کر گیا
نیشنل بینک آف پاکستان مین برانچ میانوالی/ دادخیل ائے دن ہونے والے اسکینڈلز کی خبریں مختلف ٹی وی چینلز/ اخبارات/ سوشل میڈیا کی زینت بنی رہیں مگر بینک کی بااثر اور کرپٹ بیوروکریسی کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی ایکشن نہ لیا گیا ہے اور نہ کوئی کاروائی کی گئی ہے، 3 کرپٹ اور بدعنوان افسران ریجنل آپریشنل چیف سرفراز بٹ، ریجنل ہیڈ سلیم اشرف اور برانچ آپریشن منیجر محمد وقاص کی چیرہ دستیوں،عاقبت نااندیشیوں، بدعنوانیوں اور غلط پالیسیوں کی بدولت نیشنل بینک آف پاکستان مین برانچ میانوالی تباہی ہ بربادی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، جس کے باعث عوام/ کسٹمرز کا ایک معروف قومی مالیاتی ادارہ سے بھروسہ اور اعتماد متزلزل ہو چکا ہے اور کسٹمرز نے اپنے اکانٹس بند کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان اصف علی زرداری ، وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر برائے خزانہ اورنگزیب، وفاقی سیکرٹری خزانہ ، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نیشنل بینک آف پاکستان ہیڈ آفس کراچی کے پریذیڈنٹ/ چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او)رحمت علی حسنی نیشنل بینک آف پاکستان مین برانچ میانوالی میں آئے روز میگا اسکینڈلز کی اعلی سطح کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات کروانے کے ساتھ ساتھ سپیشل آڈٹ کروائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔



















































