اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے ایسے غیر ملکی ملازمین کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں
جنہیں مقررہ وقت پر تنخواہ یا اجرت موصول نہیں ہوتی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی ملازم کو اس کا آجر بروقت تنخواہ ادا نہیں کرتا تو وہ مخصوص قانونی طریقہ کار اختیار کرکے اپنے حقوق کا تحفظ حاصل کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ملازمت کا معاہدہ قانونی طور پر قابلِ نفاذ ہو۔وزارت کے مطابق سب سے پہلے ملازم کو یہ یقین دہانی کرنی چاہیے کہ اس کا روزگار معاہدہ باقاعدہ رجسٹرڈ اور نافذ العمل ہے۔ اکتوبر 2025 کے بعد رجسٹر یا اپ ڈیٹ ہونے والے معاہدوں کو قابلِ نفاذ دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ کارکن “قیویٰ” پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے ملازمت کے معاہدے کی قانونی حیثیت چیک کر سکتے ہیں اور یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا ان کا معاہدہ نفاذ کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔
وزارت نے کہا کہ اگر تنخواہ کی مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد بھی 30 روز تک مکمل ادائیگی نہ کی جائے تو ملازم “ناجز” پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست نفاذِ حکم کے لیے درخواست جمع کرا سکتا ہے۔حکام کے مطابق اس سہولت کے تحت متاثرہ کارکنوں کو لیبر کورٹ میں الگ سے مقدمہ دائر کرنے یا مصالحتی عمل سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے بقایا تنخواہوں کی وصولی کا عمل زیادہ تیز اور آسان ہو جائے گا۔وزارتِ انسانی وسائل نے ملازمین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے معاہدوں کی قانونی حیثیت بروقت چیک کرتے رہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر دستیاب قانونی سہولتوں سے فوری فائدہ اٹھایا جا سکے اور اپنے حقوق کا مؤثر تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔



















































