اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہ چین اور نہ ہی پاکستان ایران کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں،
جبکہ اس بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات درست نہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا چین نے ایران کو فضائی دفاعی نظام فراہم کیا ہے اور آیا اس عمل میں پاکستان کا کوئی کردار ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو کسی بھی قسم کے ہتھیار مہیا نہیں کر رہا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایسے حساس معاملات پر غیر مصدقہ خبروں اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے اور صرف مستند معلومات کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔دوسری جانب چینی حکومت نے بھی ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق خبریں بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں۔پاکستان بھی اس معاملے پر پہلے ہی اپنا مؤقف سامنے لا چکا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان کی سرزمین کسی بھی مبینہ اسلحہ کی ترسیل کے لیے استعمال نہیں ہو رہی، جبکہ اس حوالے سے سامنے آنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔پاکستان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور تمام تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ہی مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال میں اہم اہمیت رکھتا ہے، جبکہ چین اور پاکستان کی جانب سے بھی اپنے اپنے مؤقف کی وضاحت سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر عالمی توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔



















































