جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستانی عازمینِ حج کے لیے قربانی کی رقم مقرر؟ کتنے ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے؟

datetime 27  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) رواں سال حج پر جانے والے ہر پاکستانی عازم کے لیے قربانی کی رقم 720 سعودی ریال مقرر کی گئی ہے،

جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 54 ہزار روپے بنتی ہے۔ذرائع کے مطابق اس سال حج کی سعادت حاصل کرنے والے پاکستانی عازمین قربانی کی مد میں مجموعی طور پر اربوں روپے خرچ کریں گے۔ سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ اس مد میں 9 ارب 67 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ ہونے کا امکان ہے۔سعودی ریال میں یہ مجموعی لاگت تقریباً 12 کروڑ 90 لاکھ 31 ہزار ریال بنتی ہے۔ حج کے مجموعی پیکیج، جس کی مالیت تقریباً ساڑھے 11 لاکھ روپے ہے، اس میں قربانی کے اخراجات کا حصہ قریباً 5 فیصد بنتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق رواں برس 1 لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی شہری حج ادا کریں گے۔

ان میں سے ایک لاکھ 19 ہزار سے زیادہ افراد سرکاری اسکیم کے تحت قربانی کریں گے، جس پر 6 ارب 43 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد خرچ ہوں گے۔نجی حج اسکیم کے ذریعے جانے والے 60 ہزار عازمین قربانی کی مد میں مجموعی طور پر 3 ارب 24 کروڑ روپے، یعنی تقریباً 4 کروڑ 32 لاکھ سعودی ریال ادا کریں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ قربانی کی فیس جمع کرانے کے بعد عازمین کو سعودی حکومت کے طے شدہ نظام کے تحت کوپن جاری کیے جائیں گے تاکہ یہ عمل منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…