ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

لفظ اضافی ہوتے ہیں

datetime 12  اپریل‬‮  2026
نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے نوجوان لڑکے کی آنکھوں میں جھانکا اور سرگوشی کی ’’محبت گفتگو ہے‘‘ اس کے لہجے میں یقین کی کھنک تھی‘ نوجوان لڑکے کی آنکھوں کی پتلیوں اور پپوٹوں کے درمیان سرخ ڈورے تھے اور جب سے لڑکی نے لڑکے کی آنکھوں میں جھانکنا شروع کیا تھا یہ ڈورے آہستہ آہستہ پھیلتے چلے گئے۔قدرت نے انسان کے آئی کانٹیکٹ میں عجیب جادو رکھ دیا ہے کہ جب بھی کوئی شخص پیار سے‘ محبت سے یا عقیدت سے دوسرے کی آنکھ میں جھانکتا ہے تو آنکھوں کی روشنی میں‘ جذبوں کے سرخ ڈوروں میں اور دل کی بے لگام‘ بے ربط دھڑکنوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انسان قدرت کا سب سے بڑا اداکار ہے‘ یہ جھوٹ بولنے یا چھپانے پر آ جائے تو یہ اپنے آپ سے بھی چھپ جاتا ہے ‘ یہ خود سے جھوٹ بول لیتا ہے‘ یہ اتنا بڑا اداکار ہے یہ دل کی بات بھی اپنے دماغ تک نہیں پہنچنے دیتا اور یہ اپنا منصوبہ اپنے دل پر بھی آشکار نہیں ہونے دیتا لیکن یہ اپنی آنکھوں سے نہیں چھپ پاتا‘انسان کی آنکھیں واحد عضو ہیں جو چھپا نہیں سکتیں‘ جو جھوٹ نہیں بول پاتیں‘ انسان کیا سوچ رہا ہے؟ یہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس کی آنکھ میں آ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے دنیا کے تمام جانور انسان کو اس کی آنکھ سے سمجھتے ہیں۔ انسان کے سامنے شیر کھڑا ہو یا چڑیا تمام جانور اور پرندے انسان کی آنکھ میںجھانکتے ہیں اورفوراً اس کی ذات کے سات پردوں میں چھپی حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں۔ انسان جس قدر شیطان‘ بدفطرت اور مکار ہوتا جاتا ہے جانور اور پرندے اس سے اسی قدر دور ہٹتے جاتے ہیںجب کہ پرندے‘ جانور اور درندے بغیر ڈرے‘ بغیر جھجکے نیک لوگوں کی پلیٹ سے بوٹی تک اٹھا لیتے ہیں‘ یہ ان کے کندھوں پر بیٹھ کر دانا چگتے ہیں اور انہیں ذرا بھر جھجک اور خوف محسوس نہیں ہوتا کیوں؟ کیوںکہ یہ برے انسان اور اچھے انسان کو اس کی آنکھوں سے پڑھ لیتے ہیںچناںچہ اچھے انسان نے ہاتھ میں تلوار بھی اٹھا رکھی ہو تو جانور اور پرندے اس سے خوف زدہ نہیں ہوتے جب کہ برے انسان کے چہرے پر سمندر جتنی وسیع مسکراہٹ ہو تو بھی پرندے اور جانور اس سے محفوظ فاصلے پر رہتے ہیں۔ انسان کی آنکھ میں اتنی جامع کمیونی کیشن پاور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگرانسان کو زبان نہ بھی دی
ہوتی تو بھی یہ صرف آنکھ کے ذریعے اپنے تمام جذبے‘ اپنے سارے احساسات اور اپنی ساری ضرورتیں دوسروں تک ’’کمیونی کیٹ‘‘ کر دیتا۔ انسان دنیا کی ہر چیز سے چھپ سکتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں الف ننگا ہوتا ہے۔ میں واپس نیویارک کے اطالوی ریستوران کی طرف آتا ہوں۔ لڑکی‘ لڑکی تھی چناںچہ وہ دنیا کی تمام لڑکیوں کی طرح گفتگو کو محبت سمجھ رہی تھی۔ اس کا خیال تھا محبت اظہار کا نام ہے محبت لفظوں‘ فقروں اور گھنٹوں لمبی گفتگو کا نام ہے کیونکہ لڑکی درست سوچ رہی تھی دنیا کی ہر عورت گفتگو کو محبت سمجھتی ہے‘ عورت سمجھتی ہے جب تک مرد کی محبت قائم رہتی ہے اس وقت تک اس کی زبان حرکت میں رہتی ہے‘ وہ لفظوں اور فقروں کے ذریعے اپنی محبت‘ اپنی چاہت کا اظہار کرتا ہے اور جس دن مرد کی زبان کو بریک لگ جاتی ہے اس دن محبت کا رنگ اڑ جاتا ہے‘ اس دن قربت کافی کے خالی ڈبے‘ سگریٹ کی خالی ڈبی اور خوشبو کی خالی بوتل بن جاتی ہے۔اس دن انسان‘ لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں لیکن جس طرح خوشبو کے بغیر بوتل‘ سگریٹ کے بغیر ڈبی اور کافی کے بغیر ڈبا کچھ نہیں ہوتابالکل اسی طرح قربت بھی محبت کے بغیر خالی خالی‘ بے رنگ بے رنگ سی ہو جاتی ہے۔ دنیا کی تمام عورتوں کا خیال ہے جس دن مرد ان کی موجودگی میں بور ہونے لگے‘ یہ گفتگو کی بجائے کتابوں‘ ٹیلی ویژن سکرین اور کھڑکی کے شیشے پر جمے موسموں میں دل چسپی لینے لگے اس دن اس کی محبت کی کافی کا ڈبا خالی ہوجاتاہے اور جس دن عورت ماں کی طرح بے ہیو کرنے لگے‘ اسے مرد کی جگہ چھتری‘ ٹفن‘ لحاف‘ آٹے کے کنستر اور تار پر لٹکے کپڑوں کی زیادہ فکر ہونے لگے اور وہ شام کی چائے کے دوران کریلوں کا نرخ ڈسکس کرنے لگے یا اسے سیمنٹ کی مہنگائی کی ٹینشن ہونے لگے اس دن عورت کی محبت کی بوتل بھی خالی ہوجاتی ہے۔ یہ نوجوان لڑکی بھی گفتگو کو محبت سمجھتی تھی چناںچہ یہ پچھلے دو گھنٹوں سے مسلسل باتیں کر رہی تھی اور نوجوان لڑکا اس کی باتوں کی رو میں لڑھکتا‘ بہتا چلا جا رہا تھا۔ گرم باتوں اور ابلتے فقروں کے دوران کھانا کب ٹھنڈا ہوا اور ٹھنڈے سافٹ ڈرنک کب گرم ہوئے دونوں کو کچھ خبرنہیں تھی جب کہ ان سے میز بھر کے فاصلے پر ایک ادھیڑ عمر جوڑا بیٹھا تھا‘یہ دونوں حضرت نوح ؑ کے دور کے انسان لگتے تھے‘ بوڑھی اماں کی گردن سے جھریوں کی جھالریں لٹک رہی تھیں اور کانوں کی لوئوں پر مردوں کی مونچھوں کے برابر بال تھے اور اس کی گردن طوفان میں پھنسی چڑیا کی طرح جھرجھری لے رہی تھی جب کہ بابا جی اس قدر بوڑھے تھے کہ گمان ہوتا تھا بابا جی کی عمر کے دریا تک سوکھ چکے ہوں گے اور ان کے بچپن کے سمندرکی جگہ شہر آباد ہوں گے۔ لڑکی نے جب پہلی بار بابا جی کے چہرے کو دیکھا تو اس نے نوجوان کا ہاتھ دبا کر سرگوشی کی ’’یہ بابا اتنا بوڑھا ہے کہ خود اپنا باپ لگتا ہے‘‘ نوجوان نے یہ سن کر اتنا زور دار قہقہہ لگایا کہ اس کے حلق میں موجود لائم سوڈا اس کے نتھنوں سے باہر ابل گیا۔ یہ ادھیڑ عمر جوڑا نوجوان جوڑے کے بالکل برعکس تھا‘ یہ بھی دو گھنٹے سے ریستوران میں بیٹھے تھے لیکن ان کی میز کی پلیٹوں‘ چمچوں اور کانٹوں تک نے ان کی آواز نہیں سنی تھی‘ یہ دونوں خاموشی سے آئے‘ میز پر بیٹھے‘ اشارے سے مینیو کارڈ مانگا‘ آرڈر دیا‘ ان کا کھانا آیا اور یہ دونوں چپ چاپ کھانے لگے‘ دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھ میں جھانکنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ لڑکی کو یہ جوڑا اجنبی لگ رہا تھا چناںچہ اس نے لڑکے کے کان میں سرگوشی کی‘ ان دونوں کی محبت مر چکی ہے‘ یہ محض دو انسان ہیں‘ بس کی ایک سیٹ پر بیٹھے ہوئے دو مختلف مسافر۔ ان کی کافی کا ڈبا‘ ان کی سگریٹ کی ڈبی اور ان کی خوشبو کی بوتل خالی ہو چکی ہے۔ لڑکی کا کہنا تھا وہ موت کو ایسی زندگی پر فوقیت دے گی ‘ وہ جس دن ایک میز پر بیٹھیں گے اور ان کی گفتگو میں خاموشی کے وقفے طویل ہو جائیں گے اس دن وہ خود کشی کر لے گی۔ لڑکا اس کی قطعی سٹیٹمنٹ سے خوفزدہ ہو گیا‘ اس نے لڑکی سے پوچھا ’’تمہاری نظر میں محبت کیا ہے‘‘ اور لڑکی نے سرگوشی میں جواب دیا ’’محبت گفتگو ہے‘‘۔ نیویارک کے اس اطالوی ریستوران کا کھانا ختم ہو گیا‘ لڑکی نے حسرت سے بوڑھے جوڑے کی طرف دیکھا اور دونوں اپنی اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے‘ بوڑھے جوڑے کی میز دروازے کے راستے میں تھی‘ یہ دونوں زیر لب ’’جچ جچ‘‘ کرتے ہوئے بوڑھے جوڑے کی میز کے قریب پہنچے‘ لڑکی نے رحم سے بھری آخری نظر بوڑھے پر ڈالی اوراس کے قدم زمین پر جم سے گئے ۔ اس نے دیکھا باباجی اور اماں جی نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور دونوں ایک ایک ہاتھ سے کھانا کھا رہے تھے‘ لڑکی بوڑھے جوڑے کی میز پر آ کر رک گئی‘ اماں جی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا‘ اس کی جھریوں میں اس طرح حرکت ہوئی جس طرح رات کے اندھیرے میں خرگوش اپنی جگہ بدلتا ہے اور اس کے جسم کی رگڑ سے جھاڑیاں کروٹ لیتی ہیں یا پھر رات کا کوئی پرندہ صبح کے خوف سے درخت سے اپنا رشتہ توڑتا ہے اور درخت کی شاخیں اس کے فراق میں دیر تک کپکپاتی رہتی ہیں۔ اماں جی کی جھریوں میں بھی سرسراہٹ ہوئی اور ممتا کی دعا جیسی چھوٹی سی‘ موہوم سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آ گئی‘ اس نے پوپلے منہ سے لڑکی کو ’’سدا سہاگن‘‘ کی دعا دی‘ دعا کی تائید میں بابا جی نے بھی سر ہلایا اور دونوں کو گڈ نائیٹ کہہ دیا۔ لڑکی بھاری قدموں سے ریستوران سے باہر نکل گئی‘ باہر سڑک پر شور بھی تھا اور روشنیوں کا سیلاب بھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے لڑکے کا ہاتھ تھاما اور چیختی ہوئی آواز میں بولی ’’جیمز‘میرا فلسفہ غلط تھا‘ محبت گفتگو ہے لیکن محبت کی انتہا خاموشی‘‘۔ جیمز نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ لڑکی بولی ’’اماں جی اور بابا جی نے دو گھنٹے سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رکھا تھا‘ دونوں ایک ایک ہاتھ سے کھانا کھا رہے تھے‘ کیا یہ محبت کی انتہا نہیں؟ جیمز مجھے محسوس ہوتا ہے انسان کی محبت میں ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب خاموشی گفتگو سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ قیمتی ہو جاتی ہے‘ جب انسان ایک دوسرے کی چپ کو انجوائے کرنے لگتا ہے‘ جب وہ محبت کے اظہار کیلئے لفظوں اور فقروں کی محتاجی سے آزاد ہو جاتا ہے‘‘۔ جیمز نے ہاں میں گردن ہلائی اور نرم آواز میں بولا ’’ہاں یہی وجہ ہے انسان جب تک اللہ کے دربار میں لفظوں اور فقروں کے کشکول لے کر جاتا رہتا ہے اس وقت تک اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں لیکن جس دن اس کی دعائیں‘ اس کی التجائیں گونگی ہو جاتی ہیں‘ وہ حسرت سے آسمان کی طرف دیکھتا ہے اور زمین کی طرف سر جھکا دیتا ہے اس دن اللہ تعالیٰ اس کی ساری التجائیںسن لیتا ہے‘‘۔ جیمز رکا اور اس نے کہا ’’شائد یہی وجہ ہے دنیا کی تمام مقدس عبادت گاہوں میں خاموشی ہوتی ہے کیوںکہ محبت‘ عقیدت اور عبادت کی دنیا میں لفظ اضافی ہوتے ہیں‘‘۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…