بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ

datetime 25  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) غیر قانونی ذرائع سے لیبیا پہنچنے والے 177 پاکستانی شہریوں کو واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق وطن واپسی کے بعد تمام افراد کو مزید تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل منتقل کر دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد یورپ جانے کی کوشش میں غیر قانونی راستوں کے ذریعے لیبیا پہنچے تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق زیادہ تر ڈی پورٹ ہونے والوں کا تعلق لاہور، گجرات، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے بتایا جا رہا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق انسانی اسمگلنگ میں ملوث ان ایجنٹس کے نام ریڈ بُک میں شامل کر لیے گئے ہیں جنہوں نے ان شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے کے انتظامات کیے تھے۔ادھر ایک اور کارروائی میں جعلی دستاویزات اور غیر قانونی امیگریشن کے شبے میں آذربائیجان جانے والے ایک مسافر کو ایئرپورٹ پر آف لوڈ کر دیا گیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کے موبائل فون سے یونان اور بحرین کے ویزوں اور امیگریشن اسٹیمپس کی مشتبہ تصاویر برآمد ہوئیں۔حکام کا کہنا ہے کہ مسافر زبیر کے سامان سے ایتھنز سے کراچی کے جعلی معلوم ہونے والے بورڈنگ پاس بھی ملے۔

دورانِ تفتیش اس نے اعتراف کیا کہ اس کا اصل مقصد آذربائیجان کے راستے غیر قانونی طور پر یونان پہنچنا تھا۔ایف آئی اے کے مطابق اس سفر کے انتظامات اس کا بھائی حارث زئی کر رہا تھا، جو اس وقت یونان میں مقیم ہے۔ ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…